موروثی سیاست پر یقین نہیں رکھتے،شیر اعظم وزیر 

  موروثی سیاست پر یقین نہیں رکھتے،شیر اعظم وزیر 

  

بنوں (نمائندہ خصوصی)سابق صوبائی وزیر اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حاجی شیراعظم خان وزیر نے پارٹی ورکروں،علاقائی مشران ا ور سوشل میڈیا ورکروں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم موروثی سیاست پر یقین نہیں رکھتے نہ تو ہم نے پہلے اپنے بیٹے یا خاندان کے کسی فرد کو بلدیاتی الیکشن کیلئے امیدوار نامزد کیا ہے نہ اب کیا ہے اور نہ ہی آئندہ کریں گے ہم نے پہلے ہی نیکدار علی خان کو تحصیل ڈومیل کی میئر شپ کیلئے میرٹ پر منتخب کیا تھا لیکن قوم کا اجلاس بلانے میں تاخیر کی وجہ سے سیاسی مخالفین نے قوم میں نفاق پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی اور ہم ان سازشی عناصر کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ جس طرح پہلے پیپلز پارٹی نے پی کے87میں جیت کی ہیٹ ٹرک کی ہے اسی طرح آئندہ بھی شکست ان لوگوں کا مقدر بنے گی،انہوں نے تحصیل ڈومیل کے عوام سے اپیل کی کہ وہ نیکدار علی خان کو کامیاب بنائیں اور عوام کا جو بھی مسئلہ ہو نیکدار علی حل کریں گے اور جو مسئلہ نیکدار علی کے بس میں نہ ہو اسے ہم حل کریں گے،انہوں نے کہا کہ مخالفین قوم کے متفقہ امیدوار کو شکست دینے کی سوچ ترک کردیں انشاء اللہ پی کے87اور با الخصوص تحصیل ڈومیل میں کوئی مائی کا لعل پاکستان پیپلز پارٹی کا مقابلہ نہیں کرسکتا،انہوں نے کہا کہ جلد ہی ملک میں عام انتخابات کیلئے میدان 2023سے پہلے سجنے والا ہے اور اقتدار پیپلز پارٹی کا منتظر ہے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم پی اے فخراعظم وزیر، پیپلز پارٹی کے صوبائی ڈپٹی کوارڈینیشن سیکرٹری فرزند علی خان،چیف آف بیزن خیل ملک اسحاق خان،مولانا سمیع اللہ،عظمت اللہ،ملک جنان عیدل خیل،سابق تحصیل کونسلر فاروق وزیر،زیب خان،ملک بخمالی خان ودیگر مقررین نے کہا کہ شیر اعظم وزیر شیر ہے تو ان کا بیٹا فخراعظم وزیر شیر کا بیٹا ہے شیراعظم وزیر کی خدمات اور ریکارڈ ترقیاتی کاموں کی وجہ سے شیراعظم وزیر جس بھی کارکن کو ٹکٹ دیں گے قوم نے نہ صرف اسے قبل کریگی بلکہ بھاری اکثریت سے کامیاب بھی کرائیگی ہم سیاسی مخالفین سے کہتے ہیں کہ وہ واپس قوم کے ساتھ شامل ہوکر پی کے87کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے شیراعظم وزیر اور فخراعظم وزیر کا ساتھ دیں اور بلدیاتی الیکشن سے پیپلز پارٹی کے امیدوار کے حق میں دستبردار ہوجائیں ورنہ قوم انہیں ایسی شکست دیگی کہ وہ سیاست کا نام لینا بھی بھول جائیں گے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -