کون سی کل سیدھی؟

کون سی کل سیدھی؟
کون سی کل سیدھی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چلو یہ تو ہوا کہ روایت کے خلاف کسی بڑے نے تسلیم تو کیا کہ مہنگائی بڑھی ہے،وزیراعظم عمران خان نے سعودی عرب سے واپسی پر اپنی نشری تقریر میں سعودی عرب سے ملنے والے ریلیف کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی مہنگائی کو تسلیم کرتے ہوئے یہ بھی تسلی دی کہ وہ نہیں چاہتے کہ تنخواہ دار طبقے پر بوجھ بڑھے، اِس حوالے سے ان کا موقف ہے کہ سعودی عرب سے ریلیف ملنے کے بعد آئی ایم ایف سے کم قرضہ لینا پڑے گا اور یوں شرائط بھی سخت نہیں ہوں گی۔وزیراعظم کی تقریر کا مقصد قوم کو حوصلہ دینا تھا کہ ان کی حکومت وعدے کے مطابق پانچ چھ ماہ تک معاشی حالات کو سنبھال لے گی۔انہوں نے پھر سے قرضوں کا ذکر کیا اور اس مرتبہ چالیس سال کے اعداد و شمار دیئے، ان قرضوں کی اقساط بھی تو ادا کرنی ہیں، عمران خان نے ساتھ ہی حزب اختلاف کا بھی ذکر کر دیا، کرپشن کا الزام تو لگاتے ہی چلے آ رہے ہیں، اس مرتبہ انہوں نے پھر دہرایا کہ ماضی میں حکومت کرنے والی دونوں جماعتوں (پیپلزپارٹی+مسلم لیگ(ن) نے ملک کو تباہ کیا، اور اب یہ مل کر احتجاج کرنا چاہتے ہیں کہ لوٹ کا مال بچا رہے،لیکن ایسا نہیں ہو گا اور اس مرتبہ کوئی این آر او نہیں لایا جائے گا، پھر کہا کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑوں گا، یہ جو کرنا چاہیں کر لیں۔


خیال تو یہ ہے کہ حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے رول الگ الگ ہوتے ہیں، اقتدار نہ ہو تو بڑی سے بڑی بات بھی کہی جا سکتی ہے، لیکن اقتدار میں ہوں تو قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوتا ہے،لیکن خان صاحب بہت جوش میں ہیں اور سب کچھ دہراتے چلے جا رہے ہیں۔دوسری طرف سے اسی گفتگو کو زیر بحث لایا گیا ہے اور جواباً پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) دونوں نے یہ دریافت کیا کہ ان (تحریک انصاف) سے کس نے این آر او مانگا؟ نام بتا دیں۔یوں ادھر سے بھی تنقید کے پیمانے کھل گئے ہیں اس طرح ایک نئی بحث کا دروازہ کھلا اور اب جواب الجواب بھی دیا جا رہا ہے۔ بات تو دراصل مہنگائی پر کرنا تھی تاہم درمیان میں یہ سخن بھی ہو گیا کہ وزیراعظم خود ہی ایسی باتوں کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر وزیر اطلاعات فواد چودھری ریکارڈ پر ہیں جو ہر بات اور اعتراض کا جواب دیئے چلے جا رہے ہیں، بلکہ صرف جواب نہیں ہوتا یہ اور بھی بہت کچھ کہتے اور غیر مہذب زبان بھی استعمال کرتے ہیں، عوام شیدا ٹلی کو بھول کر فواد چودھری کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔


جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو عجیب سی ہے کہ درآمدی اشیاء پر تو سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی وغیرہ عائد ہوتی ہے، جب اوورسیز کے لئے سختی ہو گی تو پھر ترسیل بھی متاثر ہو گی،اب اگر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ان درآمدی اشیاء پر ہونا چاہئے جن پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ ہم ان کی بات ہی نہیں کرتے جو تعیش پسند ہیں وہ اضافہ بھی برداشت کر لیں گے،لیکن سوال تو یہ ہے کہ جو اشیاء مقامی طور پر تیار ہوتی یا پیدا ہوتی ہیں ان کے نرخوں میں کسی تناسب کے بغیر اضافہ حیرت انگیز ہے۔ گندم، چینی، دالیں، سبزیاں، پھل اور ضرورت کی مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء پر نرخ بڑھتے ہیں تو اس کا جواز بھی تو ہونا چاہئے،لیکن یہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔

گوشت ،دالوں اور سبزیوں کے نرخ مزید بڑھ گئے جو پہلے ہی مہنگی بِک رہی تھیں، اب بجلی کے نرخ اور پٹرولیم مصنوعات کے ساتھ جب گیس کے نرخ بھی بڑھ گئے تو ان منافع خوروں کو کون روکے گا، جو ایسے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں،چنانچہ اب تو موسمی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بھی کمی نہیں ہو پارہی اور یہ سلسلہ چلتا چلا جا رہا ہے۔ اس میں لگی بندھی آمدنی (تنخواہ دار طبقہ) والوں پر ہی بوجھ میں ازخود اضافہ ہو جاتا ہے اور ایسا ہو رہا ہے۔اس کا سدباب بھی نہیں کیا جا رہا، مجسٹریٹوں کے پرچون فروشوں پر چھاپوں اور جرمانوں سے فرق نہیں پڑا، اس کے لئے آپ کو فضا بنانا پڑے گی۔ احتساب کا عمل شروع اور بڑھے مگر مچھوں کو قابو کرنا ہو گا،لیکن یہاں تو مجبوریاں ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتیں، اس کی وجہ کیا اور کسے الزام دیں، زبان زیب نہیں دیتی۔
بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا، وزیر خزانہ کے فلسفے کو مان لیں تو عام آدمی پر بوجھ نہیں پڑا،

حالانکہ جو چاہیں کریں، بالآخر تو بوجھ نیچے ہی آ جاتا ہے،اِس لئے اب جو اشیاء ان حوالوں سے مہنگی ہوں گی ان کا کیا بنے گا؟ ہماری گزارش تو یہ ہے کہ براہ کرم! بجلی کی قیمت بڑھائی ہے تو صارفین کے حقوق کا بھی تحفظ کریں، بجلی والے تیز میٹر لگاتے ہیں، میٹر ریڈر یونٹ زیادہ بھیجتے ہیں اور یوں صارفین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے، حکومت نے 300یونٹ تک نرخ نہیں بڑھائے،لیکن یہ بھی تحقیق کروا لیں کہ اس حد والے لوگ کم ہی ہیں اور جو حضرات تھوڑے سفید پوش ہیں ان کو تو سردیوں میں بھی یونٹ بڑھا کر بھیجے جاتے ہیں اور فالتو بل ڈالا جاتا ہے۔میٹر خراب کر کے ’’ایورج‘‘ بل شروع کر کے من مانے یونٹ بھیج دیئے جاتے ہیں اور درستی کے لئے رجوع کیا جائے تو پہلا جواب یہ ہوتا ہے کہ جو بل آ گیا وہ ادا کر کے آئیں ہر صورت!

مزید :

رائے -کالم -