ٹائی ٹینک کے متعلق خفیہ معلومات عوام کے سامنے پیش

ٹائی ٹینک کے متعلق خفیہ معلومات عوام کے سامنے پیش
ٹائی ٹینک کے متعلق خفیہ معلومات عوام کے سامنے پیش

  

نیویارک(نیوزڈیسک) مشہور زمانہ بحری جہاز ٹائی ٹینک کو ڈوبے ہوئے 102 سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن آج بھی مغربی تحقیق کار اس بحری جہاز اور اس پر کام کرنے والے اہلکاروں پر تحقیق کررہے ہیں۔ حال ہی میں ٹائی ٹینک کے کپتان اور دیگر اہلکاروں کی معلومات اور دیگرخفیہ  تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں۔ ٹائی ٹینک اپریل 1912ءمیں برطانوی بندرگاہ لیورپول سے امریکی ساحلی شہر نیویارک کے لئے روانہ ہوا تھا اور اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ نہ ڈوبنے والا بحری جہاز ہے لیکن اپنے پہلے ہی سفر میں یہ ایک برفانی چٹان سے ٹکرانے کے بعد بحر اوقیانوس کی گہرائیوں میں غرق ہو گیا تھااور 1500سے زائد افراد اس حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔اس وقت کے معروف کپتان ایڈورڈ سمتھ اس کی کمان کررہے تھے۔ کیپٹن سمتھ نے اس سے قبل کئی قابل ذکر بحری جہازوں کی کمان سنبھالنے کے فرائض سرانجام دئیے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہالی ووڈ کی فلم ٹائی ٹینک میں دکھایا گیا کیپٹن سمتھ نے آخری وقت میں اپنے آپ کو کیبن میں بند کرلیا تھا اور ان کی موت وہیں ہوئی تھی۔

تاریخ نویس اس بات سے کافی حد تک متفق ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کیپٹن سمتھ پر یہ الزام بھی ہے کہ انہوں نے ”لائف بوٹس“ (ہنگامی کشتیاں)میں بہت ہی کم افراد کو سوار کرواکر روانہ کردیا اور اگر وہ مزید لوگوں کو ان کشتیوں میں بٹھاتے تو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ تاہم یہ بات قابل تحسین بھی ہے کہ انہوں نے مسافروں کی زندگیاں بچانے میں دلچسپی لی اور خود اپنی جان دے دی۔ حال ہی میں کی گئی تحقیق ان تمام لوگوں کے نام اور تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں جو اس بحری جہاز پر کام کررہے تھے اور اکثریت کا تعلق برطانوی شہر لیول پول سے تھا۔ لیول پول اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بندرگاہوں میں سے ایک تھی۔ ٹائی ٹینک کو بھی لیورپول میں ڈیزائن کیا گیا تھا جبکہ اس جہاز پر کام کرنے والے عملے کے 90 افراد کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔وہ دو افراد جنہوں نے سب سے پہلے برفانی چٹان کو جہاز کے ٹاور میں بیٹھے ہو ئے دیکھا تھا کا بھی تعلق لیور پول سے تھا۔تحقیق کاروں نے اس وقت لیورپول کی بندرگاہ پر کام کرنے والے تمام بحری اہلکاروں کی تفصیلات لکھی جاری کی ہیں۔یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاکستان میں شاید 10سال قبل کا ریکارڈ ڈھونڈنا تقریباً نا ممکن ہے جبکہ برطانیہ میں ایک شہر کا سو سال قبل کا ریکارڈ اکٹھاکیا گیا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -