جماعت اسلامی نے حکومت سے 40 ماہ میں لئے گئے قرضوں کا حساب مانگ لیا 

جماعت اسلامی نے حکومت سے 40 ماہ میں لئے گئے قرضوں کا حساب مانگ لیا 
جماعت اسلامی نے حکومت سے 40 ماہ میں لئے گئے قرضوں کا حساب مانگ لیا 

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ عمران خان سرکار نے آٹا، گندم، چینی، بجلی، گیس سے پریشان عوام کو حکومتی نااہلی، ناکامی اوربدانتظامی سےپٹرول کی مصنوعی قلت سےدربدر بھی کردیااور پٹرولیم ڈیلرزکےمقابلہ میں سرنڈر بھی کردیا،جو معاملات مذاکرات سے پہلے حل ہوسکتے تھے، حکومت نے ہر معاملہ کی طرح عوام کو رُسوا کرنے کی ترجیح برقرار رکھی،حکومت عوام کی بجائے ذخیرہ اندوزوں، مافیاز اور مال کے پجاری ہوس پرستوں کی سرپرست بنی ہوئی ہے،قومی خزانہ میں کشکول میں بھیک کے ذریعے آنے والے ڈالرز قومی معیشت کو سہارا نہیں دے سکتے،حکومت 40 ماہ میں لیے گئے قرضوں کا حساب دے،قومی احتساب بیورو( نیب) کی ریکوری، بیرونی امداد، اندرونی قرضوں کے بوجھ کے باوجود مہنگائی،بے روزگاری، افراطِ زر، پیداواری لاگت کیوں بڑھ رہے ہیں؟ عوام لٹ رہے ہیں،عوام پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جارہا ہے،عوام رشوت، کرپشن کے عذاب سے دوچار ہیں۔

لیاقت بلوچ نے گوادر (بلوچستان) میں مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں کئی روز سے جاری دھرنا کے بہادر شرکا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی، صوبائی حکومتیں اور ریاستی ادارے بلوچستان کے عوام کے دکھ درد سے آگہی کے باوجود مجرمانہ غفلت اور غیرانسانی بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں،سی پیک کے ثمرات کا پہلا حق گوادر کے عوام کا ہے، ماہی گیری روزگار کا قدیم ذریعہ ہے، اسے چھین لیا گیا ہے،سیکیورٹی کے نام پر عوام اور نوجوانوں کی تذلیل کی جارہی ہے،حکومت غفلت اور مجرمانہ رویہ ترک کرے اور دھرنا کے مطالبات تسلیم کیے جائیں اور ان مطالبات پر عملدرآمد کے ثمرات عوام کو نظر آنے اور ملنے چاہییں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ کراچی میں ناجائز تجاوزات کے گرانے کے سپریم کورٹ کے حکم سے بڑی پریشانی پیدا ہوچکی ہے،سالہا سال سے متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیوایم) پاکستان پیپلز پارٹی اور فوجی حکمرانوں کی سرپرستی میں ناجائز دھندے والوں کی سرپرستی کی گئی، عوام نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگادی، اب بے قصور متاثرین کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا بڑی ناانصافی ہے، سپریم کورٹ کے احکامات بجا لیکن انسانی مسائل کو بہتر تدبیر سے حل کرانے کا لائحہ عمل دینا بھی قانون کی علمبرداری اور نفاذ کا حصہ بنانا چاہیے ، ناجائز بلڈنگز تو گرادی جائیں گی لیکن جو عوام برباد اور لوٹ لیے گئے اُن کے نقصانات کا ازالہ بھی آئینی اداروں اور ریاست کی ذمہ داری ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے ساتھ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کریں، انہیں معاوضہ جات دلائے جائیں، ناجائز دھندا کرنے والے سرکاری اداروں، عدلیہ کے اہل کاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کرپٹ حکومتوں کے خلاف بھی اقدامات کیے جائیں،مافیاز لوٹ لیں، عیاشی کریں اور دربدر عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہ ہو، یہ ظلم کی انتہا ہے، نسلہ ٹاور اور اسلام آباد ٹاورز، بنی گالہ ناجائز تجاوزات پر ایک اصول اپنایا جائے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -