ہزاروں ملازمین بجٹ اعلان میں اضافہ شدہ تنخ واہ الاؤنس سے محروم

ہزاروں ملازمین بجٹ اعلان میں اضافہ شدہ تنخ واہ الاؤنس سے محروم

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)اسلامیہ یونیورسٹی کے ہزاروں ملازمین بجٹ اعلان میں اضافہ شدہ تنخواہوں اور اوور ٹائم سے تاحال محروم ہیں ۔ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے سال2018-19 کے سالانہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور کنوینس الاؤنس میں(بقیہ نمبر22صفحہ12پر )

50فیصد اضافہ کیا تھاجس کا نوٹیفکیشن یکم جولائی2018 کو ہو نے کے بعد اطلاق بلا تفریق صوبہ پنجاب کے تمام سرکاری و غیر سرکاری اور خود مختیار اداروں پر ہوچکا ہے۔ذرائع کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کے نوٹیفکیشن سے درجہ چہارم کے سرکاری ملازم کی ماہانہ تنخواہ میں لگ بھگ دو ہزار روپے اور اسی طرح دیگر چھوٹے ملازمین کی تنخواہو ں میں چھ سے سات ہزار روپے ماہانہ اضافہ ہونا تھا۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن کے اجراء کے باوجود اسلامیہ یونیورسٹی کے ملازمین کو تاحال اضافہ شدہ تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ا سلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے کیمپسزبہاولپور کے علاوہ بہاولنگر اور رحیم یارخاں میں تقریباً 12 سال سے قائم ہیں جہاں ملازمین کی تعداد کم و بیش 6 ہزار ہے جن میں دوہزار سے زائد اساتذہ جبکہ باقی افسران و چھوٹے ملازمین ہیں جو آئے روز بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث 10فیصد اضافہ سے پہلے ہی ناخوش دکھائی دیتے تھے اور اب رہی سہی کسر وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر مشتاق کی ملازم کش پالیسوں نے نکال دی ہے جس کے نتیجہ میں ہزاروں ملازمین کئی ماہ سے 10فیصد اضافہ سے بھی محروم ہیں۔ذرائع کے مطابق اس نوٹیفکیشن کا اطلاق چونکہ وائس چانسلر کی اپنی تنخواہ پر نہیں ہوتا کیونکہ حکومت پنجاب نے اس اعلان سے چند ماہ قبل پنجاب کے تمام وائس چانسلرز کی تنخواہیں 3 لاکھ60 ہزار سے 6 لاکھ8 ہزار روپے کر دی گئی تھیں۔ذرائع کے مطابق وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر مشتاق کے اس رویہ سے ہر چھوٹا بڑا ملازم ناصرف نا خوش ہے بلکہ اکثر تو بد دعائیں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کے ملازمین کا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ وائس چانسلر کو چھوٹے ملازمین کی مجبوریں اور ضروریات کا ذرا احساس تک نہیں ۔ ایک چھوٹے ملازم کو یہ ہی آسرا ہوتا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ میں اضافہ کے بعد اس کے گھریلو حالات شاید ہی کچھ بہتر ہوں لیکن افسوس ہے کہ ہمیں آج تک نہ اضافہ شدہ تنخواہوں ملی اور نہ ہی اوو ر ٹائم کی ادائیگی کی گئی ہے۔جبکہ بعض ملازمین کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر قیصر مشتاق ضد کے پکے ہیں اورسنڈیکیٹ کا اجلاس کرانے میں دو مرتبہ ناکامی کا غصہ چھوٹے ملازمین ، افسران اور اساتذہ کو جولائی2018 سے تاحال حکومت کی طرف سے بڑھی ہوئی تنخواہ اور ماہانہ اوورٹائم سے محروم رکھ کر نکال رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق یہی صورت حال یونیورسٹی ملازمین کو ہر ماہ ملنے والے اوورٹائم کی ہے جو کہ یونیورسٹی کے ملازمین کو ماہ جون سے تاحال نہیں ملا جبکہ وائس چانسلر ،خزانہ دار، کنٹرولر امتحانات ، رجسٹرار، آڈٹ آفیسر اور ان کے اسٹاف ممبران سمیت یونیورسٹی شعبہ جات کے ڈینز و چیئر مین شعبہ جات وغیرہ کو شام کی کلاسوں کے امور نمٹانے کے عوض لاکھوں روپے اسی سال جون کی 28 تاریخ کوجاری کر دیئے گئے ہیں جبکہ باقی یونیورسٹی ملازمین کو بجٹ ختم ہے کا بہانہ بنا کرمایوسی کے منہ میں دھکیل دیا ہے۔

تنخواہ الاؤنس

مزید : ملتان صفحہ آخر