کیا این آر او کی گنجائش ہے؟

کیا این آر او کی گنجائش ہے؟
کیا این آر او کی گنجائش ہے؟

  

اب تو شیدا ریڑھی والا بھی پوچھتا ہے کہ یہ این آر او کس بَلا کا نام ہے،جس کے بارے میں وزیراعظم عمران خان غصے بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ یہ کسی صورت نہیں ہو گا؟آج شیدے کی ریڑھی پر جانا ہوا تو گویا وہ عمران خان کا خطاب سُن کر بھرا پڑا تھا۔ پہلے تو اُس نے یہ سوال داغا کہ عمران خان نے یہ کسے کہا ہے کہ کان کھول کر سُن لو کوئی این آر او نہیں ہو گا۔ یہ این آر او آخر کیا چیز ہے، جس کے لئے وزیراعظم کو کان کھول کر بات سننے کا کہنا پڑ رہا ہے۔مَیں نے کہا شیدے یہ جن لوگوں کو کہا ہے، اُنہیں علم ہو گیا ہے۔وہ آج کل عمران خان کی ہر بات کان کھول کر ہی سنتے ہیں،کیونکہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی، لیکن شیدا اِس سے مطمئن ہونے والا کہاں تھا۔ این آر او کیا ہوتا ہے؟ اُس کا اگلا سوال یہ تھا۔ اب مَیں اس انگریزی ترکیب کو اُس کے سامنے کیسے کھول کر رکھتا۔مَیں نے کہا ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا نام این آر او ہے۔

کہنے لگا یہ تو اچھی بات ہے۔ عمران خان کو یہ کر لینا چاہئے اور آگے بڑھنا چاہئے۔ اُسے سمجھایا کہ وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہیں کہ جنہوں نے مُلک کو لوٹا ہے،اُن کے ساتھ کوئی مفاہمت نہیں ہو گی،اُنہیں حساب دینا ہو گا، جیل جانا پڑے گا۔ اسی وجہ سے وہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی این آر او نہیں ہو گا۔ شیدا کہنے لگا بابو جی آج تھوڑی دیر پہلے ایک صاحب آئے تھے،ٹماٹر کا ریٹ سُن کر کہنے لگے، یہ عمران خان قوم کے لئے عذاب بن گیا ہے، اسے احتساب کی پڑی ہے، این آر او کر لے تو سارے مسئلے حل ہو جائیں، مہنگائی بھی کم ہو جائے، کیا واقعی ایسا ہے؟ مَیں نے کہا شیدے وہ ضرور عمران خان کا کوئی مخالف ہو گا،لوٹا ہوا قومی سرمایہ واپس آنا چاہئے تبھی مہنگائی کم ہو سکے گی۔ بمشکل شیدے سے جان چھوٹی اور مَیں گھر کی طرف روانہ ہوا،راستے میں گول باغ گلگشت کے قریب سے گزرا تو پولیس کی بھاری نفری موجود تھی، بڑی بڑی کرینیں، بلڈوزر اور بڑی تعداد میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی تھیں۔ معلوم ہوا کہ ناجائز قبضوں اور تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ آپریشن کر رہی ہے۔ایک طرف متاثرین کھڑے تھے، وہ بھی انتظامیہ سے این آر او مانگ رہے تھے، عمران خان کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

مَیں یہ منظر دیکھ کر خاصا متجسس ہوا۔ مَیں تیس چالیس برسوں سے اِن دکانوں کو دیکھ رہا تھا۔ یہاں تعلیمی اداروں کا جھرمٹ ہے، اِس لئے کتابوں کی یہ پچاس سے زائد دکانیں ہر وقت طالب علموں سے بھری رہتیں۔ یہ دکانیں جس مدرسے کی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھیں،وہ مولانا فضل الرحمن کا مدرسہ قاسم العلوم ہے۔اِن دکانوں کا ماہوار کرایہ ذرائع کے مطابق مدرسے کی انتظامیہ وصول کرتی تھی، جو ماہانہ لاکھوں روپے بنتا تھا۔ کسی کے بھی علم میں نہیں تھا کہ یہ پچاس پچپن دکانوں کی مارکیٹ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے بنائی گئی ہے۔ گلگشت کے علاقے کا یہ خوبصورت چوک اِس مارکیٹ کی وجہ سے سکڑ کر رہ گیا تھا۔ کچھ لوگ وہاں چہ میگوئیاں کر رہے تھے کہ اگر مولانا فضل الرحمن حکومت میں ہوتے تو کسی میں جرأت نہیں تھی کہ اِن دکانوں کو گرا سکتا۔ایک ستم ظریف نے تو یہاں تک کہہ دیا،مولانا ہمیشہ حکومتوں کے ساتھ رہے ہیں، پہلی بار انہیں حکومت سے باہر رہنا پڑ رہا ہے تو وہ بہت زیادہ پریشان ہیں اور اس پریشانی کی وجہ اُن کے وہ مفادات ہیں جن پر اب زد پڑ رہی ہے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

حیران کن امر یہ ہے کہ چند سال پہلے جب انہی دکانوں کے خلاف آپریشن کرنے کی کوشش کی گئی تھی تو مدرسے کی انتظامیہ نے سخت مزاحمت کی تھی، جس پر پنجاب حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو منع کر دیا تھا، مگر اس بار نہ کوئی احتجاج ہوا اور نہ ہی مدرسہ قاسم العلوم کی انتظامیہ نے اِن دکانوں کو اپنی ملکیت تسلیم کیا۔ وہ دکاندار رُل گئے، جنہوں نے لاکھوں روپے پگڑی دے کر یہ دکانیں لے رکھی تھیں اور ماہانہ 20سے 40 ہزار روپے تک فی دکان کرایہ ادا کرتے تھے۔ مَیں جب گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہوا تو خود کلامی کے انداز میں یہ سوال کر رہا تھا کہ عمران خان جو این آر او نہ کرنے کی بات کر رہے ہیں، کیا اُس کے اثرات اتنے نیچے تک بھی ظاہر ہو رہے ہیں؟

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں یہ بھی کہا کہ انہی سیاست دانوں نے پرویز مشرف پر دباؤ ڈال کر این آر او لیا، مگر مَیں کسی دباؤ میں نہیں آؤں گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اپوزیشن اس بات کو غلط قرار دیتی ہے کہ حکومت سے کوئی این آر و مانگا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی تقریر کے فوراً بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں نے عمران خان کی طرف سے این آر او کے بار بار اظہار کو ان کے اندر کا خوف قرار دیا۔ مریم اورنگزیب نے یہ دلیل دی کہ نوازشریف نے کوئی این آر او کرنا ہوتا تو پاکستان واپس ہی نہ آتے۔

قمر زمان کائرہ کا استدلال تھا کہ آصف علی زرداری کے لئے مقدمے اور جیلیں کوئی نئی بات نہیں، وہ کسی این آر او کی خواہش نہیں رکھتے،تاہم یہ دونوں جماعتیں اِس حقیقت کو نہیں جھٹلا سکتیں کہ ماضی میں انہوں نے پرویز مشرف سے این آر او لیا، مقدمے ختم کرائے اور دوبارہ سیاست شروع کی۔ اِس لئے عمران خان کی اِس حد تک تو بات درست ہے کہ پرویز مشرف پر دباؤ ڈال کر این آر او کیا گیا۔ اب جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ اپوزیشن این آر او لینا چاہتی ہے یا نہیں تو غالباً این آر او کی بات وزیراعظم عمران خان اِس لئے کر رہے ہیں کہ اپوزیشن بلا جواز اُن کے خلاف محاذ بنائے کھڑی ہے، کوئی بڑا ایشو نہ ہونے کے باوجود اسمبلیوں کو چلنے نہیں دے رہی۔ مشترکہ اے پی سی بلائی جا رہی ہے اور یہ بیانیہ اختیار کیا جا رہا ہے کہ حکومت چونکہ مُلک نہیں چلا پا رہی اِس لئے اس کے خلاف قرار داد لانا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ سب کچھ آخر کس لئے کیا جا رہا ہے؟جب اسمبلیاں بھی موجود ہیں اور حکومت پارلیمینٹ کے اندر مباحثے کے لئے بھی تیار ہے۔ شہباز شریف کو سپیکر کے پروڈکشن آرڈر پر رہائی دے کر اسمبلی میں لایا گیا اور وہاں انہوں نے دو گھنٹے خطاب کر کے سب پہلوؤں کو آشکار کر دیا۔

دیکھا جائے تو این آر او کا ذکر اپوزیشن کی وجہ سے آ رہا ہے۔ اپوزیشن کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے بے تابی ہی وزیراعظم عمران خان کو یہ کہنے کا موقع دے رہی ہے کہ مجھ پر این آر او کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اِس بات کا اپوزیشن کے پاس کوئی ٹھوس جواب نہیں کہ وہ کیوں حکومت کے خلاف اے پی سی بُلا رہی ہے۔ کیا اِس لئے کہ حکومت کو پکڑ دھکڑ سے روکا جا سکے؟اس کے سوا تو اور کوئی مطالبہ ہے ہی نہیں،کیونکہ دھاندلی کے خلاف انکوائری کے لئے تو پارلیمانی کمیٹی بن چکی ہے تو کیا عمران خان کی یہ بات درست نہیں کہ اپوزیشن ایک این آر او مانگ رہی ہے،جو احتساب کے عمل کو بھی ٹھپ کر دے، جبکہ ایسا وہ سوچ بھی نہیں سکتے،کیونکہ کڑے احتساب کا وعدہ کر کے ہی وہ اقتدار میں آئے ہیں۔جب خواجہ سعد رفیق یہ کہتے ہیں کہ موجودہ احتساب انتقام ہے،عمران خان ایسا نہ کریں تو کیا وہ براہِ راست یہ پیغام نہیں دے رہے ہوتے کہ احتساب کا عمل روک دیا جائے۔ایسا بیان وہ اُس وقت دیتے ہیں جب عدالت اُن کی عبوری ضمانت کی مدت میں توسیع کر دیتی ہے۔

اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ عدالتیں آزادانہ کام کر رہی ہیں اور کسی کو بھی قانون سے ماورا پکڑ کر پابندِ سلاسل نہیں کیا جا سکتا، اتنی آزاد عدلیہ کی موجودگی میں انتقامی احتساب کی بات کچھ زیادہ قائل نہیں کرتی۔ مارشل لاء کا دور ہو تب تو ایسی کہانیاں بِک جاتی ہیں،مگر ایک ایسے دور میں جب جمہوریت پوری طرح بحال اور فعال ہے، سپریم کورٹ باز کی نظر رکھے ہوئے ہے، عدالتوں کے فیصلے نیب اور حکومت کو زچ کئے ہوئے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ انتقام کی بنیاد پر حکومت کیسز بنا سکے۔ خواجہ سعد رفیق باہر رہ کر تو ایسی کہانیاں سناتے ہیں، نیب سے کیوں بچ رہے ہیں۔اگر وہ اپنے کیسوں کو بے بنیاد سمجھتے ہیں تو پھر صفائی پیش کریں۔ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت لے کر تو وہ بے گناہ ثابت نہیں ہو سکتے۔

اگر وہ نیب کے پاس نہیں جاتے،عدلیہ سے ضمانت کی مدت بڑھاتے رہتے ہیں، کیا یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ وہ کسی این آر او کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ معاملہ بالا بالا ہی حل ہو جائے،حالانکہ موجودہ حالات میں یہ ممکن ہی نہیں۔ نہ تو قوم یہ چاہتی ہے اور نہ عدلیہ اس کی اجازت دے گی،خود نیب کے لئے بھی یہ ممکن نہیں کہ چلتے ہوئے کیسوں کو درمیان میں روک سکے۔بہتر تو یہی ہے کہ قومی سطح پر کوئی ڈیڈ لاک نہ پیدا ہونے دیا جائے،اداروں کو کام کرنے دیا جائے،جن پر کرپشن کے الزامات ہیں، وہ رائج طریقۂ کار کے مطابق اپنی بے گناہی ثابت کریں، این آر او جیسے چور دروازوں کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی،اب سیاست، حکومت، احتساب اور نظام انصاف میں ایک واضح شفافیت نظر آنی چاہئے۔ یہی ایک راستہ ہے جو حقیقی معنوں میں ہمیں نئے پاکستان کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم