پیرس، برلن اور جنیوا کے غیر خوشگوار تجربوں نے والٹیر کو سمجھا دیا کہ اسے شہروں سے دور بسیرا کرنا ہوگا

پیرس، برلن اور جنیوا کے غیر خوشگوار تجربوں نے والٹیر کو سمجھا دیا کہ اسے ...
پیرس، برلن اور جنیوا کے غیر خوشگوار تجربوں نے والٹیر کو سمجھا دیا کہ اسے شہروں سے دور بسیرا کرنا ہوگا

  

تحریر: ظفر سپل

قسط:45

ذرا پیچھے بیان کیا گیا فریڈرک کے دربار سے دھتکارے جانے کا قصہ ایمیلی کی وفات کے بعد کا ہے۔۔۔ہاں تو اب والٹیر نے سوچا کہ کیا کرے اور کہاں جائے۔ درون خانہ اپنے لوگ یعنی فرانس والے اسے مانتے نہیں تھے، فریڈرک نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ ان حالات میں وہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پہنچا۔ یہ 12دسمبر1754ءکی بات ہے۔ اسے لگا ، یہ ملک اس کےلئے بہتر رہے گا۔ یہاں کسی بادشاہ اور شہزادے کا وجود نہیں تھا، اس لیے کہ یہ ایک جمہوری ملک تھا۔ وہ نوابوں کی سی زندگی گزارنے کا عادی ہو چکا تھا۔ سو، اس نے یہاںرہنے کے لیے ایک بڑا گھر خرید لیا اور مزے سے جھیل کنارے رہنے لگا۔ روسو اس زمانے کے جنیوا کا مشہور آدمی تھا۔ وہ والٹیر کی آمد کی خبر سن کر بہت خوش ہوا اور اسے اپنی کتاب”عدم مساوات پر ایک مقالہ“کا ایک نسخہ مطالعے کے لیے بھیجا۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ”اگر والٹیر کی ذہنی صلاحیتوں کی بات ہو تو پھر ساری زندگی اس کے قدموں میں گزاری جا سکتی ہے“۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جو پتہ دیتی تھی کہ دونوں ایک دوسرے کے اچھے دوست ثابت ہوں گے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔۔۔انہی دنوںلزبن کے مشہور عام زلزلے کا واقعہ پیش آیا جس میں ہزاروں لوگ مر گئے۔ اب مختلف لوگ اس تباہ کن واقعے کی مختلف توجیہات پیش کر رہے تھے۔ کچھ اسے اللہ کی ناراضی کا نتیجہ قرار دے رہے تھے اور کچھ فطرت سے دوری کا نتیجہ۔ روسو اور والٹیر کی آراءبھی ایک دوسرے سے مختلف تھیں، مگر روسو نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے والٹیر کا وہ خط اس کی اجازت کے بغیر چھاپ دیا، جس میں اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔ روسو اس کے علاوہ بھی اپنی خط و کتابت میں والٹیر پر تنقید کرتا رہا۔والٹیر کچھ عرصہ تو خاموش رہا، آخر ایک دفعہ پھٹ پڑا اور کہنے لگا:

”روسو ایک پاگل اور جھگڑالو آدمی ہے“۔۔۔۔سو، اس طرح کے حالت پید ہو گئے کہ جنیوا میں رہتے ہوئے بھی دونوں کی آپس میں ملاقات نہ ہوئی۔

والٹیر کا خیال تھا کہ جنیوا میں اس کے دن اچھے گزریں گے، مگر یہ ایک شہر تھا ور یہاں بھی پادری موجود تھے۔ انہوں نے فوراً ہی اسے کافر اور ملحد فلسفی قرار دے کر کلیساؤں میں اس کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا۔ ایک اور معاملے نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اوروہ یہ کہ انہی دنوں والٹیر نے مشہور عالم انسائیکلوپیڈیا کے لیے جنیوا شہر پر ایک مقالہ لکھا اور پروٹسٹنٹ پادریوں کی ضرورت سے زیادہ تعریف کر دی۔ اگرچہ اس نے بعد میں یہ تک کہا کہ اس مقالے میں ردوبدل کیا گیا ہے، مگر اب کوئی اس کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں تھا۔۔۔اب اسے خبر ہوئی کہ جنیوا بھی اس کے لیے اتنا ہی غیر سازگار شہر ہے جتنا پیرس اور برلن۔

توپیرس، برلن اور جنیوا کے غیر خوشگوار تجربوں نے والٹیر کو سمجھا دیا کہ اسے شہروں سے دور بسیرا کرنا ہوگا۔ سرے جیسا کوئی مقام تلاش کرنا ہو گا۔ سو، اس نے جنیوا کو خیر باد کہا اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد کے قریب فرانس کے علاقے ”فرنے“(Ferney)میں ایک حویلی خرید لی۔ یہ حویلی اس نے اپنی بھانجی کے نام پر خریدی اور یہیں اس کی زندگی کے باقی ماندہ 24 برس گزرنے تھے، اپنی بھانجی کے ساتھ۔ اس وقت وہ 60 سال کا ہو چلا تھا اور اس کی بھانجی کی عمر 50 سال تھی۔ اس کی ایک اور بھانجی جو مصورہ تھی، وہ بھی کبھی کبھار اس حویلی میں آ نکلتی اور اس کی دیواروں پر پینٹ کرتی رہتی۔ اس نے دیواروں کو ننگی تصویروں سے بھر دیا تاکہ بوڑھے ماموں کا خون گرم رہے۔

یہ تو درست ہے کہ وہ ایک مشہور شاعر تھا، ڈرامہ نگار تھا اور تاریخ دان بھی۔ مگر اس کی یہ حیثیتیںغیراہم اور غیر متعلقہ ہو چکیں۔ جس حیثیت سے آج وہ پہچانا جاتا ہے۔ وہ ایک دانش ور اور عملی فلسفی کی ہے اور یہ حیثیت 60 سال کی عمر کے بعد فرنے میںآکر نمایا ں اور مستحکم ہوئی۔ 

یہاں آکر اس نے اپنا وہ قابلِ ذکر تحریری کام کیا جو آج تک یاد رکھا جاتا ہے۔ اس نے فلسفیانہ کہانیاں لکھیں اور اپنا مشہور ناول”کاندید“ (Candide)لکھا۔ یہ تو درست ہے کہ یہ ایک مختلف قسم کا ناول ہے، جس میں ناول جیسی کاملیت نہیں ہے مگر یہی ناول اسے آج تک زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اس کا ایک اور زندہ کام ”فلسفیانہ لغت“(Dictionnarie Philosophique)کی صورت میں ہے۔ حروف، تہجی کی ترتیب سے مختلف موضوعات پر لکھے گئے فاضلانہ مقالہ جات میں اس کی علمی بے باکی اور بے پایاں بصیرت کا رنگ نمایاں ہے۔

یہیں آ کر اس کی شخصیت کا وہ رنگ نمایاں ہوا، جس نے اس کو ”یورپ کے ضمیر“ کے طور پر نمایاں کیا۔ اب تک وہ توہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کے خلاف لڑتا رہا تھا، مگر یہاں آ کر اس نے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کرنا سیکھا، عدم برداشت، بے انصافی، سیاسی جبر، مذہبی تنگ نظری کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور انسانی آزادی کے علمبردار کے طور پر سامنے آیا۔ یہیں پر اس نے انسانی شعور کی بیداری کےلئے ایسے درجنوں پمفلٹ لکھے، جس نے انسانی ذہنوں میں طوفان برپا کر دیا۔ انہیں پمفلٹوں نے اس کی موت کے دس گیارہ سال بعد انقلابِ فرانس کی راہ ہموار کی۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوئی شانز دہم نے زنداں میں والٹیر اور روسو کی تصانیف دیکھیں تو بے ساختہ کہا:

” ان2آدمیوں نے فرانس کو برباد کر دیا“

فرنے میں آکر والٹیرکو معاشی نظرئیے میں نئی دلچسپی پیدا ہو گئی۔ یہ زرعی اعتبار سے ایک بنجر علاقہ تھا۔ والٹیر نے اس کے گرد و نواح میں بے شمار درخت لگوائے اور اس کو بطور صنعتی علاقہ ترقی دینے کی کوشش کی۔ اس نے سوئٹزرلینڈ سے گھڑیاں بنانے والی کاریگروں کو لا کر یہاں آباد کیا۔ محنت کشوں کےلئے کالونی تعمیر کروائی، مزدوروں کو آسان اقساط پر گھر فراہم کئے اور ان کی تفریح طبع کے لیے ایک تھیٹر بنوایا۔ اس طرح فرنے ترقی کرتے ہوئے گھڑی سازی کی صنعت کا مرکز بن گیا۔ جب وہ یہاں آیا تھا تو یہاں صرف40 افراد آباد تھے مگر چند ہی برسوں میں اس کی آبادی1200 افراد تک پہنچ گئی۔ والٹیرکی شہرت اب پورے براعظم میں پھیل چکی تھی اور زندگی کے آخری برسوں میں وہ روشن خیالی، انصاف پسندی اور انسانی آزادی کے نمائندے کے طور پر پہچانا جانے لگا تھا۔(جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -