پی ٹی سی ایل کی جانب سے اپنے ملازمین کے لیے چھاتی کے سرطان سے آگہی کی مہم

پی ٹی سی ایل کی جانب سے اپنے ملازمین کے لیے چھاتی کے سرطان سے آگہی کی مہم

لاہور(پ ر)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل ) نے دی پنک کلب کے زیر اہتمام چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کا انعقاد کیا، جس میں پی ٹی سی ایل کی تمام خواتین ایمپلائیز اورمرد ایمپلائیز کی خواتین فیملی ممبرزکے لئے خصوصی سیشن منعقد کیا گیا۔اس سیشن میں پی ٹی سی ایل ایمپلائی کی والدہ خانم ممتاز مرزا کی چھاتی کے سرطان سے جنگ کے متعلق اپنی آبیتی سناتے ہوئے اپنی بیماری کے سفر کے بارے میں بتایاکہ اس بیماری کی تشخیص، علاج، سرجری اور آپریشن کے بعد کی دیکھ بھال اور نفسیاتی اثرات کے مشکل عمل سے گزر کر انہوں نے اس بیماری کو شکست دی۔اس سیشن میں خو د تشخیصی طریقے کار کے ذریعے ابتدائی طور پر اس بیماری کا پتہ لگانے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی جس سے ابتدائی مرحلے میں ہی بیماری پر قابو پا یا جاسکتا ہے ،ایسی صورت میں بچنے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر اسما محفوظ، سینئر میڈیکل آفیسر،پی ٹی سی ایل نے خود تشخیصی کے طریقہ کار کی وضاحت کی۔

اور حاظرین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ تمام شرکاء کی جانب سے سیشن کے ا نعقادکو سراہا گیا۔

اس عزم سے یکجہتی کا ااظہار کرتے ہوئے، پی ٹی سی ایل کے آفیشل لوگو ((logoکو تمام سوشل میڈیا فورمز پر گلابی رنگ میں بدل دیا گیا، جو ماہ اکتوبر میں بھی اسی رنگ میں نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد میں پی ٹی سی ایل کے ہیڈکوارٹر کو گلابی رنگ کی روشنیوں سے روشن کیا گیا اور ملازمین نے اس عزم سے حمایت کے لیے علامتی طور پربیج بھی آویزاں کئے۔

حنا تسلیم ،جنرل منیجر ایچ آر اسٹریٹیجی، اورپی ٹی سی ایل پنک کلب کی بانی نے کہا :’’پنک کلب کو شروع کرنے کا ہمارا بنیادی مقصد پی ٹی سی ایل میں خواتین ایمپلائیز سے متعلق مسائل بشمول صحت، فلاح و بہبود اور ان کی حفاظت سمیت مسائل پر آگہی پیدا کرنا تھا۔ اس طرح کے سیشنز کا انعقاد کرکے، ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ تمام خواتین ایمپلائیز صحت کے مسائل اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے اقدامات کے بارے میں آگاہ رہیں۔ ہماری طرف سے یہ صحت مند ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے جو ملازمین کی جسمانی اور ذہنی بہبود کے لیے سازگار ہے۔‘‘

چھاتی کا سرطان خواتین کے لئے سب سے زیادہ اورعام طور پر ہونے والے سرطان میں سے ایک ہے، ہر آٹھ خواتین میں سے ایک اپنی زندگی میں اس بیماری سے متاثر ہوسکتی ہیں۔تاہم، ابتدائی تشخیص سے اس خطرے کو کم کر کے معمول کے مطابق زندگی گزاری جاسکتی ہے۔

مزید : کامرس