اعلیٰ عدلیہ:جج نہیں وکلا ہی وکلا

     اعلیٰ عدلیہ:جج نہیں وکلا ہی وکلا
     اعلیٰ عدلیہ:جج نہیں وکلا ہی وکلا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کو تعجب ہے کہ پرویز مشرف بغاوت کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے مینڈیٹ سے متجاوز فیصلہ کیوں دیا۔ ہمیں کیوں تعجب نہیں ہوا؟ بتاتا ہوں۔جسٹس سجاد علی شاہ نے حبیب وہاب الخیری کیس کا فیصلہ دیا تو اس دن جسٹس خلیل الرحمن خان میرے دفتر میں میرے پاس بیٹھے تھے ۔ تب موبائل نہیں ہوتے تھے ۔ میرا فون بجا تو معلوم ہوا جسٹس صاحب کی کال ہے ۔ پتا چلا کہ ان کی تلاش میں منادی خوان شہر بھر میں ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔ انہوں نے بمشکل ایک منٹ فون سنا اور عجلت میں کھڑے ہو گئے ۔افراتفری اتنی کہ میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: " کوئی خیر خبر ہی ہے نا"؟ بولے : "خیر ہی ہے ۔ پھر بات کریں گے ". اگلے دن معلوم ہوا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ حلف اٹھا لیا۔

جسٹس سجاد کے فیصلے سے قبل اعلیٰ عدالتی ججوں کی تقرری وزیراعظم کی سفارش پر صدر کرتا تھا۔ اس فیصلے نے 40 - 45 ججوں کو اس بنیاد پر معزول کر دیا کہ نام بھیجنے سے قبل وزیراعظم نے چیف جسٹس سے مشورہ نہیں کیا، لہذا یہ تقرریاں غلط ہیں۔ مزید یہ کہ جج کی مرضی کے بغیر اسے کسی اور عدالت میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس خلیل لاہور ہائی کورٹ کے جج تھے ۔ انہیں وفاقی شرعی عدالت میں جبرا بھیجا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد وہ واپس اپنی جگہ پر چیف جسٹس بن گئے ۔ ان جیالے وکیل "ججوں" میں سے ٬ اخباری اطلاعات کے مطابق٬ ایک پر قتل کا مقدمہ تھا۔ جج بننے پر اسے آئینی تحفظ مل گیا۔ آئینی ترمیم کے باعث اب ججوں کی تقرری جوڈیشل کمیشن کرتا ہے ۔ تو فرق کیا پڑا؟ کرنل انعام نے چند برس قبل بتایا:"فرق یہ پڑا کہ کراچی کے ایک وکیل کے خلاف قومی پرچم جلانے کا مقدمہ درج تھا وہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے جسٹس بن گئے تو کارروائی ختم:

 زمام کار اگر مزدور کے ہاتھوں میں ہو پھر کیا

طریق کوہکن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی۔

آج کسی مستقل، منضبط اور آزاد "جوڈیشل سروس" کی تجویز دینا قبل از وقت ہوگا۔ اللہ کرے ، ایک فعال اور عوام کے (نہ کے بکسے چوروں کے ) ووٹوں سے پارلیمنٹ بن جائے ۔ تب یہ تجویز دی جا سکتی ہے ۔ آج اتنا کافی ہے کہ اس وقت عدلیہ میں بار سے آئے معززین نے توازن بگاڑ رکھا ہے . میں خود اعلیٰ عدلیہ کا لائسنس یافتہ وکیل ہو کر بھی کہتا ہوں کہ منصف کی کرسی پر آج کے کسی وکیل کا کوئی کام نہیں۔ کون نہیں جانتا کہ ہر ناکے پر پولیس سے وکیلوں کی توتکار عام سی بات ہے ۔ وہاں کسی سیاہ پوش کا استحقاق مجروح ہو تو صوبے یا کم از کم ضلع بھر میں ہڑتال۔ دو عشروں سے درجنوں اسلام پسند وکیلوں سے پوچھ چکا ہوں:"کیا فیس لے کر عدالت میں پیش نہ ہونے سے فیس حرام نہیں ہو جاتی". جواب: " فیصلہ اجتماعی ہو تو یہ کچھ کرنا پڑتا ہے”اگلا سوال“حضور موکل کو فیس واپس کرنے میں کیا رکاوٹ ہے ؟ اس کا جواب مجھے کسی تہجد گزار وکیل سے بھی نہیں ملا۔ کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا کہ ملک میں کہیں نہ کہیں کسی وکیل یا پورے جتھے نے جج سے بدتمیزی نہ کی ہو، اس پر حملہ نہ کیا ہو، تو کیا ان میں سے کسی کو منصب عدل پر بٹھایا جا سکتا ہے ؟ یہ سوال جوڈیشل کمیشن سے ہے، کوئی سیشن جج ایسی گھناﺅنی حرکات کا سوچ بھی نہیں سکتا سیشن ججوں کو اعلیٰ عدلیہ میں کیوں نہیں لیا جاتا؟

لا تعداد میں سے چند واقعات۔ اسلام آباد کھیل کے میدان پر دو سال قبل ناجائز قابض وکلا کی جھگیاں انتظامیہ نے گرائیں تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے دفتر پر سیاہ پوشوں کا اجتماعی حملہ۔ چیف کمرے میں بند گھنٹوں یرغمال بنے رہے ، کوئی 15 سال قبل راولپنڈی کچہری میں وکیل سے موکل کی توتکار۔ نتیجہ یہ کہ وکیلوں کے ایک جتھے نے اسے پہلے مکمل برہنہ کیا، پھر مارتے مارتے اسے پورے کورٹ کمپلیکس میں گھمانا شروع کیا، یوں درجن دو درجن وکلاءبڑھ کر سینکڑوں کا جلوس بن گئے ۔ نعرے اور چیخم دھاڑ، پھر ایک دبنگ شہری نے سینہ تان کر برہنہ شخص پر چادر ڈالی، چند تھپڑ کھائے ، چند شرفا بھی شریک ہوگئے ، ادھر سیاہ پوش تھک چکے تھے،یوں اس برہنہ شخص کی بچت ہوئی۔ چار سال قبل لاہور امراض قلب ہسپتال پر سیاہ پوشوں کا حملہ کس کو بھولا ہوگا جس میں چار مریض ہلاک، درجنوں گاڑیاں اور کروڑوں کی مشینیں اور املاک نذر اتش ہوئی تھیں۔ میرا خیال ہے ہمارے چیف جسٹس اب سمجھ چکے ہوں گے کہ لاہور ہائیکورٹ نے مینڈیٹ سے تجاوز کر کے پرویز مشرف کیس کیسے خراب کیا تھا۔

لیکن نہیں! وکیلوں سمیت کوئی زمرہ نیک طینت افراد سے کبھی خالی نہیں رہا۔ 2015 میں پاکستان بار کونسل نے قانون کی تعلیم کے نئے قواعد لاگو کئے۔ اب 18سالہ تازہ انٹرمیڈیٹ افراد کلاس میں بیٹھ کر ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ کوئی شام کی کلاس نہیں، کوئی فاصلاتی تعلیم نہیں، یہ بھی نہیں کہ فیس جمع کرا_¶ اور بغیر پڑھے ، بغیر حاضری کے واجبی سے امتحان میں بیٹھ کر ایل ایل بی کر لو،ان قواعد کے مثبت اثرات دو عشروں کے بعد سامنے آئیں گے۔ مجبوری یہ ہے کہ وکیلوں میں سے اعلیٰ عدلیہ کے جج لینا آئینی تقاضا ہے، چنانچہ جوڈیشل کمیشن بھی بار کونسل کی طرح پہلے اچھے سے قواعد کیوں وضع نہ کرے ؟ ان پر عوامی رائے کیوں نہ لے ؟ ان قواعد پر میری عوامی رائے آج ہی لے لی جائے ۔ امریکی ریاستی اور سپریم کورٹ کے مجوزہ ججوں کی چھان پھٹک مہینوں ہوتی رہتی ہے۔ قواعد کے بموجب وہاں ممکن ہی نہیں کہ کوئی معمولی بدعنوان شخص مسند عدل پر جا بیٹھے ۔

ادھر اپنے ایوان عدل میں نقب لگا کر قتل کے ملزم داخل کرنے کو پہلے انتظامیہ تھی تو اب قومی پرچم جلانے والا دوسری اختیاراتی نقب سے آئینی تحفظ تلے جا بیٹھتا ہے ۔ ہمیں تب معلوم ہوتا ہے جب وہ حلف اٹھا لیتا ہے ۔ پس ضروری ہے کہ اولاً ہائی کورٹوں کی خالی نشستوں پر اب صرف سیشن جج لیے جائیں، تاوقتیکہ وہ ججوں کی نشستوں پر وکلا ججوں کے برابر ہو جائیں۔ اس وقت اصل تربیت یافتہ عدلیہ یعنی سیشن ججوں میں سے سپریم کورٹ میں ایک جج بھی نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں صرف ایک ایسا جج باقی رہ گیا ہے ،ہر طرف وکلا ہی وکلا۔ ثانیاً یہ کہ یہ تناسب برابر ہو جانے پر جوڈیشل کمیشن کے نئے مذکورہ قواعد کے تحت جوڈیشل کمیشن خوب غور کے بعد وکلا کااعلان کرے ۔ عوامی رائے طلب کرے ۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ اس چھلنی سے گزر کر قتل کا ملزم کیسے مسند عدل پر بیٹھتا ہے ۔ قومی پرچم جلانے والا کیسے آئین کا منہ چڑھاتا ہے ۔ جج اپنے مینڈیٹ سے متجاوز فیصلہ کیسے کرتا ہے ۔ ساس سالیوں کا پیارا ان کے چرنوں میں بیٹھے تو بیٹھے ، آئینی تشریح نہ کر سکے گا۔ یہ تجاویز حرف آخر نہیں ہیں لیکن ارکان جوڈیشل کمیشن کو آگر اپنا ادارہ عزیز ہے تو بسم اللہ، اور اگر اپنے سابقہ چیمبر پیارے ہیں تو پھر ہم سب مل کر آسمان سے پتھروں کی بارش کا انتظار کرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -