جنرل نیازی نے اپنی دفاعی صلاحیتوں پرضرورت سے زیادہ اعتماد کیا 

جنرل نیازی نے اپنی دفاعی صلاحیتوں پرضرورت سے زیادہ اعتماد کیا 
جنرل نیازی نے اپنی دفاعی صلاحیتوں پرضرورت سے زیادہ اعتماد کیا 

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:62

جنگ: 

اس حصے میں جنگ کا بیان کیا ہے جو3دسمبر1971ءسے14 دسمبر تک جاری رہی۔ اس دوران جو قیامت برپا ہوئی سالک نے اس کی لمحہ بہ لمحہ تفصیل لکھی ہے۔اس حصے میں غالب ذکر جنگی حکمت عملی اور جنگی کارروائیوں کا ہے۔یہاں سالک ادیب یا مو¿رخ کے بجائے دفاعی تجزیہ نگار نظر آتے ہیں ابواب کے عنوانات سے بھی اس کا اندازہ ہوتا ہے مثلاً جیسور سیکٹر (9 ڈویژن) ‘ ناٹورسیکٹر (16 ڈویژن)برہمن باڑیہ سیکٹر (14ڈویژن) چاند پور سیکٹر (39 ہنگامی ڈویژن) میمن سنگھ سیکٹر (36 ہنگامی ڈویژن)۔

سالک نے غیر جذباتی انداز میں پاکستان اور بھارت کی جنگی صلاحیت کا جائزہ لیا ہے جس میں بھارت پاکستان سے بہت آگے تھا‘ رہی مسلمان کے جذبہ¿ جہاد کی بات تو سالک پہلے ہی ذکر کر چکے ہیں کہ8 ماہ کی خانہ جنگی سے فوج ذہنی اور جسمانی طورپر تھک چکی تھی بے تیغ لڑنے والے مومن کا ساحوصلہ ان میں نہیں تھا۔ لیکن اس کے باوجود میدان جنگ میں بزدلی یا فرار فوجیوں کی طرف سے دیکھنے میں نہیں آیا۔سالک کے مطابق خرابی جنگی حکمت عملی میں تھی۔ اس کے بارے میں سالک کا کہنا ہے:

” کہا جاتا ہے کہ وسائل کی کمی کو جنرل کا ذہن پورا کردیتا ہے۔مگر اس میدان میں بھی ہماری عزت جنرل نیازی جیسے آدمی کے ہاتھ میں تھی۔“ 

سالک نے جنرل نیازی کی جنگی حکمت عملی پر تنقید کی ہے جس کے مطابق انہوں نے فوج کو چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا جنرل نیازی کے جنگی فلسفے کے متعلق لکھتے ہیں:

”میرا خیال خام سہی ‘ مگر اہل نظر بھی کہتے ہیں کہ جنرل نیازی نے اپنی دفاعی صلاحیتوں پرضرورت سے زیادہ اعتماد کیا ان کی صلاحیتوں سے قطع نظر امر واقعہ یہ ہے کہ وہ یہ ہرگز تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے کہ وہ اپنی فوج کو تسبیح کے دانوں کی طرح سرحد کے ساتھ ساتھ بکھیر کر اپنی شکست کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔“ 

صدیق سالک نے جنگ میں فضائیہ اور بحریہ کی صلاحیت اور کردار پر بات کی ہے۔ مشرقی پاکستان کے جغرافیائی پس منظر میں جہاں سمندر ‘ دریا‘ ندی نالوں کی بہتات تھی بحریہ کے پاس بہت کم وسائل تھے۔

سالک کے مطابق ”بحریہ “ 24 گھنٹوں تک ہی اپنا کردار ادا کر سکی اس کے بعد وہ صرف نقل وحمل کے لیے ہی استعمال ہوئی فضائیہ کے وسائل بھی بہت کم تھے۔ پھر6 دسمبر کو دشمن کی طرف سے ہوائی اڈوں کی تباہی کے بعد فضائیہ کا کردار ختم ہو گیا تھا۔ گویا جنگ کے صرف 3 دن بعد بحریہ اور فضائیہ بے کار ہو گئیں تھیں۔( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )

مزید :

ادب وثقافت -