رحیم یار خان، ڈاکوؤں کی پولیس ٹیم پر فائرنگ، ایک اہلکار جاں بحق 

رحیم یار خان، ڈاکوؤں کی پولیس ٹیم پر فائرنگ، ایک اہلکار جاں بحق 

  

  

رحیم یار خان(بیورو رپورٹ، نمائندہ پاکستان)کچہ کے ڈاکوں نے ہر حد کو پارکردی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے لوٹ مار کی نیت سے گھاٹ لگائے نامعلوم مسلح ڈاکوں نے سی پیک کی چوکی پر جانے والے چار پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی سر میں گولی لگنے پر(بقیہ نمبر21صفحہ6پر)

 زخمی پولیس کانسٹیبل ہسپتال منتقل کرتے ہوئے  جاں بحق ہوگیا جوابی فائرنگ پر ڈاکو فرار ہوگئے۔ تفصیل کے مطابق گزشتہ سے پیوستہ شب تھانہ ماچھکہ کی حدود میں تھانہ کھمبڑا کے چار پولیس اہلکار معمول کے مطابق سی پیک موٹروے پولیس چوکی 15 پر جارہے تھے کہ اسی دوران لوٹ مار کی غرض سے گھات لگائے ہوئے نامعلوم مسلح ڈاکوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں موٹر سائیکل سوار اہلکاروں کو روکنے کی کوشش کی ڈاکوں نے پولیس کو دیکھ کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار امانت علی سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا اور زخموں کی تاب نہ ہوئے شیخ زید ہسپتال میں  دم توڑ گیا جبکہ جوابی فائرنگ ڈاکو فرار ہوگئے۔ ایس ایس پی عمر طفیل کے مطابق ڈاکوں کا تعاقب جاری ہے اور رحیم یار خان کی حدود میں اسی مقام پر تین روز قبل موٹر سائیکل چھین لیا گیا تھا۔ تاہم ماچھکہ پولیس نے تعاقب نہیں کیا جس سے ڈاکوں کا حوصلہ بڑھا اور آج دوبارہ واردات کرنے آئے تھے رحیم یار خان پولیس متحرک ہوتی تو ملزمان کو یہ جرات نہ ہوتی۔علاوہ ازیں مسلح ڈاکوں کی فائرنگ سے شہید نوجوان پولیس اہلکار امانت علی دھاریجوکی نماز جنازہ آبائی گاں خمیسو چاچڑ میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیلڈی ایس پی اوباڑو محمد پناہ بھٹو رینجرز ونگ کمانڈر سیاسی سماجی رہنما سمیت اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر شہید نوجوان پولیس اہلکار کی میت کو سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔ پولیس کے چاقو چو بند دستے نے سلامی بھی پیش کی۔ ایس ایس پی گھوٹکی عمر طفیل کا کہنا تھا امانت علی دھاریجو ایک بہادر پولیس اہلکار تھا جس نے جام شہادت نوش کی شہید اہلکار کے اہل خانہ کو یقین دلاتا ہوں قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گاملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس کا سرچ آپریشن جاری ہے شہید اہلکار کے اہل خانہ کو 2 سرکاری نوکری ایک کروڑ مالیت کی رقم اور بیوہ کو 60 سال تک مکمل پنشن دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

چل بسا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -