پٹرول، دن بھر ہڑتال، رات گئے ختم، حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن میں مذاکرات کامیاب، مارجن اضافہ کی یقین دہانی، اطلاق آئندہ ماہ سے ہوگا

      پٹرول، دن بھر ہڑتال، رات گئے ختم، حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن ...

  

  اسلام آباد، لاہور(سٹاف رپورٹر،نیوز رپورٹر، لیڈی رپورٹر)ملک بھر میں دن بھر جاری رہنے والی پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جزوی ہڑتال رات گئے پیٹرولیم ڈویژن اور پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے پرختم کر دی گئی، مذا کرات کی کامیابی کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مارجن بڑھانے کی یقین دہانی کے بعد ملک بھر میں ہڑتال ختم کرنے پر اتفاق کیا، حکام کے مطابق پیٹرولیم ڈیلرزکے منافع میں اضافے کا اطلاق یکم دسمبر سے ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت سے مذا کرات کامیاب ہونے کے بعد پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم،پیٹرول پمپس کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ فریقین نے اتفاق کیا کہ مارجن میں زیادہ اضافے سے عوام پر بوجھ پڑے گا، ڈیلرز مارجن میں 25 فیصد اضافہ کیا جائیگا، حکومت ایسوسی ایشن کے مطالبے پر ہر ممکن عملدرآمد کریگی جبکہ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا جون 2022ء میں مارجن کی شرح میں ردوبدل کیا جائے۔چیئرمین پیٹرولیم ڈیلر ایسوسی ایشن سمیع خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا حکومت سے جو مذاکرات ہوئے اس کے بعد ہڑتال کا اعلان کرتے ہیں،ہم تین راتوں سے جاگ رہے ہیں،عوام کو جو تکلیف ہوئی اس کا احساس ہے،ساتھ دینے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں،پہلے مرحلے میں ہمیں ایک روپے دیا تھا جو ہمیں ملا ہی نہیں۔ادھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصد یق کرتے ہوئے لکھا پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کردی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن حکام کے مطابق منافع میں 99 پیسے یا 25 فیصد اضافہ کرنے کی سمری بھیجی گئی ہے، حکومت نے پیٹرولیم ڈیلرز کو ہر 6 ماہ بعد منافع کاجائزہ لینے کایقین دلایا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے اعلامیہ کے مطابق پیٹرول پر ڈیلر منافع 99 پیسے اضافے سے4 روپے 90 پیسے فی لیٹرہوجائیگا اور ہائی سپیڈ ڈیزل پرڈیلر منافع 83 پیسے اضافے سے 4 روپے 13 پیسے فی لیٹر ہوجائیگا۔ قبل ازیں حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے درمیان مذاکرات کے دوران طے پانیوالے معاہد ے میں ڈیلر مارجن میں 99 پیسے فی لیٹر اضافے پر اتفاق کیا گیا جبکہ پٹرولیم ڈویژن،ای سی سی اور وفاقی کابینہ سے 99 پیسے اضافے کی منظوری لے گی۔ مزید برآں پاکستان پٹرو لیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے جمعرات کو ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے بعد مختلف شہروں میں پٹرول پمپ بند رہے جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اکثر پمپوں پر پٹرول ناپید ہوگیا،کئی جگہوں پر عوام کی بڑی تعداد پٹرول حا صل کرنے کیلئے طویل قطاروں میں اذیت برداشت کرتی رہی۔لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں پٹرول نہ ملنے کے باعث شہری سراپا احتجاج رہے، جبکہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اعلان کیا تھا جتنے تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے اتنے تک ہڑتال جاری رہے گی۔حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں کیونکہ ہمیں یقین دلایا گیا تھا مارجن میں اضافہ کردیا جائیگا۔جمعرات کے روز پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کے باعث ملک بھر میں متعدد پٹرول پمپس بند رہے، پٹرول نہ ملنے کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جہاں پٹرول دستیاب تھاوہاں لمبی قطاریں رہیں، پمپس بند ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی متاثررہی جبکہ شہری پٹرول کی تلاش میں ایک پمپ سے دوسرے پر چکر لگانے کیلئے مجبور رہے۔ ملک بھر سمیت صوبائی دارالحکومت لاہور میں بھی پٹرول کی قلت برقرار رہی جبکہ شہر کے پوش ایریاز سمیت دیگر مقامات کے پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں،بعض پٹرول پمپس پر پٹرول کی بندش کے باعث شہر کے باسی سارا دن پٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے خوار ہوتے نظر آئے، تاہم شہر کے 42 پٹرول پمپس پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی جاری رہی، ٹوٹل، شیل، پی ایس او، زوم، حسکول، گوپٹر ولیم اور یورو پمپس پر پٹرول فراہم کیا جاتا رہا۔جبکہ کئی مقامات پر شہریوں کی بڑی تعداد پٹرول پمپس کی ہونیوالی ہڑتال کے باعث خوار ہوتی رہی اور پٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تگ و دو کرتی نظر آئی۔ادھر اوگرا نے پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کا نوٹس لیکر مارکیٹنگ کمپنیوں کو بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت کرنے سمیت صورتحا ل پر نظر رکھنے کیلئے ٹیمیں بھی تشکیل دی تھیں۔ ترجمان پیٹرولیم ڈویژن نے کہا تھا ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں، تمام بڑی کمپنیوں کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی سیل جاری رہی۔دوسری جانب ترجمان وزارت توانائی کے مطابق پی ایس او کے اکثر پٹرول پمپس کھلے رہے،جبکہ بند پٹرول پمپس بھی کھولنے کے احکامات جاری کر دئیے تھے۔گو (G O) پٹرولیم کے سی ای او خالد ریاض نے وزیر توانائی حماد اظہر سے ٹیلی فونک گفتگو کی، ترجمان کے مطابق GOپٹرولیم کی اکثریت پٹرول پمپس پر پٹرو لیم مصنوعات کی فراہمی جاری ہے۔سرکاری آئل کمپنی پی ایس او کے ترجمان نے اعلان کیا تھا ملک بھر میں پی ایس او کے 60 سے 70 فیصد پیٹرول پمپ معمول کے مطابق کام کررہے ہیں،پی ایس او کے باقی پٹرو ل پمپس بھی کھولنے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں، شہریوں کو فیول کی بلا تعطل فراہمی جاری ہے۔پی ایس او کو گزشتہ پانچ گھنٹوں میں ڈیلرز کی جانب سے  6,500 میٹرک ٹن پیٹرول اور 6,000 میٹرک ٹن ڈیزل کے آرڈرز موصول ہوچکے ہیں، پی ایس او کا عملہ عوام کی خدمت کیلئے مسلسل سرگرم عمل ہے۔پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اطلا عا ت نعمان علی بٹ کا کہنا تھا سمری ارسال کرنے کا وعدہ تین نومبر کو کیا گیا تھا، جب تک مارجن میں اضافہ نہیں کیا جاتا احتجاج کرتے رہیں گے اور اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ادھر پٹرولیم مصنوعات پر مارجن میں اضافے کے معاملے پر پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پٹرول اورہائی سپیڈ ڈیزل پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں 71 پیسے فی لٹر جبکہ پٹرول پر ڈیلرزمارجن میں 99پیسے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق پٹرول پر او ایم سی مارجن 2رو پے 97پیسے سے بڑھاکر 3روپے68 پیسے او ر ہا ئی سپیڈ ڈیزل پر او ایم سی مارجن 2روپے97پیسے سے بڑھاکر3روپے68پیسے کرنے کی تجویزدی گئی تھی۔پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پٹرول پر ڈیلر مارجن میں 99پیسہ فی لٹراورہائی سپیڈ ڈیزل پر ڈیلر مارجن میں 83پیسے فی لٹر اضافے کی تجویز دی گئی جبکہ پٹرول پر ڈیلر مارجن 3روپے91پیسے سے بڑھاکر 4روپے90پیسے اورہائی سپیڈ ڈیزل پر ڈیلر مارجن 3روپے30پیسے سے بڑھاکر 4روپے 13پیسے فی لٹر کرنے کی تجویزدی گئی تھی۔علاوہ ازیں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مارجن میں تقریباً پونے 9روپے اضافے کا مطا لبہ کیا جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن میں اضافے کی سمری ای سی سی کو ارسال کردی گئی تھی۔دوسری جانب پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور وزارت توانائی و پٹرولیم کے درمیان مذاکرات ہوئے،پٹرولیم ڈویژن کی مارجن میں اضافے کی سمری کو کامیاب کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی جبکہ ماضی میں ڈیلرز کا مارجن 20 پیسے کے حساب سے بڑھتے رہا۔ وزا ر ت پٹرولیم کے ترجمان کا کہنا تھا 99 پیسے بڑھانے کی درخواست کی گئی اوراس اضافے سے ڈیلرز کو ہونے والا ماضی کا نقصان بھی پورا ہوجائیگا۔قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پٹرول پمپس کی ہڑتال کی آڑ میں کچھ گروپس 9 روپے کا اضافہ کروانا چاہتے ہیں، چند کمپنیوں کو نوازنے کیلئے 9 روپے کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا، جائز مطالبات مانیں گے، ناجائز مطالبات تسلیم نہیں کریں گے، عوام کو پریشان کرنا درست نہیں۔حماد اظہر نے بتایا کہ پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطالبہ پر مارجن میں اضافے کی سمری پہلے ہی ای سی سی میں پیش کر دی گئی ہے، آئندہ اجلاس میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا لیکن جائز مطالبہ تسلیم کیا جائے گا، پٹرول پمپ مالکان کی مشکلات کا احساس ہے، پٹرول پمپ مالکان بھی عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔خیال رہے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے منافع میں اضافے کیلئے25 نو مبر سے ملک بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے تحت ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کردیے گئے تھے جس کے باعث ملک بھر میں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔

ہڑتال ختم

 لاہور، کراچی(جنرل رپورٹر،سٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف، پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستا ن پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کابے قابو جن گلی گلی، قریہ قریہ اعلان کررہا ہے وزیراعظم چور، قطاروں میں کھڑے عوام آج پرانے پاکستان کو حسرت سے یاد کررہے ہیں تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدراور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرشہباز شریف نے کہا ہے کہ پورے ملک کو تین سال سے نااہلی، نالائقی، کرپشن اور مہنگائی کی سموگ نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، پٹرول، آٹے، چینی اور اشیائے ضروریہ کیلئے قوم کو قطاروں میں دھکے کھاتے دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، راشن کارڈ، قطاریں، مہنگائی، یوٹرن، جھوٹ نئے پاکستان کی شناختی علامات ہیں۔ اپنے ایک بیان میں شہبازشریف نے کہا عمران نیازی کی دیدہ دلیری پر حیرت ہے، اب کنٹینر والی باتیں کیوں بھول گئے ہیں، اب ان کی سیاسی اخلاقیات کہاں ہے۔ ہر دن نیابحران اورہر روز قیمتوں میں اضافہ پکارپکار کر دہائی دے رہا ہے یہ حکومت رہی تو ملک نہیں چلے گا، عوام تکلیف میں رہے گی،ملک بھر میں نااہلی وبدانتظامی کی انتہا ہے۔ ڈالر کی پرواز قوم کی مہنگائی کے دردناک کرب کو مسلسل بڑھا رہی ہے، کوئی پرسان حال نہیں، ظالم حکمرانوں کی بے حسی غریبوں کے زخموں پر نمک ہے۔ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہاہے عوام کو آٹا چینی اور اب پٹرول کیلئے قطاروں میں کھڑا کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ خلقِ خدا رْل رہی ہے، تڑپ رہی ہے مگر مجال ہے ظالم حکومت کو کوئی فرق پڑے؟، ایک دن بھی عمران خان کو عوام کی تکلیف پر پریشان ہوتے نہیں دیکھا۔اپنے ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے کہا لاہور، اسلام آباد، گوجرانوالا کی یہ تصاویر صرف پیٹرول کیلئے قطاروں کی نہیں بلکہ عوام کے کر ب، تکلیف اور بے بسی کی داستان ہے۔ دعا ہے انہی قطا ر و ں میں عمران خان، اسکو مسلط کرنیوالے اور وزرا ء بھی کھڑے ہوں تاکہ انہیں پتہ چلے عوام پر کیا قیامت ٹوٹی ہے۔ ایک اور ٹویٹ میں (ن) لیگی نائب صدر نے ویڈیو شیئر کی،جس میں مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان پر شدید الفاظ میں تنقید کی۔دوسری جانب ترجمان پاکستان مسلم لیگ نون مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا نواز شریف نے لوڈشیڈنگ کی اذیت، پٹرول، گیس کی قطاروں سے نجات دلائی، سبز باغ دکھا کر عمران صاحب نے قوم کو دوبارہ قطاروں میں کھڑا کر دیا، آٹا، چینی تو کہیں گیس، پٹرول اور بیروزگاروں کی قطاریں ہیں، ہر طرف نئے پاکستان کے اذیت ناک مناظر ہیں۔دوسری طرف ملک بھر میں پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے ہڑتال کے اعلان کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا پٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال کے بعد حکومتی نااہلی سے ملک میں افراتفری پھیل چکی ہے، امورِ زندگی کو ٹھپ کرکے وزیراعظم عمران خان نے ہر پاکستانی کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے۔ حکومت نے پٹرولیم ڈیلرز کے مطالبات کے معاملے میں نااہلی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں آج پورا ملک پریشان ہے، ملک بھر میں بیشتر پیٹرول پمپس بند ہیں، اکثر پر گاڑیوں کی طویل قطا ر یں لگی ہوئی ہیں، کاروباری امور متاثر ہیں، یہ حکومت کی ناکامی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت حل ہونیوالے مسائل کو بھی اپنی نااہلی سے بحران بنادیتی ہے، عوام پہلے ہی ملکی تاریخ کا مہنگا ترین پٹرول خرید رہے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اگلا اضافہ تباہ کن ہوگا۔ لوڈشیڈنگ کیساتھ مہنگی بجلی اور قلت کیساتھ مہنگا پیٹرول اور گیس پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کے تحفے ہیں، پہلے دن سے ہم نے پی ٹی آئی بجٹ کو ناکام کہا، آج بجٹ کے ثمرات سے ثابت ہوگیا عمران خان ایک نااہل حکمران ہیں۔

شہباز، مریم، بلاول

مزید :

صفحہ اول -