"اگر ایک ریکارڈنگ کو کسی دوسرے آلے سے دوبارہ ریکارڈ کیا جائے تو وہ اصل لگے گی" سابق چیف جسٹس کی مبینہ آڈیو کا فرانزک کرنے والی کمپنی کے سربراہ کا حیران کن انکشاف

"اگر ایک ریکارڈنگ کو کسی دوسرے آلے سے دوبارہ ریکارڈ کیا جائے تو وہ اصل لگے گی" ...

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو کی فرانزک  جانچ کرنے والی کمپنی گیرٹ ڈسکوری کے مالک اینڈریو گیرٹ کا کہنا ہے کہ اگر ایک آلے کی ریکارڈنگ کو دوبارہ کسی دوسرے آلے سے ریکارڈ کرلیا جائے تو فرانزک تحقیق کے دوران وہ اصل لگے گی۔

مقامی اخبار ڈان کو دیے گئے انٹرویو میں گیرٹ ڈسکوری نےکہا کہ  وہ صرف آڈیو فائل کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیا واقعی اس کے ساتھ چھیڑ  چھاڑ تو نہیں کی گئی۔ انہوں نے ویب سائٹ فیکٹ فوکس کیلئے جس آڈیو کی جانچ کی اس کلپ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی۔

گیرٹ ڈسکوری نے بتایا کہ اگر آپ کسی چیز کو ریکارڈ کرتے ہیں اور پھر اسے دوبارہ ریکارڈ کرنے کے لیے دوسرا آلہ استعمال کرتے ہیں تو دوسری ریکارڈنگ مستند نظر آئے گی۔ 

انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اس بیان کو اس کلپ کی تصدیق یا تردید کے طور پر نہ لیا جائے جس پر انہوں نے کام کیا تھا۔

آڈٹ فرم کے مالک نے بتایا کہ انہیں پاکستان کی سیاست کے بارے میں زیادہ نہیں پتہ اور نہ ہی انہیں اس بات کا علم تھا کہ ان کے پاس کس شخص کی آڈیو ریکارڈنگ لائی گئی ہے۔ مذکورہ آڈیو کلپ کا فرانزک کرنے کے بعد انہیں اب تک دو ہزار دھمکی آمیز کالز موصول ہو چکی ہیں جن میں ان پر کلپ کا نتیجہ تبدیل کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -