مہک علی کی امریکہ میں مختلف میوزیکل شوز میں حصہ لینے کے بعد وطن واپسی

مہک علی کی امریکہ میں مختلف میوزیکل شوز میں حصہ لینے کے بعد وطن واپسی
مہک علی کی امریکہ میں مختلف میوزیکل شوز میں حصہ لینے کے بعد وطن واپسی

  

لاہور(فلم رپورٹر)معروف گلوکارہ مہک علی امریکہ میں مختلف میوزیکل شوز میں حصہ لینے کے بعد وطن واپس پہنچ گئی انہوں نے امریکہ میں دو ہفتے قیام کیا جہاں انہوں شگاگو میں پاکستانی کمیونٹی کے زیر اہتمام منعقدہ کنسرٹ شو میں اپنی آواز کا جادو جگایا گلوکارہ مہک علی نے کہا کہ امریکہ کا دورہ کامیاب رہا جہاں پاکستانیوں کے ساتھ بھارتی شائقین کی جانب سے بھی بے حد پذیرائی حاصل ہوئی بھارتی و پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد نے میری پرفارمنس کا خوب سراہا کینیڈا سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد نے شگاگو شو میں خصوصی شرکت کی جبکہ مجھے آئندہ کینیڈا میں بھی پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے کیلئے دعوت دے دی جو میں نے قبول کرلی انہوں نے کہا کہ آج کل کے دور میں میوزک کے دلدادا افراد لائیو پرفارمنس کو زیادہ پسند کرتے جبکہ سی ڈی پر پرفارمنس کرنے والے سنگرز کو پسند نہیں کرتے میری ہمیشہ کوشش رہی اپنے پرستاروں کے سامنے لائیو گلوکاری کا مظاہرہ کروں یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں سے امریکہ میں موجود پاکستانی کمیونٹی مجھے ہر سال پرفارمنس کرنے کیلئے دعوت دے رہی ہے جبکہ اب کینیڈا سے بھی دعوت مل چکی ہے انہوں نے کہا کہ اجکل گلوکار لائیو گانے کی بجائے سی ڈی کا استعمال کرتے ہیں۔

جس کی وجہ سے حقیقی ٹیلنٹ کھل کے سامنے نہیں آرہا مغربی میوزک نے ہمارے روائتی ثقافتی موسیقی کی شکل بیگاڑ کے رکھ دی ہے پاکستان ہو یا ہمسایہ ملک بھارت فلموں میں تیز بیٹ گانے شامل کیئے جار ہے جو حقیقت میں میوزک کوتباہ کر رہے ہیں انہون نے کہا ہم نے فلموں میں کمپیوٹر گلوکاروں کو پلے بیک سنگر کے طور پر متعار ف کروایا جارہا ہے جس کی وجہ سے نہ تو کوئی فلمی گانا مشہور ہورہا ہے اور نہ ہی فلموں کا میوزک ہٹ ہورہا ہے انہوں نے کہا کچھ نام نہاد میوزک ڈائریکٹروں نے میوزک کو کمپیوٹر تک محدود کردیا کوئی تخلیق کا کام ہی نہیں لیا جارہا ہے ٹیونر کا ستعمال شدید بڑھ چکا ہے آجکل تو کوئی بھی آرام سے سنگر بن سکتا ہے یہی وجہ سے مختلف ٹی وی فنکار گلوکاری بھی کر رہے جن کی بھونڈی پرفارمنس پر اجکل سوشل میڈیا پر تنقید کی زد پر بھی آچکے ہیں میری خیال میں جس کا جو کام ہے اسے وہی کام کرنا چاہئے گلوکاری کرنا اداکاری کرنا دونوں مختلف چیزیں ہیں اگر اداکار گلوکاروں کی جگہ لینا شروع کردینگے تو میوزک کی دنیا میں تباہی ہی آئے گیانہوں نے کہا کہ آجکل کی موسیقی اور کسی فلمی گانے میں وہ احساس محسوس ہی نہیں ہوتا جو ماضی کے گانوں اور میوزک میں محسوس کیا جاسکتا ہے ہم آج بھی ملکہ ترنم نورجہاں، لتا منگیشکر،مہندی حسن، نصرت فتح علی خان، ریشماں ،محمد رفیع،احمد رشدی،کشور کمار سمیت دیگر لیجنڈ گلوکاروں کی آواز میں ریکارڈ ہونے والے گانے سننے تو دل بار بار سننا چاہتا ہے جس کی برعکس آج کے دور میں ایک دو گانے ہی عوامی حلقوں میں پذیرائی حاصل کر پاتے ہیں اور وہ بھی چند ہفتے یا چند ماہ تک سننے کے بعد ماضی کا حصہ بن جاتے ہیں انہوں نے کہا اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ آج کل ہر انسان جلد بازی کا شکار ہے ہم سب کام جلدی میں کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے اب میوزک ڈائریکٹر بھی نہ تو اچھی دھنیں تیار کر پاتے ہیں اور نہ ہی کوئی اچھی آواز کو متعارف کروایا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ ماضی میں فلم ریلیز ہونے سے قبل فلم کا میوزک ریلیز کردیا جاتا تھا جس کی وجہ سے دو سے تین ماہ پہلے ہی گانے کیسٹ ،ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر سننے جاسکتے تھے جس کی وجہ سے بہت سے گانے زبان زدعام ہوئے اور جب فلم ریلیز ہوجاتی تھی ان گانوں کی وجہ سے فلمی بھی ہٹ ہوئی اور ان فلموں نے ریکاڑڈ بزنس بھی کئے انہوں نے کہا ہماری فلم انڈسٹری کے پروڈیوسرز کو چاہئے کہ وہ اپنی فلموں کا میوزک فلم ریلیز ہونے سے قبل ہی مارکیٹ میں متعارف کروادے تاکہ ان کی محنت کاوش کوئی تو رنگ لائے میں سمجھتی ہوں کہ میوزک ڈائریکٹروں نے میوزیشن کااستعمال طرق کردیا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال زیادہ کردیا ہے اور میوزک ڈائریکٹر حضرات خود بھی سنگر بن گے ہیں اور اجکل بعض اداکارائیں بھی سنگر بن چکی ہیں جو میرے خیال میں میوزک کی تباہی کا سبب بن رہی ہیں انہوں نے کہا جب تک فلم پروڈیوسرز ڈائریکٹرز اور میوزک ڈائریکٹرز فلموں شامل گانوں کی موسیقی کو اچھا وقت اور محنت سے کام نہیں کریں گے تب تک ہمیں اچھا میوزک سننے کو نہیں ملے گا۔

مزید : کلچر