وہ وقت جب کراچی میں اداکار سلطان راہی اور اداکار رنگیلا میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے کشتی کرائی گئی ،اس فلمی دنگل کا جب پوسٹر شائع کیا گیا تو اس میں کیا کچھ لکھا تھا جان کر آپ کی ہنسی چھوٹ جائے گی

وہ وقت جب کراچی میں اداکار سلطان راہی اور اداکار رنگیلا میں سیلاب زدگان کی ...
 وہ وقت جب کراچی میں اداکار سلطان راہی اور اداکار رنگیلا میں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے کشتی کرائی گئی ،اس فلمی دنگل کا جب پوسٹر شائع کیا گیا تو اس میں کیا کچھ لکھا تھا جان کر آپ کی ہنسی چھوٹ جائے گی

  

لاہور(ایس چودھری)پاکستان پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے ہماری فلمی صنعت اس میں رضاکارانہ طور پر شامل ہوکر آفت زدگان کی مدد کرتی ہے ۔پاکستان کی فلمی صنعت متحدہ پاکستان کے زمانے میں باقاعدگی کے ساتھ کراچی اور ڈھاکا میں امدادی کرکٹ میچ کھیلوں کا اہتمام کرکے خیراتی اداروں کو فنڈز مہاکیاکرتی تھی ۔1973میں جب پاکستان کی تاریخ کا تباہ کن سیلاب آیا تو اس بار فلمی صنعت کی دو شخصیات اداکار سلطان راہی اور اداکار رنگیلا نے کراچی میں فلمی دنگل لڑکر سیلاب زدگان کی بھرپور مدد کی تھی ۔یہ ایسا موقع تھا جب پاکستان میں سیاسی میدان میں بھی شدید بحران پیدا ہوچکا تھا ۔سیلاب کی وجہ سے بھٹو کی حکومت بھی ڈوبنے والی تھی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سیلابوں نے بھی کئی حکومتوں اور حکمرانوں کی تقدیر کا فیصلہ کیا ہے ،ان مشکل ترین حالات میں جس حکمران نے حوصلے سے کام لیا اس نے قدرتی آفات سے پیدا ہونے والے بحران کو ٹالنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کی ۔1973میں دریائے سندھ میں آنے والی طغیانی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تووزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا بھی جانا ٹھہر گیا تھا ۔اس دور میں ہی بھٹو امریکی صدررچرڈ نکسن سے ملاقات کے لئے امریکہ جارہے تھے کہ عین وقت پر امریکی صدر نکسن کی صحت خراب ہونے سے انہیں دورہ ملتوی کرنا پڑا جس کی وجہ سے اپوزیشن نے ان کی ناکام خارجہ پالیسی کو بری طرح نشانہ بنایا لیکن عین وقت پر دریائے سندھ سے اٹھنے والے سیلاب نے جب ملک میں کاٹن اور چاول کی کھڑی فصلوں کو تباہ کردیا تو ملکی معیشت زیرو پر آکھڑی ہوئی جس سے پورا ملک ڈنواڈول ہوگیا تھا ۔اس موقع پر امریکہ نے فوری طور پر بھٹو کی استدعا پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے ریسکیو ٹیمیں بھیجیں اور 30ملین ڈالر سیلاب کی مد میں فراہم کردئیے جبکہ ایک لاکھ ٹن گندم بھی فراہم کی جو اس دور تک امریکہ کی پاکستان کے لئے سب سے بڑی امداد تھی ۔

امریکی امداد ملنے سے بھٹو نے ڈوبتی معیشت کو سہارا دیا تاہم سیلاب متاثرین کی مدد کے لئے پوری قوم کو آگے بڑھنے کی اپیلیں کی گئیں ۔اس موقع پر پاکستان کے مشہور پہلوانوں بھولو پہلوان رستم زماں نے سیلاب زدگان کی مالی مدد کے لئے کراچی کے ہاکی اسٹیڈیم میں کشتیاں کرانے کا اعلان کیا اور تمام پہلوان کو اس قومی مقصد کے لئے رضا مند کرلیا ۔اس وقت قوم کا جذبہ مزید بڑھانے کی ضرورت تھی جس کے لئے بھولو پہلوان نے اداکار سلطان راہی سے بات کی اور انہیں بھی دنگل میں شریک ہونے کا مشورہ دیا جس پر سلطان راہی نے انہیں دنگل میں عوام کی دلچسپی بڑھانے کے لئے اداکار رنگیلا کے ساتھ کشتی لڑنے کی تجویز دی ۔

1973کے تباہ کن سیلاب سے متاثر ہونے والوں کے لئے کراچی کے ہاکی اسٹیڈیم میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا دنگل تھا جو 12 ستمبر 1973کو لڑا گیا۔ان مقابلوں کو فلمی دنگل کا نام دیکر عوام کی دلچسپی بڑھائی گئی اور سینماگھروں ہوٹلوں اور ریس کورس میں تین روپے سے پچاس روپے تک ٹکٹ فروخت کئے گئے ۔فلمی دنگل میں تاریخ ساز ہجوم اکٹھا ہوگیا تھا اور اسکی کمائی سیلاب متاثرین کو فراہم کی گئی ۔اس موقع پر جو پوسٹر شائع کیا گیا اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے دو معروف اداکاروں کی کشتی دیکھتے ہوئے لوگوں نے غیر معروف پہلوانوں کی کشتیوں کو بھی شوق سے دیکھا تھا ۔اداکار رنگیلا اور سلطان راہی نے پہلوانوں کے سٹائل میں لنگوٹ کس کر کشتی لڑی ۔تماشائی رنگیلے کی حرکات دیکھ کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے ۔وہ جب بھی سلطان راہی کے ہاتھوں چت ہوتے ،تماشائی پھر سے انکی کشتی کرانے کا تقاضا کرتے تھے۔یہ کشتی کافی دیر تک جاری رہی اور دونوں پہلوان ایک دوسرے کوکئی بار پچھاڑنے کے باوجود کشتی لڑتے رہے تھے ۔حتِی کہ ان کی کشتی کا مقصد پورا ہوگیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /تفریح