مال مفت دل بے رحم ، سابق حکومتوں کی ناقص پالیسیا ، اقرباپروری ، متعدد قومی ادارے شکست وریخت کاشکات

مال مفت دل بے رحم ، سابق حکومتوں کی ناقص پالیسیا ، اقرباپروری ، متعدد قومی ...

ملتان( نیوز رپورٹر) سابق حکومتوں کی ناقص پالیسیوں ‘ اقربا پروری اورغیر پیداواری منصوبوں پر قرض کے اربوں روپے کے اخراجات کیوجہ سے متعدد قومی ادارے شکست و ریخت سے دوچار ہوچکے ہیں ‘ جن میں سٹیل مل ‘ قومی ائیر لائن ’پی آئی اے ‘ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن سمیت دیگرشامل ہیں ۔ پی آئی اے میں ناتجربہ کار افسران کی سفارشی بھرتی لاکھوں روپے ماہانہ پیکج اور کرپشن کے باعث آج قومی ائیر لائن 400 ارب روپے سے زائد کی مقروض (بقیہ نمبر18صفحہ12پر )

ہو چکی ہے ۔ پچھلی دو حکومتوں کے ادوار میں پی آئی اے اخراجات کی بھرمار نے ادارے کی آمدن و اخراجات کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے ‘ ستم ظریفی یہ ہے کہ صرف ملتان سٹیشن پر دیگر نجی ائیر لائن کے مقابلے میں سٹاف کی تعداد 500 گنا زیادہ ہے اور تنخواہوں کے علاوہ دیگر مراعات اور خاندان کی سطح پر لاکھوں روپے مالیت کی فری ٹکٹیں اضافی ہیں ‘ اسی طرح یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن جس کی ملک بھر میں 5 ہزار شاخیں ہیں جو ملک کے متوسط تنخواہ دار طبقے کو سبسڈائز اشیائے خورد و نوش و ضروریہ فراہم کر رہی تھیں وہ بھی سابق حکومت کی عدم توجہی اور بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور ملازمین کے مطابق پچھلے پانچ سالوں کے دوران یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے 12 ایم ڈی تبدیل کیے گئے ہیں اور ہر نئے آنیوالے ایم ڈی نے اس کارپوریشن کو بحران سے نکالنے کیلئے تو کچھ نہیں کیا لیکن اپنے روپے کھرے کر کے چلتا بنا ہے جس کے باعث یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آج 7 ارب روپے کی مقروض ہوچکی ہے ۔ سابق حکومت نے جب کارپوریشن پر سٹاک خریدنے کی پابندی لگائی تو اس وقت کارپوریشن کے گوداموں میں 4 ارب 58 کروڑ مالیت کا سٹاک موجود تھا تاہم روزمرہ کے استعمال میں آنیوالی اشیاء کا سٹاک اپنی آخری پیج پر ہے جبکہ کارپوریشن کی بحالی کیلئے 10 سے 11 ارب روپے کا سٹاک گوداموں میں ہونا لازمی ہے تنخواہ دار طبقے کو یوٹیلٹی سٹور سے سبسڈائز اشیاء کی خریداری سے بہت ریلیف ملنا تھا جو خواب سا نظر آ رہا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ موثر پالیسی کے تحت کارپوریشن کو ازسر نو بحال کرنے سمیت بہتر مینجمنٹ کا اہتمام کر کے بہت سے چولہے ٹھنڈے ہونے سے بچا سکتی ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ آخر