"خان صاحب کو چھوڑنا نہیں، سر توڑنے ہیں" نجم سیٹھی کے تجزیے نے ہنگامہ برپا کردیا

"خان صاحب کو چھوڑنا نہیں، سر توڑنے ہیں" نجم سیٹھی کے تجزیے نے ہنگامہ برپا ...
سورس: File

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی و پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے ایک تجزیے نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا اور ان کا نام ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا۔

نجی ٹی وی 24 نیوز کے پروگرام میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے مجوزہ لانگ مارچ پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ جب لانگ مارچ کی بات آتی ہے تو پھر یہ بات بھی آتی ہے کہ یہ کیسے شروع ہوگا، کیا یہ حکومت کو ہٹا کر ہی آئیں گے یا چاول وغیرہ کھا کر آجائیں گے، جب تک سارے ستارے ایک جگہ پر اکٹھے نہ ہوجائیں تب تک لانگ مارچ نہیں ہوگا۔لانگ مارچ ہوا اور اس میں سے کچھ نہ نکلا تو پی ڈی ایم فارغ ہے، عمران خان دو سال تو کیا پانچ سال اور بھی گزار جائیں گے۔

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا "جب لانگ مارچ کرنا ہے تو آر یا پار والی بات ہے، پہنچ جانا ہے اور خان صاحب کو چھوڑنا نہیں ہے ، لڑائی جھگڑے کرنے  ہیں، پچھلی دفعہ تو کہتے تھے کہ ایک پودا نہیں ہلا، اس دفعہ پودے بہت سے ہلانے پڑیں گے، بہت سی چیزیں توڑ پھوڑ کرنی پڑیں گی پھر جا کے شاید کچھ ہو، اب بہت سارے گملے تو کیا سر بھی توڑنے پڑیں گے ، اس کے بغیر کام نہیں چلے گا، یہ فیصلے اتنے آسان نہیں ہیں۔"

نجم سیٹھی کے اس تجزیے کے بعد  سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا  ہوگیا اور انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا "یہ شخص تشدد کو ہوا دے رہا ہے اور وزیر اعظم پر جسمانی حملے کی بات کر رہا ہے، اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے یا اس کو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا؟ یہ شخص بہت عرصے سے پی ٹی آئی اور عمران خان کو گرتا دیکھ رہا تھا لیکن کامیابی نہیں ہوئی تو اب یہ غنڈہ بن گیا۔"

تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کارکن جبران الیاس  نے لکھا " بیچارہ نجم سیٹھی آج بہت ہی تھکا ہوا لگا، دیکھیں یہ  لانگ مارچ کے دوران مسلم لیگ ن کو کیا کرنے کے مشورے دے رہا ہے۔ 

1: خان صاحب کو چھوڑنا نہیں ہے

2: لڑائی جھگڑے کرنے ہیں

3: سر توڑنے پڑیں گے، اس کے بغیر کام نہیں چلے گا

یہ کسی اور ملک میں ہوتا تو تشدد کو ہوا دینے کے جرم میں اب تک گرفتار ہو چکا ہوتا۔"

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -