نئی نسلوں کو صاف ستھراماحول مہیاکرنے کی ضرورت ہے‘ فیصل آبادچیمبر

نئی نسلوں کو صاف ستھراماحول مہیاکرنے کی ضرورت ہے‘ فیصل آبادچیمبر

فیصل آباد (بیورورپورٹ) آنے والی نسلوں کو صاف ستھرا ماحول مہیا کرنے کیلئے سنجیدہ اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے ۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے قائم مقام صدر میاں تنویر احمد نے ورلڈ وائڈ فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے زیر اہتمام پانی اور صنعتی کارکردگی میں اضافے بارے ایک آگاہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ دریائے راوی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے سے قبل ہی یہ دریا گندے نالے کی شکل اختیار کر لیتا ہے جبکہ پاکستان میں اس کے چار سو کلومیٹر حصے کی وجہ سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے اردگرد بسنے والی آبادیوں کی سماجی ، معاشی اور معاشرتی زندگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس دریا میں پاکستان کی صنعتوں کے گندے پانی کا بھی نکاس ہوتا ہے لیکن ان کا حجم بہت کم ہوتا ہے۔ فیصل آباد کے حوالے سے میاں تنویر احمد نے بتایا کہ فیصل آباد کی زیادہ تر صنعتیں برآمدی سامان تیار کرتی ہیں اور اس وجہ سے انہیں لازماً لیبر ، ماحول اور صنفی قوانین کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسی طرح یورپین یونین کی طرف سے ملنے والی جی ایس پی پلس کی سہولت سے فائدہ اٹھانے کیلئے بھی مقامی صنعتوں کو 27 مختلف قسم کے بین الاقوامی معاہدوں، کنوینشنز اور پروٹو کولز کی پابندی کرنا پڑتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ماحولیات کے حوالے سے کئی بڑے اور اہم اداروں نے واٹر ٹریٹمنٹ کیلئے از خود انتظامات کر رکھے ہیں ۔ مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ان کے صاف کئے ہوئے پانی کو دوبارہ گندے نالوں میں ڈال کر آلودہ کر دیا جاتا ہے جس سے اُن کی محنت اورواٹر ٹریٹمنٹ پر آنے والے اخراجات ضائع ہو جاتے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تجویز پیش کی کہ ہر صنعتی یونٹ کیلئے الگ الگ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کی بجائے شہر سے باہر مناسب جگہ پر مشترکہ اور بڑے سائز کے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے جائیں جہاں سے اس صاف پانی کو دریا برد کرنے سے قبل زرعی مقاصد کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ محکمہ ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر شوکت حیات نے کہا کہ فیصل آباد کے صنعتکاروں کو پانی کے استعمال میں کفایت شعاری کے ساتھ ساتھ گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کا بھی از خود انتظام کرنا چاہیے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ارجمند قیوم نے سمارٹ ماحولیاتی طریقوں پر روشنی ڈالی جبکہ فریش واٹر پروگرام کے سینئر آفیسر شعیب وسیم انور نے دریائے راوی کے قدرتی ماحول کو از سر نو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا کلیئر پروڈکشن انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروڈکشن شفقت اللہ نے کہا کہ دریائے راوی کو آلودگی سے بچانے کیلئے ماحول کو آلودہ کرنے والے عوامل کی روک تھام کے علاوہ گندے پانی کی ٹریٹمنٹ کیلئے بھی جامع حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بارے قائمہ کمیٹی کے چیئرمین انجینئر احمد حسن نے بتایا کہ دریائے راوی کو آلودگی سے بچانے کیلئے فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی صنعتوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ڈبلیو ڈبلیو ایف کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ فیصل آباد چیمبر ماحولیاتی آلودگی کے خاتمہ کیلئے اپنے ممبروں میں ضروری آگاہی پیدا کرنے کی ہر ممکن کوششیں کر رہا ہے ۔ آخر میں انہوں نے اس سیمینار کے مہمان مقرر ین اور شرکاء کا بھی شکریہ ادا کیا۔

مزید : کامرس