اس کا دماغ جواب دے گیا تھا، یہ سب کچھ اس کےلئے نیا تھا، ایسا تھا جیسے اس پر بجلی گر پڑی ہو

اس کا دماغ جواب دے گیا تھا، یہ سب کچھ اس کےلئے نیا تھا، ایسا تھا جیسے اس پر ...
اس کا دماغ جواب دے گیا تھا، یہ سب کچھ اس کےلئے نیا تھا، ایسا تھا جیسے اس پر بجلی گر پڑی ہو

  

مصنف : اپٹون سنکلئیر

ترجمہ :عمران الحق چوہان 

 قسط:88

ماریا کے احتجاج کے باوجود اسے اونا کی آواز دوبارہ سنائی دی۔ اس کا دماغ جواب دے گیا تھا۔ یہ سب کچھ اس کے لیے نیا تھا۔ ایسا تھا جیسے اس پر بجلی گر پڑی ہو۔ جب ننھا آنٹاناس ہوا تھا تو یورگس کام پر تھا اور اس کے پیدا ہونے تک اسے کوئی خبر نہیں ہوئی تھی لیکن یہ سب کچھ اس کے اختیار سے باہر تھا۔ عورتیں گھبرائی ہوئی تھیں۔ سب نے ایک کے بعد ایک اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ عورتوں کا کام ہے اور آخر کار اسے برستی بارش میں باہر دھکیل دیا۔وہ پریشانی میں چہل قدمی کرنے لگا۔ چوں کہ اونا کی آوازیں باہر سڑک تک آرہی تھیںاس لیے وہ ان سے بچنے کے لیے دور چلا جاتا لیکن پھر مجبور ہوکر واپس آجاتا۔ دس پندرہ منٹ بعد جب اس کا صبر جواب دے گیا تو وہ پھر گھر کی طرف دوڑا۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ دروازہ نہ توڑ دے انھوں نے اسے اندر آنے دیا۔

اس سے بحث کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ غصے سے چیخا کہ اونا مر رہی ہے، سنو ! اس کی آواز سنو ! وہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ اسے مدد کی ضرورت ہے۔ کیا انھوں نے کوئی ڈاکٹر بلانے کی کوشش کی تھی ؟ پیسے اسے بعد میں بھی دئیے جا سکتے تھے۔۔۔ وہ وعدہ کر لیتے۔۔۔

” ہم وعدہ نہیں کر سکتے تھے یورگس۔۔۔ “ ماریا نے احتجاج کیا ” ہمارے پاس ایک دھیلا نہیں تھا۔۔۔ ہمارے پاس تو زندہ رہنے کےلئے کچھ نہیں تھا۔ “

” لیکن میں تو کام کر سکتا ہوں نا۔ “ یورگس نے جواب دیا ” میں تو پیسے کما سکتا ہوں! “

” ہاں۔۔۔ لیکن ہم نے سوچا تم تو جیل میں ہو۔۔۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ تم کب آؤ گے ؟ ڈاکٹر مفت میں کام نہیں کرتے۔“ ماریا نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

ماریا نے اسے بتایا کہ انھوں نے دائی ڈھونڈنے کی کوشش بھی کی لیکن وہ بھی10،15 اور حتیٰ کہ20۔۔۔ بلکہ25 ڈالر تک مانگ رہی تھیں اور وہ بھی نقد۔ ” میرے پاس صرف چوتھائی ڈالر تھا۔ میں اپنے پیسوں کا ایک ایک سینٹ تک خرچ کر چکی ہوں۔ بنک میں بھی کچھ نہیں بچا۔ میں خود اس ڈاکٹر کی مقروض ہوں جو مجھے دیکھنے آتا تھا۔ اب اس نے بھی آنا بند کر دیا ہے کیوں کہ اس کا خیال ہے کہ میں اس کی فیس دینا ہی نہیں چاہتی۔ ہمارے ذمے آنئیل کا 2ہفتوں کا کرایہ بھی چڑھا ہوا ہے۔ وہ خود تقریباً فاقے کر رہی ہے اور ڈرتی ہے کہ اس کا گھر بھی نہ چھن جائے۔ ہم جینے کے لیے ادھار اور بھیک تک مانگتے رہے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ “

” اور بچے ؟ “ یورگس نے اونچی آواز میں پوچھا۔

” بچے 3دن سے گھر نہیں آئے۔ موسم بہت خراب تھا۔ انھیں صورت ِ حال سمجھ نہیں آسکتی تھی۔ بچے کی پیدائش 2ماہ بعد متوقع تھی۔“

یورگس میز کے پاس کھڑا تھا۔ اس کا سر جھکا تھا اور بازو کانپ رہے تھے۔ لگتا تھا وہ بے ہوش ہو کر گرنے کو ہے۔اچانک آنئیل اٹھی اور لڑکھڑاتی ہوئی اس کے قریب آئی۔ اس نے جیب میںہاتھ ڈال کر ایک گندہ چیتھڑا نکالا جس کے ایک کونے میں اس نے کچھ باندھا ہوا تھا۔

” یورگس یہ لو ! “ اس نے کہا ” کچھ پیسے ہیں، یہ پکڑو ! “ 

اس نے گرہ کھول کر پیسے گنے۔ یہ 34 سینٹ تھے۔ ” اب جاؤ اور کوئی ملتا ہے تو کوشش کر دیکھو۔ اگر تمھارے پاس بھی کوئی پیسے ہیں تو اِس کو دے دو۔“ اس نے دوسری عورتوں سے کہا ” وہ تمھیں ضرور واپس کر دے گا۔ کم از کم اس کی تسلی تو ہوجائے گی اور ہو سکتا ہے جب وہ واپس آئے تو کام ختم ہو چکا ہو۔“ 

دوسری عورتوں نے بھی اپنا جمع جتھا نکال کر اس کے حوالے کر دیا۔ ان میں سے اکثر کے پاس چند پیسے اور ٹکے ہی تھے۔ بیگم اولس وسکی نے، جس کا شوہر ماہر قصائی تھا، تقریباً آدھ ڈالر اسے دیا جس سے کل رقم سوا ڈالر ہوگئی۔یورگس نے پیسے مٹھی میں دبا کر جیب میں سنبھالے اور باہر دوڑ لگا دی۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -