"قلم دوست••••••سفر قلم سے دوستی کا"

"قلم دوست••••••سفر قلم سے دوستی کا"

  

عنابِغ علی

وطنِِ عزیز کے صحافتی و ادبی منظر نامے میں یکے بعد دیگرے بیشتر تنظیموں کا ظہور ہُوا جو نیوٹن کے قانون پر صادق آئیں اور اتنی ہی رفتار سے گل ہو گئیں۔ شاید نیوٹن واٹس ایپ تنظیموں کے قیام کو پہلے ہی بھانپ گئے تھے۔ بہرحال اکتوبر 2018 ءمیں بھی ایسے ہی بنتے بگڑتے حالات ادب و صحافت کو درپیش تھے جن کا سدِ باب ناگزیر تھا۔ چنانچہ 30 اکتوبر 2018 ءبروز منگل  کالم نگارایثار رانا کی سرپرستی میں کالم نگار رابعہ رحمان، راقم(عنابِغ علی)، اسلم بھٹی، مبشر الماس و ناصف اعوان کی باہمی تگ و دو سے تنظیم "قلم دوست" کی بنیاد رکھی گئی۔ قلم دوست کی چوتھی سالگرہ و یومِ تاسیس پر تمام قلم دوستوں کو ڈھیروں تحسین و مبارکباد / مقصد عہدوں اور تشہیر کی دوڑ کو زیر کر کے قلم اور قلم سے وابستہ دانشوروں کی ایسی نرسری قائم کرنا تھا جہاں مختلف خیالات اور تصورات کے ذہن ایک پلیٹ فارم پر اپنے نظریات کا اظہار کر سکیں اور باہمی احترام کے کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔ تنظیم کے حسن کو چارچاند لگانے کے لیے ہیروں جیسے انمول دانشوروں کا انتخاب لازم تھا لہذا ہم خیال صاحبانِ قلم جن میں  سلیم حسن، فاروق امجد میر، ڈاکٹر اختر حسین سندھو، توقیر احمد شریفی ، ناہید نیازی، اسلم بھٹی،  ناصف اعوان و دیگر صاحبانِ قلم کا اجتماع ایک کامیاب تنظیم کو شرمندہ تعبیر کرنے میں سنگِ میل ثابت ہُوا۔ قلم دوست کے زیر سایہ گزشتہ 4 برس میں متعدد ادبی، تعلیمی و صحافتی پروگراموں کا انعقاد کیا گیا  جن میں شہدائے پاکستان کانفرنس، متعدد علمی سیمینار و ویبینار، ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات کے ساتھ بیشتر حساس موضوعات پر سیر حاصل نشستوں، تعلیمی اداروں کے دورے اور منفرد مشاعروں کا اہتمام شامل ہے۔ 

قلم دوست کے چوتھے یومِ تاسیس کا انعقاد 17 نومبر 2022 ءکو برِٹن انٹرنیشل سکول المقیت کیمپس جوہر ٹاؤن لاہور کے وسیع احاطے میں  کیا گیا۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن سے کیا گیا جبکہ نظامت کے فرائض رابعہ رحمان (جنرل سیکرٹری قلم دوست) نے ادا کیے۔ خطبہ صدارت صدرِ تنظیم ڈاکٹر اختر حسین سندھو پیش کیا۔ بعدازاں فاروق میر، سلیم حسن ، حنیف قمر،  آصف ندیم, ڈاکٹر تنویر قاسم و دیگر شرکاء نے تنظیم سے متعلق خیالات کا اظہار کیا اور تنظیم کی بہبود کے لیے مفید تجاویز پیش کیں۔  قلم دوست کی منفرد روایت کو برقرار رکھتے ہوئے حاضرینِ محفل میں گلاب کے پھول تقسیم کیے گئے اور یومِ تاسیس کا کیک کاٹا گیا۔ 

جاوید انور نے شاید قلم دوست کے لیے ہی کہا ہے

"سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے 

محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا 

تقریب کے پہلے سیشن کا اختتام چئیرمین قلم دوست ایثار رانا کے خطاب سے ہواجس میں انہوں نے ٹیم قلم دوست کی کاوشوں کو فرداً فرداً سراہا اور شرکاء کا شکریہ ادا کرنے کیساتھ قلم دوست کے عزم کو دہرایا جس میں ادب، باہمی احترام، قلم کی حُرمت اور قلم سے دوستی کو پروان چڑھانے کی لگن شامل ہے۔ 

تقریب کے دوسرے حصے میں شاندار مشاعرہ برپا کیا گیا جسے اعزازِ صدارت نامور شاعر و قلم دوست توقیر احمد شریفی نے بخشا جبکہ نظامت آصف انصاری نے کی۔ ڈاکٹر دانش عزیز،  امتیاز احمد کوکب، افضل پارس، جی اے نجم، اصباح بیگ، شبنم مرزا، عروج زیب اور عنابِغ علی نے اپنے کلام سے حاضرینِ محفل کو محضوض کیا اور خوب داد سمیٹی۔ 

ڈاکٹر دانش عزیز کی غزل بنام شہید صحافی ارشد شریف حسن محفل قرار پائی جس کے چند اشعار یوں ہیں 

فَصیلِ شَہر سے باہر بُلا کے مارا گیا

سَبھی کے سامنے عِبرت بَنا کے مارا گیا

 اَگرچہ قَتل کی سازش دَرونِ  شہر ہوئی

میں احتیاط سے پردیس جا کے مارا گیا

مِرے حریف مِرے اپنے لوگ تھے دانش

یہ راز قَتل سے پَہلے بتا کے مارا گیا

معاشروں کے نکھار میں قلم و ادب سے وابستہ افراد کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ افراد معاشرے کے ان تمام احساسات اور جذبات کو الفاظ عطا کرتے ہیں جن کو آواز میں ڈھالنا جرم سے کم نہیں۔ گویا ہر طبقے کی نمائندگی اہلیانِ قلم کے حصے کا چراغ ہے جسے روشن کرنے میں قلم دوست مسلسل اپنا کردار کامیابی سے ادا کر رہا ہے۔

مزید :

بلاگ -