خدا کی گرفت

خدا کی گرفت
خدا کی گرفت

  

شاعر نے درست ہی کہا کہ بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔ منی لانڈنگ کے مقدمات میں پرت اس طرح کھل رہے ہیں کہ حیرانی اور تشویش ہوتی ہے ۔ اس ملک کے ساتھ حکمرانوں نے کیسا بھیانک مذاق کیا، عوام کو زندہ درگور کر دیا۔ روٹی، پانی، سایہ تک سے محروم کردیا۔ بڑے بڑے محلوں میں رہائش رکھنے والے یہ بادشاہ نما سیاسی رہنماء اپنے نہیں بلکہ عوام کے پیسوں پر بادشاہوں جیسی زندگی گزارتے رہے۔ ان کے ذہنوں کے کسی خانے میں بھی نہیں ہوگا کہ سو دن سنار کے اور ایک دن لوہار کا۔ یہ وہ ہی دن ہیں کہ کچھ سیاست دان عدالتوں کی چکر لگا رہے ہیں ، کچھ سیاست دان دن گن رہے ہیں کہ وہ کب گرفتار ہوں گے۔ بعض افراد کی گرفتاری کے دن تو عوام بھی شدت کے ساتھ گن رہے ہیں۔

عوام کا خیال ہے کہ یہ ہی لوگ ان پر زندگی تنگ کردینے والے لوگ ہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کراچی رجسٹری میں جمعہ کے روزمنی لانڈرنگ، صاف پانی کی فراہمی، محکمہ تعلیم میں بھرتیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گا۔کاز لسٹ کے مطابق جمعہ کو منی لانڈرنگ، صاف پانی کی فراہمی، محکمہ تعلیم کی درخواستوں کی سماعت ہوگی، اس کے علاوہ چیف جسٹس غیر قانونی بھرتیوں، تھرپارکر میں بچوں کی اموات کی درخواستوں کی بھی سماعت کریں گے۔ تھر پارکر میں نصب کئے گئے آر او پلانٹس، اور بچوں کی اموات وغیرہ بھی تو منی لانڈرنگ سے جڑے ہوئے ہیں۔میاں ثاقب نثار نے ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ بیرون ملک1000 ارب کی جائیدادوں کی نشاندہی ہو گئی، تو انہیں واپس لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت تھی۔چیئرمین ایف بی آر بھی عدالت میں موجود تھے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے کہا ہے کہ 1000 ارب کی جائیدادوں کی نشاندہی ہوگئی، انہیں واپس لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ اس موقع پر انہوں نے حکم دیا کہ ان میں سے 100 افرادکو عدالت میں حاضر کریں، کون 20لوگ ہیں جنہیں طلب کر کے پوچھیں کہ یہ جائیدادیں کیسے بنائیں، ہمیں لندن، دبئی اور دوسرے ملکوں کے بارے میں معلومات چاہیے۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ 150 لوگوں نے مانا ہے کہ ان کی جائیدادیں ہیں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والے 894 افراد ہیں۔

ایک دلچسپ خبر بھی گردش میں ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے رہنما قاری شیر افضل نے خواب میں دیکھا کہ بینظیر بھٹو تشریف لاتی ہیں اور قاری صاحب سے فرماتی ہیں۔’’ زرداری صاحب سے جا کر کہو، پارٹی قیادت چھوڑ دیں ،بلاول کو قیادت کرنے دیں‘‘۔قاری شیر افضل نے اپنا یہ خواب صحافی مظہر عباس کو سنایا تو مظہر عباس نے انہیں مشورہ دیاکہ وہ بے نظیربھٹو کا یہ ’خواب ناک‘ پیغام مولانا فضل الرحمٰن کے ذریعے زرداری صاحب تک پہنچا دیں۔

ایک اور سماعت کے دوران منی لانڈرنگ کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی بنائی گئی جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مختلف جعلی بنک اکاؤنٹس کے انکشافات کے بعد منی لانڈرنگ کے سلسلے کی تحقیقاتپے چیدہ ہوگئی ہیں، لیکن حکومت سندھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ غریب افراد کے بنک اکاؤنٹس میں 47 ارب روپے اور مختلف کمپنیوں کے اکاؤنٹس میں 54 ارب روپے کی موجودگی کے انکشافات ہوئے ہیں۔

ایسے افراد کے اکاؤنٹس بھی استعمال کئے گئے جو اس دنیا سے ہی گزر چلے ہیں۔ اس سماعت کے دوران منی لانڈرنگ کے بظاہر ایک بڑے کردار اور اومنی گروپ اور پاک اوسس کمپنی کے کرتا دھرتا خواجہ انور مجید جو ماضی میں حکومت سندھ کے وزیراعلیٰ سے کہیں اختیار ات کو ناجائز استعمال کرنے کے لئے بدنام تھے، کے وکیل شاہد حامد اور چیف جسٹس کے درمیاں دلچسپ گفتگو بھی ہوئی۔ اس گفتگو کا وہ پہلو زیادہ توجہ طلب ہے کہ چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں صوبہ سندھ کے کسی ڈاکٹر کی رپورٹ پر اعتماد نہیں ہے۔ شاہد حامد عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کرہے تھے کہ انور مجید کو علاج قلب کے لئے جیل ڈاکٹر نے ہسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

چیف جسٹس نے شاہد حامد سے سوال کیا کہ کیا انہیں علم ہے کہ جیل میں ان کا موکل کمبل لپیٹے پڑا رہتا ہے، جبکہ ہسپتال میں بیٹھ کر تمام دفتری معاملات نمٹاتا ہے۔ ایک اور صاحب بواسیر کے علاج کے لئے ہسپتال گئے۔ وہ دن میں جیل سپرٹنڈنٹ کے دفتر میں اور رات کو ان کی رہائش گاہ پر ہوتے ہیں۔ انور مجید کے علاج کے سلسلے میں چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں راولپنڈی کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ میں داخل کرا دیتے ہیں جس پر وکیل نے کہا کہ انور مجید عارضہ قلب میں مبتلا ہیں، اسلام آباد کا سفر نہیں کر سکتے تو عدالت نے کہا کہ انہیں ایئر ایمبولنس کے ذریعہ بلوالیتے ہیں۔ اس موقع پر شاہد حامد نے استعدعا کی کہ اومنی گروپ کے بنک اکاؤنٹ کھول دئے جائیں تاکہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جا سکیں۔ یہ جعلی اکاؤنٹ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ جب تک 91 ارب روپے کا معلوم نہیں ہوگا اس وقت تک اکاؤنٹ نہیں کھولا جا سکتا ہے۔

انور مجید کو ہی علم ہوگا کہ ان کی سربراہی میں کام کرنے والی کمپنی نے تھرپارکر میں چھوٹے بڑے480 آر او پلانٹ نصب کئے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کمپنی ہی کی تھی لیکن کمپنی نے پلانٹس نصب کرنے کے بعد دوبار پلٹ کر پوچھا بھی نہیں۔ گزشتہ جوالائی کے مہینے میں ہی تھرپارکر کے ڈپٹی کمشنر غلام قادر جونیجو نے متعلقہ سرکاری محکموں کو خبردار کیا تھا کہ آر او پلانٹس کے معاملات کو فوری حل کیا جائے تاکہ تھرپارکر کے ہیڈکوارٹر مٹھی اور دوسری تحصیل اسلام کو ٹ میں لوگوں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔

مٹھی میں شہریوں کو تیس دن میں ایک دن پینے کے لئے میٹھا پانی اس پائپ لائن سے فراہم کیا جاتا ہے،جو مشرف کے دور حکومت میں نوکوٹ کی نہر سے ڈلوائی گئی تھی۔ کیا یہ وزیراعلیٰ سندھ ، اراکین سندھ اسمبلی کے لئے باعث شرم نہیں ہے۔ آر او پلانٹس اتنے مہنگے داموں میں نصب کرائے گئے ہیں کہ اس قیمت میں تو پورے تھرپارکر میں پانی کا دریا بنایا جاسکتا تھا۔ آج انہیں فکر ہوئی ہے کہ ملازمین کی تنخواہیں دینے کو پیسہ نہیں ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ فرماتے ہیں کہ آر او پلانٹس کو چلانے کے لئے غیر سرکاری تنظیم سیلانی سے مدد لی جائے گی۔

اومنی گراپ کے ماتحت چلنے والے شکر بنانے کے کارخانوں کو بھی کام کرنے کی اجازت ما نگی گئی تھی، لیکن عدالت نے جواب دیا کہ جب تک منی لانڈرنگ کا معاملہ حل نہیں ہو جاتا،ان کارخانوں کو نہیں کھولا جائے گا۔ انور مجید ہوں یا شاہد حامد، یا انور مجید کے سرپرست انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس صورت حال سے وہ لوگ دوچار ہیں وہ خدا کی گرفت میں ہیں۔ ان ہی لوگوں کے لئے یہ خبر بھی اہم ہو گی کہ ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق اور ان کے ایک ساتھی کے خلاف کرپشن کیس کے سلسلے میں مزید 6 الزامات عائد کر دیئے گئے ہیں جن کے تحت انہیں ہر الزام پر 20،20 سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ اور وہ ہی ہوا جو شاعر نے کہا تھا کہ بات نکلے گی تو دور تلک جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -