جمہوریت، جہاد اور غلبہ اسلام (2)

جمہوریت، جہاد اور غلبہ اسلام (2)
جمہوریت، جہاد اور غلبہ اسلام (2)

  

(ایک علمی وفکری مذاکرہ کی روداد)

مذکورہ سفارشات کا آخری نکتہ خاص طور پر راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں اٹھایا تھا اور یہ عرض کیا تھا کہ جو ذہن ”جہاد“ کے تصور کے زیر اثر پاکستان کے ریاستی نظام کے خلاف برسرپیکار ہے، اس کے ساتھ مکالمے کے لئے بنیادی سوالات وہ نہیں ہیں جن کا مذکورہ سفارشات میں جواب دیا گیا ہے۔ اس ذہن کے فکری مقدمات اور اس طرز جدوجہد کے محرکات کو درست طور پر سمجھنے اور اس کے ساتھ مکالمہ کرنے کے لئے محدود سطح کی آئینی وقانونی یا فقہی بحثیں غیر موثر اور غیر متعلق ہیں۔ اس کے لئے اعلیٰ فلسفیانہ اور فکری سطح پر تاریخ وتہذیب سے متعلق چند اساسی سوالات کو موضوع بحث بنانا ہوگا اور ایسی بحثیں اٹھانا ہوں گی جو مذہبی ذہن کو تاریخ انسانی میں اسلام کے کردار اور غلبہ دین جیسے تصورات پر نئے پہلو¶ں سے غور کرنے میں مدد دیں۔ راقم نے اس ضمن میں غور وفکر اور مکالمہ کے لئے جن سوالات ومباحث کی طرف توجہ دلائی، وہ حسب ذیل ہیں:

1۔ دنیا میں تہذیبی وسیاسی غلبے سے متعلق سنت الٰہی کیا ہے؟ کیا یہ معاملہ سرتا سر انسانی تدبیر سے متعلق ہے یا اس میں تکوینی فیصلے کارفرما ہوتے ہیں؟ اس ضمن میں تکوینی مشیت الٰہی اور انسانی تدبیر میں سے اصل اور اساس کی حیثیت کس کو حاصل ہے؟

2۔ سنت الٰہی کی رو سے کسی قوم کو دنیا میں غلبہ واقتدار حق وباطل کے ساتھ وابستگی کی بنیاد پر دیا جاتا ہے یا اس کی بنیاد کسی دوسرے اصول پر ہے؟ پوری انسانی تاریخ میں جن جن قوموں اور تہذیبوں کو دنیا میں عالمی اقتدار حاصل رہا ہے، کیا وہ سب کی سب حق کی پیروکار تھیں؟ نیز ان قوموں کو یہ سیادت واقتدار کسی تکوینی سنت الٰہی کے تحت ملا تھا یا وہ مشیت الٰہی کے علی الرغم اس پر قابض ہو گئی تھیں؟

3۔ کسی قوم کو سنت الٰہی کے تحت غلبہ واقتدار دیا جائے اور پھر وہ رو بہ زوال ہو جائے تو قانون الٰہی کے تحت اس کی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اس کے اسباب اصلاً داخلی ہوتے ہیں یا خارجی؟ کیا کوئی مخالف گروہ محض اپنی سازشوں کے ذریعے سے کسی سربلند قوم کو زوال سے ہم کنار کر سکتا ہے؟ (اس ضمن میں ذالک بان اللہ لم یک مغیرا نعمة انعمہا علی قوم حتی یغیروا ما بانفسہم کے اصول پر خاص توجہ کی ضرورت ہے۔)

4۔ اگر کسی قوم کی، منصب سیادت سے معزولی کا فیصلہ اخلاقی اصولوں کے تحت تکوینی سطح پر ہوتا ہے تو کیا اس کو محض انسانی تدبیر سے بدلا جا سکتا ہے؟

5۔ اگر کوئی قوم صدیوں کے عمل کے نتیجے میں زوال کا شکار ہوئی ہے تو کیا اس صورت حال کو سالوں کی جدوجہد سے بدلا جا سکتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں انسانی تاریخ کی سطح پر رونما ہونے والے کسی ہمہ گیر اور جوہری تغیر کو محدود وقتی نوعیت کی حکمت عملی (short term strategy) کے ذریعے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے؟

6۔ اگر حق کی حامل کوئی قوم سنت الٰہی کے مطابق غلبہ وسیادت کے لئے مطلوبہ اوصاف سے محرومی کے بعد زوال سے ہم کنار کر دی جائے تو کیا محض ”جہاد“ شروع کر دینے سے اسے دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے گا؟ دوسرے لفظوں میں ”جہاد“ غلبہ وسیادت کی ایک مکمل اسکیم کا جزو اور حصہ ہے یا محض یہ ایک نکاتی ایجنڈا ہی مطلوبہ نتیجے تک پہنچا دینے کا ضامن ہے؟

7۔ کیا کسی قوم کو اس کے تہذیبی وسیاسی غلبے کے دورِ عروج میں طاقت کے زور پر شکست دی جا سکتی ہے؟ اس ضمن میں انسانی تاریخ کے مسلسل واقعات ہماری کیا رہنمائی کرتے ہیں؟

8۔ مسلح تصادم کو بطور حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے نفع ونقصان کے تناسب اور طاقت کے توازن کے سوال کی اہمیت کتنی ہے؟ اس حوالے سے قرآن وسنت اور فقہ اسلامی ہماری کیا راہ نمائی کرتے ہیں؟

9۔ روحانی سطح پر امت میں ایمان، یقین، اعلیٰ کردار اور بلند اخلاق کے اوصاف اجتماعی سطح پر پیدا کئے بغیر کیا محض عسکری جدوجہد سے مغرب کے غلبہ کو امت مسلمہ کے غلبے سے تبدیل کر دینا ممکن ہے؟

10۔ امت مسلمہ میں داخلی سطح پر مذہبی، سیاسی اور نسلی تفریقات کی موجودگی میں اور ٹھوس سیاسی وعمرانی بنیادوں پر ان کا کوئی حل نکالے بغیر کیا بطور امت، مسلمانوں میں وہ وحدت پیدا ہو سکتی ہے جو بطور ایک تہذیب کے، مغرب کی سیادت کو چیلنج کرنے کے لئے درکار ہے؟

11۔ کیا دنیا پر مغرب کا استیلا محض عسکری اور سیاسی واقتصادی ہے یا اس کے پیچھے فکر وفلسفہ کی قوت بھی کارفرما ہے؟ حیات وکائنات اور انسانی معاشرت سے متعلق مغرب نے مذہب کی نفی پر مبنی جو افکار ونظریات پیش کئے اور متنوع انسانی علوم وفنون کی مدد سے انہیں ایک طاقتور متبادل فلسفہ حیات کے طور پر منوا لیا ہے، ان کا سحر توڑے بغیر کیا محض عسکری میدان میں نبرد آزمائی سے مغرب کے استیلا کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے؟

12۔ اگر حق کا حامل گروہ مخصوص حالات میں مغلوب ہو جائے تو انسانی تاریخ کی روشنی میں، کیا حق کے، باطل پر غالب آنے کی یہی ایک صورت ممکن ہے کہ مغلوب گروہ کو دوبارہ غلبہ حاصل ہو جائے یا اس سے مختلف صورتیں بھی ممکن ہیں؟ مثلاً یہ کہ باطل کا پیروکار گروہ طاقت کے میدان میں غالب رہتے ہوئے دعوتِ حق سے مغلوب ہو کر اس کی پیروی اختیار کر لے؟ (جیسے مسیحیت کی تاریخ میں رومة الکبریٰ کے مسیحی مذہب کو اختیار کر لینے سے اور اسلامی تاریخ میں تاتاریوں کے حلقہ بگوش اسلام ہو جانے کی صورت میں ہوا)

13۔ دنیا میں اسلام کو دوبارہ غلبہ حاصل ہونے کے ضمن میں ظہور مہدی اور نزول مسیح علیہ السلام سے متعلق جن پیشین گوئیوں کی بنیاد پر ایک تصور مستقبل قائم کیا جاتا ہے، کیا وہ علمی وشرعی طور پر کسی حکمت عملی کا ماخذ بن سکتی ہیں؟ یعنی کیا اس چیز کو حکمت عملی کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے کہ دنیا میں ایسے حالات پیدا کرنے کی سعی کی جائے جس میں مذکورہ شخصیات کا ظہور ہونا ہے؟ ان شخصیات کے ساتھ بلکہ ان سے پہلے دجال کے ظہور کی بات بھی روایات میں بیان ہوئی ہے جس سے تمام انبیاءپناہ مانگتے آئے ہیں۔ ایسی صورت میں ظہور دجال کے لئے حالات کو ہموار کرنے کی شعوری کوششوں کی دین وشریعت کے نقطہ نظر سے کیا حیثیت ہوگی؟

14۔ مذکورہ واقعات سے متعلق روایات کیا اتنی واضح، مربوط اور مفصل ومنضبط ہیں کہ ان سے کسی مخصوص تاریخی دور کے ظہور اور واقعات کی ترتیب کا ایک واضح نقشہ اخذ کیا جا سکے ؟ کیا تمام متعلقہ روایات علم حدیث کی رو سے اس درجے کی ہیں اور ان میں بیان ہونے والے تمام تر اجزا اور ان کی زمانی وواقعاتی ترتیب اتنی قطعی اور واضح ہے کہ ان پر باقاعدہ ایک حکمت عملی کی بنیاد رکھی جا سکے؟

15۔ کسی بھی صورت حال میں دینی جدوجہد کی ذمہ داری کی نوعیت اور اہداف طے شدہ ہیں یا اضافی؟ یعنی کیا اہل ایمان ہر طرح کی صورت حال میں پابند ہیں کہ ایک ہی طرح کے اہداف کے حصول کے لئے جدوجہد کو اپنی ذمہ داری تصور کریں یا یہ کہ اس کا تعلق حالات وظروف سے ہے؟ اس ضمن میں انبیائے سابقین میں سے، مثال کے طور پر، حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت مسیح علیہ السلام نے جو طریقہ اختیار فرمایا، وہ اسی طرح کے حالات میں امت محمدیہ کے لئے بھی قابل استفادہ ہے یانہیں؟ نیز کسی بھی صورت حال میں کسی ہدف کے حصول کے لئے جدوجہد کے لئے حکمت عملی کا مسئلہ منصوص، متعین او ربے لچک ہے یا اجتہادی؟

16۔ کسی بھی صورت حال میں بحیثیت مجموعی پوری امت کے لئے یا کسی مخصوص خطے میں اس علاقے کے مسلمانوں کے لئے حکمت عملی متعین کرنے کا حق کس کو حاصل ہے؟ کیا یہ اہل ایمان کا اجتماعی حق ہے یا اس میں کسی مخصوص گروہ کو باقی امت کے مقابلے میں زیادہ فضیلت اور اختیار حاصل ہے؟ دوسرے لفظوں میں، کیا کسی گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے تئیں کسی ایسی حکمت عملی کا تعین کر کے اس پر عمل شروع کر دے جس کے نتائج عمومی طور پر مسلمانوں کو بھگتنا پڑیں، حالانکہ اقدام کرنے والے گروہ کو عمومی طور پر مسلمانوں کا اعتماد یا ان کی طرف سے امت کے اجتماعی فیصلے کرنے کا اختیار نہ دیا گیا ہو؟

راقم نے یہ تجویز دی کہ مذکورہ سوالات پر غور وفکر اور مباحثے کے لئے ایک مستقل سلسلہ مجالس کا انعقاد کیا جائے اور اس میں ہر دو نقطہ ہائے نظر کے حامل اہل علم ودانش کو باہمی مکالمہ کا موقع فراہم کیا جائے۔ مجھے امید ہے کہ قومی سطح کے علمی وفکری ادارے اور ان کے علاوہ ہماری جامعات ان سوالات کو غور وفکر او رتحقیق کا موضوع بنانے کی ضرورت کا ادراک کریں گی، اس لئے کہ ان سوالات سے متعلق اپنے تصورات کو واضح اور یکسو کئے بغیر امت مسلمہ کے لئے دور جدید میں عالمی سطح پر کوئی کردار ادا کرنا تو درکنار، اپنے لئے کوئی اجتماعی سمت اور رخ متعین کرنا بھی ناممکن دکھائی دیتا ہے۔(ختم شد)

مزید :

کالم -