صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ کی قابل رحم حالت ، حکومتی ادارے خاموش

صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ کی قابل رحم حالت ، حکومتی ادارے خاموش

خانقاہ شریف (نمائندہ پاکستان)ملک کی معروف نمغہ،کافی اور غزل گوصدارتی ایوارڈیافتہ گلوکارہ گل بہاربانو جو 1963میں کہرور پکا کی خاتون نواب بی بی کے ہاں پیدا ہوئیں ابھی یہ چھوٹی سی تھیں کی ان کی والدہ کوطلاق ہوگئی طلاق کے بعد ان کی والدہ نواب بی بی نے بھاولپورکے قصبہ خانقاہ شریف کے گلوکارافضل خان سے شادی کرلی اوراپنی بیٹی گل بہاربانوکوساتھ لائی ابتدائی تعلیم گل بہار نے گورنمنٹ گرلزہائی سکول خانقاہ شریف سے حاصل کی سکول (بقیہ نمبر34صفحہ7پر )

میں ترانے اورنعت پڑھتی تھیں آوازبہت اچھی تھی سکول مقابلوں میں ہمیشہ پہلے نمبر پرآتی تھیں ۔ اس قابلیت کودیکھتے ہوئے افضل خان نے اپنی سوتیلی بیٹی کو شاگردی میں لے کرنغمے کافی اورغزل گو بنادیا گھریلووجوہات کی وجہ سے اس کی ماں نواب بی بی کو طلاق دے دی اور گل بہار کواپنے پاس ہی رکھا ۔ شروع میں گل بہار شاد ی بیاہ کی محفلوں میں گاتی تھیں پھر بھاول پور ریڈیو میں گانا شروع کیا پھر پی ٹی وی میں پروگرام شروع ہوئے تو خانقاہ شریف کو چھوڑ کرمکمل طورپرکراچی میں سکونت اختیارکرلی ۔سعودی عرب ،دبئی ،لندن اورامریکہ میں بھی بڑے بڑے پروگرام کیے پاکستان سے صدارتی ایوارڈ حاصل کیا ۔شادی کے لیے کئی رشتے آئے مگرٹھکرادیے اوراپنے استاد افضل خان کو نا چھوڑا آٹھ نو ماہ قبل افضل خان بھی فوٹ ہوئے جن کی نعش گل بہار بانو اپنے ابائی گاؤں خانقاہ شریف لائی ا ورتدفن کے بعدواپس چلی گئیں ۔گذشتہ روز پولیس سمہ سٹہ کو اطلاع ملی سوتیلے بھائی ایاز نے گل بہار کو جائداد ہتھیانے کے لیے چار مہینے سے خانقاہ شریف میں اس ہی کی کوٹھی کے ایک کمرے میں قید کر رکھاہے جس پر پولیس نے رات کو چھاپہ مارکر بند کمرے سے بازیاب کرالیا جس کی خبریں ٹی وی چینل اوراخبارات میں چھپیں سوتیلے بھائی ملزم ایاز نے پولیس کو بیان دیاکہ ہم نے اسے جائداد کے لیے نہیں بلکہ علاج کے لیے بند کررکھاتھا جب سے میرے والد افضل خان فوت ہوئے ان کے صدمے کی وجہ سے یہ ذہنی مریض ہوگئی ہیں اوران کی یاداشت بھی ختم ہوگئی ہے اور کراچی کی ایک رپورٹ بھی پولیس کودیکھائی جس میں ان کو ذہنی مریض بتایا گیا ہے پولیس نے اس رپورٹ کی روشنی میں گل بہار کودوبارہ سوتیلے بھائی ایاز کے حوالے کردیاہے اور پاکستان کی صدارتی ایوارڈیافتہ گلوکارہ پھر بند کمرے میں بے یارومددگار بند ہیں پولیس کو چاہیے تھا کہ اس کا سرکاری طورپرمیڈیکل کرواتے اگروہ واقعی ذہنی مریض ہیں توحکومت اس کاعلاج کرواتی اور اس ذاتی جائداد اپنی تحویل میں لے لیتی جب تک وہ صحت یاب نا ہوجائیں ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر