ٹی ایم اے نے صوبائی حکومت کے احکامات جوتے کی نوک پر رکھ دیئے

ٹی ایم اے نے صوبائی حکومت کے احکامات جوتے کی نوک پر رکھ دیئے

  

       کوھاٹ (بیورو رپورٹ) ٹی ایم اے افسران نے صوبائی حکومت کے احکامات جوتے کی نوک پر رکھ دیئے واضح احکامات ہونے کے باوجود تاحال فکسڈ ملازمین کو نہ تو مستقل کیا جا سکا اور نہ نوکریوں سے فارغ کیا گیا غیر ضروری فکسڈ ملازمین ادارے پر بوجھ بن گئے تفصیلات کے مطابق صوبائی حکومت اور اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود ٹی ایم اے کوھاٹ کے افسران نے 60 کے قریب فکسڈ ملازمین جن میں نائب قاصد‘ مالی‘ چوکیدار سمیت درجنوں لیڈی ٹیچرز شامل ہیں ان کو نوکریوں سے فارغ نہ کیا ان میں بڑی تعداد میں وہ ملازمین شامل ہیں جن کو سیمنٹ فیکٹری اور دوسرے ریکوری کے منصوبوں کے لیے عارضی طور پر ٹیکس وصولی کے لیے بھرتی کیا گیا تھا مگر سالوں گزرنے کے بعد بھی ان ملازمین کو فارغ نہ کیا جا سکا اور نہ ہی خالی پوسٹوں پر ان کو مستقل کیا جا سکا جس سے ادارے کو ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہوں کی ادائیگی میں خسارے کا سامنا ہے دوسری جانب اس وقت ٹی ایم اے کوھاٹ سے زنانہ دستکاری ٹیچرز کی ایک بڑی تعداد جو فکسڈ ملازمین ہیں تنخواہیں تو وصول کر رہی ہیں مگر ان دستکاری ٹیچرز کی پراگرس کیا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی ان سینٹروں سے سالانہ ڈپلومہ لینے والی بچیوں کی تعداد کا کوئی ریکارڈ ہے ان میں سے بڑی تعداد میں سینٹرز گھروں میں بنائے گئے ہیں جو کہ مبینہ طور پر بوگس ہیں مگر ان سینٹروں کی ٹیچرز کو باقاعدگی سے تنخواہیں دی جا رہی ہیں جو کہ اپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے عوامی حلقوں نے محکمہ اینٹی کرپشن جس کی اپنی کارکردگی مایوس کن ہے کے افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹی ایم اے کوھاٹ میں بھرتی فکسڈ ملازمین اور خصوصاً دستکاری سینٹروں کی انکوائری کر کے ادارے پر بوجھ اہلکاروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں سے ریکوری کو یقینی بنائے اور ٹی ایم اے افسران سے پوچھا جائے کہ تاحال فکسڈ ملازمین کو فارغ کیوں نہیں کیا گیا یا پھر خالی پوسٹوں پر ان کو مستقل کرنے کے بجائے مزید نئی بھرتیاں کیوں کی گئیں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -