”دھوکہ دہی بھی جنگ جیتنے کا ایک گُر ہے۔خواہ شیطانی سہی“ 

 ”دھوکہ دہی بھی جنگ جیتنے کا ایک گُر ہے۔خواہ شیطانی سہی“ 
 ”دھوکہ دہی بھی جنگ جیتنے کا ایک گُر ہے۔خواہ شیطانی سہی“ 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:61

اگر سالک پر فوج کی طرفداری یا جانبداری پاکستانی ہونے کی وجہ سے تنقید کی گئی تو سقوط کے34 سال بعد بھی حقائق اور دانشوروں کی رائے سالک کے بیان کی تائید کرتی نظر آتی ہے۔

10مئی تک بظاہر حالات فوج کے قابو میں آگئے ‘ فوج کی ان کا رروائیوں کے نتیجے میں عوام کی نفرت میں اضافہ ہوا لیکن حکومتی سطح پر اس فاصلے کو دور کرنے کی کوشش نہ کی گئی۔ جو عوام اور حکومت کے درمیان تھا محب وطن بنگالیوں کی طرف سے مدد ملی انہیں ”رضاکاروں“ کا نام دیا گیا یہ پاک فوج سے تعاون کرتے افرادی کمی کو پورا کرتے لیکن اس کے نتیجے میں ”مکتی باہنی“ کے انتقام کا نشانہ بنتے۔

جون سے بھارتی فوج نے گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا جو اکتوبر تک تیز ہو گیا۔ طویل لڑائی سے فوج کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا جبکہ لیفٹیننٹ جنرل نیازی کا میابیوں کے متعلق جھوٹے دعوے کرتے جن کے زیر اثر عام فوجی افسر بھی ایسا ہی رویہ اپناتے سالک کے مطابق:

”قوم کو دھوکہ دینے والے یحییٰ خان واحد شخص نہ تھے‘ جنرل نیازی اس میدان میںان سے بھی دو قدم آگے تھے۔ انہوں نے متعدد بار اعلان کیا۔ اگر جنگ چھڑگئی تو میدانِ کا رزاربھارت کی سر زمین بنے گی۔ “ اسی جنونی کیفیت میں وہ کبھی آسام اور کبھی کلکتہ پر قبضہ کرنے کی دھمکی دیتے میں نے رائے عامہ کے نقطۂ نظر سے ان سے گزارش کی کہ آپ ایسی بے پرکی نہ اڑائیں کیونکہ اس سے بے جا توقعات بڑھتی ہیں جنھیں آپ کبھی پورا نہیں کر سکیں گے۔ اس پر انہوں نے کسی کتاب سے رٹاہوا یہ جملہ دہرایا کہ ”دھوکہ دہی بھی جنگ جیتنے کا ایک گُر ہے۔خواہ شیطانی سہی۔“ 

سالک کے مطابق جنرل نیازی ناکام جنگی کمانڈر ہونے کے علاوہ اخلاقی طورپر بھی کوئی قابل تحسین انسان نہ تھے۔ بنگالی عوام میں حکومت کے خلاف نفرت کی وجہ غیر ملکی ذرائع ابلاغ بھی تھے جو پاک فوج کی کارروائیوں کو مبالغہ آرائی سے بیان کرتے۔ اس صورت حال کے پیش نظر صدیق سالک نے اپنے پیشہ وارانہ تجربے کی بناءپر حکام بالا کو تجویز پیش کی کہ ہمیں بھی باغیوں اور مکتی باہنی کے تشدد کی تشہیر کرنی چاہیے۔ یہ بتانا چاہیے کہ پاک فوج ”نہتے عوام“ سے نہیں بلکہ منظم باغیوں سے لڑ رہی ہے لیکن اس کے جواب میں سالک کو یہ ڈانٹ سننی پڑی کہ:

”تم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہوکہ پاکستان آرمی کاڈسپلن ٹوٹ گیا ہے‘ کیا تم ایسی حرکت کر کے آرمی کے ناموس کو بٹہ لگانا چاہتے ہو۔“

چند ہفتے بعد حکومت کو غیر ملکی نمائندے کے ذریعے یہی وضاحت کرنی پڑی جس میں تاخیر ہونے کا سالک کو بہت دکھ تھا۔ 26مارچ کو غیر ملکی صحافیوں کو ڈھاکہ سے نکالنے کا فیصلہ بھی سالک کے نزدیک غیر دانش مندانہ تھا۔ کیونکہ یہ صحافی بھارت جا کر پاکستان کے خلاف لکھنے لگے۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -