ملک میں اشیائے ضروریہ وافر، منافع خور، ذخیرہ اندوز عوام کے دشمن ہیں: عمران خان 

  ملک میں اشیائے ضروریہ وافر، منافع خور، ذخیرہ اندوز عوام کے دشمن ہیں: عمران ...

  

         اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی کمی نہیں، منافع خور اور ذخیرہ اندوز عوام کے دشمن ہیں، ان کیخلاف کارروائی کی جائے، انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کوگندم اور کھاد کے ذخیرے کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، وزیراعظم نے کہا ملک میں اشیائے ضروریہ کی کوئی قلت نہیں، 6.6ملین میٹرک ٹن گندم کاسٹاک دستیاب ہے،حکومت نے تاریخ میں پہلی بارکسان دوست پالیسیاں دیں، کھادکے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کر تے ہوئے انہوں نے کہا مافیا منافع خوری میں مصروف ہے ان کیخلاف ٹریک اینڈٹریس سسٹم کوکھادکی صنعت کیلئے بھی استعمال کیا جائے، عوام دشمنوں کیخلاف سندھ حکومت کواقدامات اٹھانے چاہئیں اگر سندھ حکومت اقدامات نہیں اٹھاتی تووفاق مداخلت کر سکتا ہے۔بعدازاں اپنی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ،تعمیرات و ترقی کا اجلاس  سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا قبضہ مافیا سے جنگلات کی اراضی واگزار کرانا حکو مت کی اولین ترجیح ہے، تجاوزات والی زمینوں پرپودے لگا کر جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ پاکستان کے سرسبز علاقہ میں اضافہ ہو سکے۔ قبل ازیں وزیراعظم کو بتایا گیا سرویئر جنرل آف پاکستان سی ڈی اے، حکومت پنجاب اور متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی)کیساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ سرکاری املاک، اسلام آباد، لاہور اور متروکہ وقف املاک بورڈ (ای ٹی پی بی)کے کیڈسٹرل ریکارڈ کو مکمل کیا جا سکے۔وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ تجاوزات والی زمینوں پر جنگلات کی کٹائی کی روک تھام یقینی بنا کر ملک کے جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کے لئے فوری اقدامات کریں۔ زمینوں کے غیر مجاز استعمال کی روک تھام اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے پھیلاؤ کو محدو د کرنا، خوراک کی حفاظت اور پانی اور سیوریج جیسی بہتر شہری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کیڈسٹرل سروے کے نتائج کا صوبوں کے ساتھ تبادلہ کیا جائے جس کے بعد عوامی املاک کی بازیابی کے لئے فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے صوبوں اور سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں کہ ماضی میں کتنی تجاوزات ہوئیں اور کتنی خالی کرائی گئیں۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے پی ایم ہاؤس میں سوتی دھرتی ترسیلات زر پروگرام (ایس آر ڈی پی) کا افتتاح کیا، یہ اقدام بینک دولت پاکستان، وزارت خزانہ اور مالی اداروں کی ایک مشترکہ کاوش ہے۔ ایس ڈی آر پی ایک جدت پسند پروگرام ہے جس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کو بینکو ں اور ایکس چینج کمپنیوں کے ذریعے پاکستان رقوم بھجوانے میں سہولت دینا ہے جس سے وہ انعامی پوائنٹس حاصل کر سکیں گے۔ ان انعامی پوائنٹس کو شراکت دار اداروں کی جانب سے دیے جانیوالے مختلف فوائد سے استفادے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ ایس ڈی آر پی تک رسائی دنیا بھر میں کہیں بھی باسہولت انداز میں ایک موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے ہو سکتی ہے۔اپنے خطاب میں مہمان خصوصی وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ مالی سال21ء میں 29ارب ڈالر سے زائد ریکارڈ بلند ترسیلات زر بھجوا کر اپنے ملک کے روشن مستقبل پر اعتماد کا اظہار کرنے پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا، یہ رجحان ابھی تک جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا ان کی حکومت نے مختلف اقدامات اور پروگراموں کے ذریعے اوورسیز پاکستانیوں کی کوششوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے اور انہیں سراہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ترسیلات زر کی منتقلی کو بلامعاوضہ کرنے، موبائل ای والٹس کے ذریعے موصو ل ہونیوالی ترسیلات پر مفت ایئرٹائم کی فراہمی اور ترسیلات زر کے فراہم کنندگان کی مارکیٹنگ کی لاگت کا احاطہ کرنے جیسے اقداما ت کا ذکر کیا۔ ایس ڈی آر پی کا افتتاح بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کی خدمات کا اعتراف ہے، جو اپنی سخت محنت سے کمائی ہوئی آمدنی پاکستان بھیج کر ملکی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ترسیلات زر کو سرکاری چینلز سے بھجوانے کیلئے ایک ڈجیٹل ایپلی کیشن کے ذریعے ترغیبات فراہم کرنے کے تصور کو بھی سراہا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا آئی ایم ایف سے چھٹکارے کیلئے بر آمدات بڑھانا ہونگی، سمندر پار پاکستانیوں کو مذید مراعات دیں گے،پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی برآمدات پر توجہ نہیں دی، 60کی دہائی میں پاکستان کی برآمدات ہانگ کانگ کے برابر تھیں، آج پاکستان کی برآمدات کہاں ہیں اور ہانگ کانگ کی برآمدات غالبا 300ارب ڈالر سے زیادہ ہیں، رواں برس ہماری برآمدات بلند ترین سطح پر ہوں گی لیکن اس کے باوجود آج سے 50، 60سال پہلے جو دیگر معیشتیں ہمارے ساتھ چل رہی تھیں وہ کہاں پہنچی ہیں اور پاکستان کہاں ہے،پاکستان کو برآمدات پر توجہ نہ دینے کا نقصان یہ ہوا کہ جیسے ہماری معیشت بڑھنے لگتی ہے تو درآمدات بڑھتی اور ہمارے کرنٹ اکانٹ پر دباؤ بڑھنے لگتا ہے، یہی وجہ ہے پاکستان 20دفعہ آئی ایم ایف کے پاس جاچکا ہے، آئی ایم ایف کی ہمیں اس لیے ضرورت پڑتی ہے کیونکہ ہمارے پاس ڈالرز کی کمی ہوتی، روپے پر دبا ؤآجاتا ہے اور قومی خزانے میں کمی ہوتی ہے اور ہم اسی سائیکل میں پھنسے ہوئے ہیں، اس سے نکلنے کے لیے راستہ ایک ہی ہے کہ برآمدات بڑھائی جائیں، جس کیلئے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے لیکن ہماری برآمدات اس وقت بڑھیں گے جب ہماری صنعت ترقی کرے گی، ہم نے صنعتوں پر زور لگایا اور کورونا کے باوجود لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں اضافہ ہوا اور مثبت سمت کی جانب گامزن ہے،جب تک ہماری برآمدات نہیں بڑھتیں اور درآمدات میں کمی نہیں ہوتی اس خلا کو صرف ایک ہی طریقے سے حل کرسکتے ہیں وہ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات ہیں، ایک طرف غیرملکی سرمایہ کاری بھی ہے لیکن اب ہماری حکومت کو مشکل میں مدد دی وہ ترسیلات زر ہیں، سمندر پار پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں،سوہنی دھرتی منصوبے کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے نیا پروگرام سوہنی دھرتی کے تحت فائدہ پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے سمندر پار پاکستانی بینکنگ چینل سے پیسے بھیجیں، یہ پروگرام ہمیں یہ بہت پہلے شروع کردینا چاہیے تھا، افسوس ہم تین سال بعد یہ کر رہے ہیں، علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے آن لائن بزنس کمپنی دراز کے گروپ سی ای او مسٹر بجارک میکلسن نے ملاقات کی، اس موقع پر مشیر خزانہ شوکت ترین، چیئرمین ایس ٹی زیڈ اے عامر ہاشمی، سینیٹر عون عباس بپی، ایم ڈی دراز احسان سایا اور دیگر بھی موجود تھے۔  وزیراعظم عمران خان  نے کہا ہے کہ سیاحت کے شعبے کی ترقی سے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے،حکومت "کاروبار میں آسانی" پالیسی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے،گزشتہ سال پورے ملک سے سیاحوں کی ریکارڈ تعداد نے شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخوا کا رخ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا  پاکستان ای کامرس کے لیے بہت وسیع مارکیٹ رکھتا ہے، ای کامرس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی میں مدد ملے گی، حکومت کاروبار میں آسانی پالیسی کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے۔اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان سے گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان، وزیرِ اعلی محمود خان اور چیف سیکٹری شہزاد بنگش نے ملاقات کی، ملاقات میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور سروس ڈلیوری کی بہتری کیلئے حکومت کے اٹھائے گئے اقدامات پر بات کی گئی، 

 وزیراعظم

مزید :

صفحہ اول -