کرم تنگی ڈیم کے نقصانات سے بنوں بچاؤتحریک کا پیران طغل خیل میں پڑاؤ

  کرم تنگی ڈیم کے نقصانات سے بنوں بچاؤتحریک کا پیران طغل خیل میں پڑاؤ

  

بنوں (نمائندہ خصوصی)کرم تنگی ڈیم کے نقصانات سے بنوں بچاؤتحریک کا پیران طغل خیل میں پڑاؤ،عوام اور سابقہ بلدیاتی نمائندوں سمیت موجودہ بلدیاتی امیدواروں اور سیاسی جماعتوں نے کرم تنگی ڈیم پر عوام کے خدشات دور نہ کرنے پر احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا پیران طغل خیل میں قومی مشران کے احتجاجی گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کرم تنگی ڈیم کے نقصانات سے بنوں بچاؤتحریک کے بانی اور سابق ٹیکنیکل ڈائیریکٹر ایری گیشن پیر سید قیصر عباس شاہ اور قومی وطن پارٹی کے صوبائی رہنما فرمان اللہ میرا خیل نے کہا کہ موجودہ نقشے کے مطابق کرم تنگی ڈیم بنوں کی ترقی کا نہیں بلکہ بنوں کی تباہی کا منصوبہ اور علاقے کی ترقی کا معاشی قاتل ہے اگر بنوں کے عوام کے تحفظات دور نہ کئے گئے تو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کریں گے کیونکہ ہمیں پانی کی بنیاد پر انگریز کی طرح تقسیم کیا جارہا ہے سیف اللہ برادران بھی خدا کیلئے ہٹ دھرمی چھوڑ دیں اور بنوں کے عوام کے پانی پر سیاست نہ کریں ہم بھی پاکستان کے باشندے ہیں افغانستان سے نہیں آئے ہیں کہ ترقی کے تمام منصوں میں ہمیں نظر انداز کیا جاتا ہے بنوں کی زمین زرخیز نہیں بلکہ دریا کرم کا پانی زرخیز ہے اور کرم تنگی ڈیم کرم کے پانی کو تقسیم کرکے بنایا جارہا ہے جس سے بنوں کی زرخیزی ختم ہونے کے ساتھ ساتھ بھٹہ خشت،کرش سٹون انڈسٹریز کا کاروبار بری طرح متاثر ہوگا،زرعی زمینیں بنجر ہوجائیں گی اور بیروزگاری کا سیلاب آئیگا لہذا ہم ڈیم کے خلاف نہیں لیکن ہمارے پانی کو دیگر علاقوں کی ترقی کیلئے استعمال کرنے اور ہماری معیشت کو نقصان پہنچانے کے بدلے بنوں کومراعات اور روزگار دیا جائے یہاں انڈسٹریز قائم کئے جائیں رعایتی بجلی دی جائے ورنہ ہم کرم تنگی ڈیم کو بھی کالاباغ ڈیم بنائیں گے اور اپنے آنے والی نسلوں کیلئے تباہی کے منصوبے پر خاموش نہیں رہیں گے جرگہ سے سابق صدر پاکستان غلام اسحاق خان مرحوم کے پوتے ملک مقسوم خان،پیر محود علی شاہ،مولانا قدرت اللہ،سابق ناظم بالی داد خان،خالد نواز خان،ملک حیات منڈان،ملک نذیر خان مش خیل،ملک جہانزیب خان،سید فرحت علی شاہ،شہزادہ پرستان اور وسیم خان نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ حکومت نے بنوں کے عوام کے خدشات دور نہ کئے تو اپنے حق کیلئے ہم کرم تنگی ڈیم کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -