کوئی مقدس گائے نہیں جو کر ے گا وہ بھرے گا ریاست مدینہ کے قیام کیلئے خود احتسابی لازمی، لوٹی دولت پاکستان واپس لانا مشکل: چیئر مین نیب

کوئی مقدس گائے نہیں جو کر ے گا وہ بھرے گا ریاست مدینہ کے قیام کیلئے خود ...

  

        لاہور (نامہ نگار،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے ریاست مدینہ کے قیام کے خواب کی تعبیر خود احتسابی کو اپنانے سے ہی ہو گی، ملک بھر میں قبضہ مافیا موجودہے،جن لوگوں سے منی لانڈرنگ کا حساب مانگا انہوں نے نیب کے ادارے کو متنازعہ بنانے کیلئے پرا پیگنڈا شروع کر دیا،چائے کی پیالی میں طوفان لانے والوں کو پتہ نہیں نیب نے ایک ایک پائی کا حساب رکھا ہواہے، ریکور کی گئی رقم ہمارے پاس امانت ہے اس میں خیانت کا سوچ بھی نہیں سکتے،ملک سے کرپشن کے خاتمے کیلئے گزشتہ چار سا ل انتھک محنت کی، اس وقت احتساب عدالتوں میں تیرہ سو چھیاسی ارب روپے کے 1270ریفرنسز  زیر سماعت ہیں،ریفرنسز کا فیصلہ نیب نہیں عدالت کا اختیار ہے اگر فیصلے کا اختیا ر نیب کے پاس ہوتا تو نیب ریفرنسز اتنے سال نہ چلتے۔ اگر کسی کے پاس نیب افسران کیخلاف رشوت کاثبوت ہے تو سامنے لائے فوری کارروائی کروں گا،کچھ لوگ اپنی سیاست کو  نیب کیسز کے سہارے زندہ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں ان کی صبح نیب سے شروع اور نیب پرہی ختم ہوتی ہے۔ یہاں کوئی مقدس گائے نہیں، جو کرے گا وہ بھر ے گا،پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کو واپس دلوانا مشکل کام ہے، تنقید کرنیوالے بتائیں کتنے کیسز عدالتوں میں جمع کرائے؟ آپ نیب کو جتنی بھی گالیاں دیں، اس سے آپ کا کیس ختم نہیں ہو گا، کیس ختم ہو گا تو میرٹ پر ختم ہو گا۔ اگر ہر کوئی اپنے حصے کا دیا جلائیگا تو پورا پاکستان روشن رہیگا، کوئی بھی شخص یا ادارہ کرپشن کے ناسور کو اکیلا ختم نہیں کر سکتا۔ تاجروں کے حوالے سے انہوں نے کہا تاجر اور رہزن میں فرق ہوتا ہے لہٰذا تاجر برادری سے ہم نے ان کالی بھیڑوں کو نکالا جنہوں نے رہزنوں کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا، آج تک جتنے ریفرنسز بنے وہ ہواؤں میں نہیں بنائے گئے، لیکن ریفرنسز کی جانچ دوبارہ کی جارہی ہے، نیب کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔جمعرات کو چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب لاہور میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا بعض ہاؤسنگ سوسائٹیز عوام کو دھوکہ دیتی ہیں ڈوبی ہوئی رقم دوبارہ برآمد کروانا اور مستحق کو ان کا حق دلوانا بہت مشکل ہے۔ ہمیں دھوکہ نہیں کھانا چاہئے لیکن کچھ ایسے دھوکے ہوتے ہیں جو انسان کھا ہی لیتا ہے۔ یہ دھوکہ بھی ایسا تھا لوگوں کو منافع کی شر ح زیادہ بتائی گئی جس کی وجہ سے انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔ ڈی جی صاحب کو کہوں گا دوبارہ ایسا کوئی انقلابی قدم نہ اٹھائیں اور پیسے سوچ سمجھ کر لگائیں یہ ضرور دیکھ لیا جائے جو سوسائٹی زمین فراہم کررہی ہے اس کے اوپر کوئی کیس تو نہیں، اس کے پاس این او سی ہے یا نہیں۔ میرا مقصد کسی ادارے کی تضحیک نہیں لیکن سسٹم میں خرابیاں ہیں،اسلئے ہم کسی ایک فرد پر الزام نہیں لگا سکتے۔ سسٹم کی تبدیلی انقلابی نہیں ہوتی یہ رفتہ رفتہ عمل میں آتی  ہے، ہم بہتری کی طرف گامزن ہیں، گزشتہ چار سالوں میں پوری کوشش کی کرپشن کو ختم کیا جائے، کرپشن نے اس ملک کو تباہ کردیا ہے۔ عوام کو جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ہمیں ریکوری کرنسی کی شکل میں نہیں ملتی جو ہم آپ کو دکھا دیں، تقریب کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اب جو رقم آپ میں تقسیم کی جائیگی یہ حکومتی خزانے میں نہیں جانی بلکہ آپ کو ملنی ہے۔ ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ریکوری کا تمام حساب موجود ہے اس کا آڈٹ بھی ہورہا ہے اور اس میں کوئی ابہام سامنے نہیں آئیگا۔ چائے کی پیالی میں طوفان لانے سے پہلے میڈیا مجھ سے پوچھ لیتا اخبار میں چھپنے والی خبروں میں کیا حقیقت ہے۔ نیب پر تنقید ہونی چاہئے لیکن تنقید کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، آپ کو معاملے کا پورا علم ہونا چاہئے،پوچھا جاتا ہے کہ چار سو پچاس ارب روپے ریکور کئے گئے کہاں گئے چار سو پچاس ارب روپے عدالت عظمی کے پاس ہیں۔ ہم اس وقت تیس ہزار لوگوں کو حق فراہم کرچکے ہیں۔ نیب کے پاس تمام ریکارڈ موجود  ہے جو شخص چیک کرنا چا ہتا ہے آکر چیک کرلے۔ ہمارے ملک میں نیب کے حوالے سے نان ایشوز کو بھی مسئلہ بنایا جاتا ہے تاکہ ادارے کو متنازعہ بنایا جاسکے کیونکہ ہم نے ان لوگوں سے ان کے اربوں رو پے کی منی لانڈرنگ کا حساب مانگا۔ ان لوگوں نے خواب میں بھی ایسا نہیں سوچا ہوگا کہ ان سے اس طرح حساب لیا جائے گا۔ نیب کی جنگ جاری رہے گی،مجھے جتنا مرضی برا کہیں نیب اپنا کام جاری رکھے گا۔ اگر ہم نے کسی سے پوچھا کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا تو گناہ نہیں کیا یہ سب قانون کے مطابق کیا۔ نیب کیخلاف شرمناک پراپیگنڈہ قابل مذمت، الزامات لگانے والے ثبوت لائیں بتایا جائے آپ نے نیب میں کتنی شکایات درج کرائیں جس پر نیب نے ایکشن نہیں لیا۔ نیب غیر جانبدار ادارہ ہے نیب کی ہمدردی پاکستان کیساتھ ہے حکومت آتی اور چلی جاتی ہے۔ نیب کو پروگورنمنٹ کہنا غلط ہے۔ نیب مسئلہ نہیں مسائل کا حل ہے۔ جتنے مسائل نیب نے حل کئے ہیں کسی اور ادارے نے نہیں۔ اگر کسی کو نیب کیسز پر اعتراض ہے توعدالتوں میں جائیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا۔ 

چیئرمین نیب

مزید :

صفحہ اول -