زرعی شعبے کی سمت کا تعین کر کے فلاحی اقدامات کئے جائیں گے،نعمان لنگڑیال

زرعی شعبے کی سمت کا تعین کر کے فلاحی اقدامات کئے جائیں گے،نعمان لنگڑیال

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(کامرس رپورٹر )صوبائی وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمدلنگڑیال نے کہا ہے کہ یہ ہماری بدقسمتی رہی ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے زراعت کے شعبے کا تعین کرنے کیلئے کسی نے زرعی پالیسی کی تشکیل پر زور نہیں دیا ۔زرعی پالیسی دراصل زراعت کی سمت کا تعین کرنے میں سب سے اہم کردار ادا کرتی ہے۔جب تک اس پالیسی کو تشکیل نہ دیا جائے اس وقت تک ہمیں ہماری ترجیحات کا اندازہ نہیں ہو سکتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آکر " زرعی ایمرجنسی" نافذ کرنے کا عندیہ دیاکیونکہ ہمارے علم میں ہے کہ ماضی میں کسانوں کا بری طرح استحصال کیا گیا ہے اور زراعت کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہماری حکومت نے آتے ہی زراعت کے شعبے کا تعین کرنے کیلئے زرعی پالیسی کی تشکیل پر زور دیا ہے۔یہزرعی پالیسی ہمارے زرعی شعبے کی سمت کا تعین کرے گی اور اس کی روشنی میں کاشتکاروں کی فلاح کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔زرعی پالیسی کی تشکیل ہماری حکومت کے100 روزہ ایجنڈہ کا اہم حصہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ زراعت پنجاب نے حکومت کے 100 روزہ پلان کے مطابق زرعی پالیسی کی تشکیل کے سلسلے ہونے والے ۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔

اجلاس میں عبدالحی دستی ،ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر محکمہ زراعت پنجاب،واصف خورشید سیکرٹری زراعت ،ڈاکٹر ظفر اقبال وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد،ڈاکٹر ثروت ناز مرزا پیر مہر علی شاہ یونیورسٹی روالپنڈی، ڈاکٹر آصف علی وائس چانسلر محمد نواز شریف زرعییونیورسٹی ملتان،ا حسان بھٹہ اسپشل سیکرٹری زراعت(مارکیٹنگ)،ڈاکٹر غضنفر علی ایڈیشنل سیکرٹری زراعت(پلاننگ)،فاطمہ بینش ساہی ایڈیشنل سیکرٹری(ٹاسک فورس)،محمد رفیق اختر ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات پنجاب وکاشتکار تنظیموں کے نمائندگان نے اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔

اجلاس میں ماہرین نے پالیسی ڈرافٹ کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی ۔اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب ملک نعمان احمد لنگڑیال نے اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے ۔ عبدالحی دستی ایڈوائزر ٹو چیف منسٹر محکمہ زراعت پنجاب نے اس موقع پر کہا کہ حکومت پورے اخلاص کے ساتھ کاشتکاروں کی فلاح کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔ہماری حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے مگر کاشتکاروں کی بہتری کیلئے ہم تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا کہزراعت کو ملکی معیشت میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 21فیصد سے زیادہ ہے جبکہ 80فیصد زرمبادلہ بھی زراعت یا زرعی مصنوعات سے حاصل ہوتا ہے جس میں پنجاب کا حصہ 70فیصد ہے۔ہماری90 فیصد زمینوں پر صرف پانچ فصلات(گندم،چاول،کپاس،گنا اور مکئی) کاشت کر رہے ہیں اور ہماری10 فیصد زمین ہائی ویلیو ایگریکلچر کیلئے استعمال ہورہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہائی ویلیو ایگریکلچر کو فروغ دیا جائے اورموسمی حالات اور ہماری زمینوں کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ دستیاب پانی کے وسائل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کاشتکاروں کیلئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے اور ایسی فصلات کی اقسام کی تیاری کی جائے جو سخت گرمی اور سردی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اورفارم کی سطح پر ہائی ایفیشنسی سسٹم کو فروغ دیا جائے تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو سکے۔آج کے اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس سے اس سمت کی تعین میں معاونت ملی ہے ۔اجلاس میں زراعت کی بہتری کیلئے شرکاء نے اپنی تجاویز پیش کیں اور زرعی پالیسی کے جلد نفاذ کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سمیت دیگر موثر اقدامات پر زور دیا۔

مزید :

کامرس -