لیبیا کی حکومت کے خلاف جنگ لڑنے والے خلیفہ حفتر کو سزائے موت سنا دی گئی

لیبیا کی حکومت کے خلاف جنگ لڑنے والے خلیفہ حفتر کو سزائے موت سنا دی گئی
لیبیا کی حکومت کے خلاف جنگ لڑنے والے خلیفہ حفتر کو سزائے موت سنا دی گئی

  

تریپولی (ڈیلی پاکستان آن لائن) عرب ملک لیبیا کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے خلاف جنگ لڑنے والے جنگجو رہنما خلیفہ حفتر کو ایک فوجی عدالت نے ان کی غیر موجودگی میں سزائے موت سنا دی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سنہ 2019 میں باغی فورسز کو مصراتہ شہر میں ایئر ڈیفنس کالج پر بمباری کا حکم دیا تھا جس کے نتیجے میں لیبیا کا ایک فوجی مارا گیا تھا۔

ترک میڈیا کے مطابق فوجی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد  ملٹری پراسیکیوٹر کے دفتر سے  خلیفہ حفتر کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے اور ملٹری پولیس ڈیپارٹمنٹ سے کہا گیا ہے کہ وہ ملزم اور اس کا ساتھ دینے والے چھ اعلیٰ افسران کو گرفتار کرے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیفہ حفتر اور ان کے ساتھیوں کے ملٹری پینل کوڈ کی خلاف ورزی کرنے پر سول رائٹس ختم ہوگئے ہیں اور انہیں ملٹری سروس سے بھی فارغ کردیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب لیبیا کی سپریم نیشنل  الیکشن کمیٹی نے دسمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ ان امیدواروں میں خلیفہ حفتر بھی شامل ہیں جنہوں نے 16 نومبر کو صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ خلیفہ حفتر معمر قذافی کی سربراہی میں افسران کے اس گروپ کے رکن تھے جس نے 1969 میں لیبیا کے بادشاہ ادریس سینسوسی کے خلاف بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ معمر قذافی نے اس وقت انہیں فوج سے فارغ کردیا جب وہ 1987 میں چاڈ کے خلاف جنگ لڑنے گئے اور  نہ صرف شکست کھائی بلکہ جنگی قیدی بھی بن گئے۔ اس کے بعد وہ قذافی کے مخالف ہوگئے  اور انہوں  نے لیبیا کے رہنما کو ختم کرنے کے لیے اپنی زندگی کو وقف کردیا، اس دوران وہ امریکہ میں مقیم رہے۔

 سنہ 2011 میں قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جنرل حفتر واپس لیبیا آئےاور جلد ہی ملک کے مشرقی علاقے میں حزب اختلاف کی فورسز کے اہم رہنماؤں میں سے ایک بن گئے۔ اگلے سالوں میں انہوں نے بہت سی جنگی کارروائیاں کیں جن میں سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے۔

مزید :

عرب دنیا -