بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے 10ماہ کے اندر تمام ہندوستان کو گرما دیا

بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے 10ماہ کے اندر تمام ہندوستان کو گرما دیا
بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے 10ماہ کے اندر تمام ہندوستان کو گرما دیا

  

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:116

 تاریخی بھوک ہڑتال :

اس دوران ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور کی عدالت میں سازش کیس کی سماعت شروع ہو گئی۔عدالت کا فریضہ اس بات کا تعین نہیں تھا کہ ملزم قصور وار ہیں یا بے گناہ۔ اسے صرف اس بات کا فیصلہ کرنا تھا کہ کیا ان کے خلاف پیش کی گئی شہادتوں کی روشنی میں ان پر فرد جرم لگا ئی جاسکتی ہے اور کیس سیشن جج کی عدالت میں بھیجا جا سکتا ہے۔ بھگت سنگھ نے اپنا قانونی دفاع کرنے کی بجائے فیصلہ کیا کہ مقدمے کو بر طانوی حکومت حکمرانوں کے ان دعوؤں کا پردہ چاک کرنے کےلئے استعمال کیا جائے جو وہ قانون کی حکمرانی کے بارے میں کرتے ہیں۔ سانڈرس قتل کیس کی شہادتوں میں کئی سقم موجود تھے۔ بھگت سنگھ چاہتا تو کسی معروف وکیل کی خدمات حاصل کرکے اپنی زندگی بچا سکتا تھا۔ مگر اس کی دلچسپی اپنا دفاع کرنے کی بجائے عداالتی کاروائی کو ا پنا سیاسی پروگرام عوام تک پہنچانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔اس نے اور اس کے اکثر ساتھیوں نے کسی بھی وکیل کی خدمات لینے سے انکار کر دیا۔ ڈسٹر کٹ مجسٹریت کی عدالت میں 10 جولائی1929ءکو شروع ہونے والا یہ کیس 3 مئی 1930 ءتک جاری رہا۔ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے ان10ماہ کے اندر تمام ہندوستان کو گرما دیا۔ 

 خود حکومت نے جس طرح عدالت کا استعمال کیا وہ انصاف کا منہ چڑھانے کی واضح مثال تھا۔کھلی عدالت لگانے کی بجائے سنٹرل جیل کے ایک کمرے کو کمرہ عدالت میں تبدیل کر دیا گیا جہاں وکلا اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی کو اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔رشتہ دار وں کے لیے اجازت نامہ ضروری قرار دیا گیا جسے حاصل کرنے کےلئے تکلیف دہ عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ان وکیلوں سے جنہیں بعض ملزموں نے نامزد کیا تھا اہانت آمیز رویہ اختیا کیا گیا مثلاً عدالت میں پیشی کے وقت انہیں جیل کے دروازے پر انتظار کرایا جاتا تھا۔قانونی مشیروں سے ملنے میں رکاوٹیں جاتی تھیں۔اور کارروائی کے دوران ملزموں کے جائز اعتراضات کو فوری رد کر دیا جاتا تھا۔

12 جولائی کو جب بھگت سنگھ کو عدالت میں لایا گیا تو اسے بھوک ہڑتال کیے ہوئے 26 دن ہو چکے تھے۔اس کی حالت نازک ہوتی جارہی تھی۔ یہی حال دوسرے ساتھیوں کا تھا۔ایک دن پہلے جیل حکام کے آرڈر پر 8ہٹے کٹے ملازمین نے طاقت کے زور پر انہیں خوراک دینے کی کوشش کی تھی۔انہیں زمین پر گرا کے، ہاتھ پاﺅں پکڑ کے اور ناک اور منہ میں نلکیاں ڈال کر دودھ معدے تک پہنچایا گیا۔تاہم انہوں نے گلے میں انگلیاں ڈال کر قے کر دی۔جب وہ عدالت میں آئے تو ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ چند دنوں کے بعد جب نظر آیا کہ زبردستی خوراک دینے کی نتیجے میں قیدی مر بھی سکتے ہیں تو یہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ 

بھوک ہڑتالیوں کی حالت جب نازک ہوگئی تو ان کی حمایت میں ملک بھر میں جا بجا جلسے اور مظاہرے ہونے شروع ہوئے۔ ملک کی مختلف جیلوں میں موجود سیا سی قیدیوں نے بھی ان کے مطالبات کی حمایت میں بھوک ہڑتال شروع کر دی۔خود بر طانیہ میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔بھوک ہڑتالیوں کی بگڑتی ہوئی صحت اور انہیں کمرہ عدالت میں پہنچانے میں مشکلات کے نتیجے میں کیس کی کار روائی کو بار بار ملتوی کر نا پڑا۔ہر چند مہا تما گاندھی نے بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوںکی حمایت میں بیان دینے سے انکار کیا تھا اور بھوک ہڑتال کے دوران بھی وہ خاموش رہے تاہم کئی ایک اہم کانگریسی رہنما ﺅں نے ان سے ہمدردی کا اعلان کیا۔ چوٹی کے لیڈر ان کا مقدمہ سننے اور اس طرح یکجہتی کا اظہار کرنے لاہور پہنچے۔ ان میں موتی لال نہرو، سبھاش چندر بوس،اور رفیع احمد قدوائی بھی شامل تھے۔9 اگست کو پنڈت جواہر لال نہرو اسی مقصد کے لیے لاہور آئے۔یہ بھوک ہڑتال کا آٹھواں ہفتہ تھا۔ اس کے بعد جو بیان انہوں نے جاری کیا اس میں بھوک ہڑتالیوں کے مؤقف کی تائید اور ان کی ثابت قدمی کی تعریف کی گئی تھی۔اس طویل بیان میں منجملہ دیگر باتوں کے انہوں نے کہا:

”جب میں ان بہادر نوجوانوں سے ملا تو ان کی حالت دیکھ کر مجھے سخت دکھ ہوا۔انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے فیصلے (یعنی بھوک ہڑتال) پر ڈٹے رہیں گے خواہ اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں اپنی زندگی کی فکر نہیں۔ وہ اپنی ذات کےلئے چند معمولی سہولتیں حاصل کرنے کےلئے اتنی تکلیف سے کبھی نہ گذرتے۔انہیں اس بات کا شدید احساس ہے کہ ہندوستان میں سیا سی قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ نامناسب ہے اور اسے ختم ہونا چاہئے۔۔۔میری تمنا ہے کہ جس مقصد کےلئے یہ نوجوان اتنی عظیم قربانی پیش کر رہے ہیں وہ پورا ہو۔“( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -