شرعی اور آئینی حکم کے مطابق سودسے پاک معاشی نظام لاگوکیا جائے، سراج الحق

شرعی اور آئینی حکم کے مطابق سودسے پاک معاشی نظام لاگوکیا جائے، سراج الحق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے شرعی اور آئینی حکم کے مطابق سودسے پاک معاشی نظام لاگوکیا جائے،ایف بی آر اورا نیب خودقابل احتساب ادارہ ہیں، آئی ایم ایف کے بارے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کے بیانات میں کوئی فرق نہیں ہے بس الفاظ اور زبان تبدیل ہوئی ہے،حکومتی مشیروں کو بس آئی ایم ایف کی دکان کا پتہ ہے۔ سوئس بینکوں سے رقم واپس نہ لانے والوں کی سیاست پر پابندی عائد کی جائے اوران کے شناختی کارڈز منسوخ کر دیے جائیں ، جو ناجائز اثاثوں کا ثبوت نہ دے سکے ریاست ان اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کرے۔ بے لاگ احتساب، دولت کی منصفانہ تقسیم اور انصاف کی بنیاد پر ترقیاتی فنڈز کی تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام’’پاکستان کا معاشی بحران : تدابیر ، حکمت عملی اور حل‘‘کے موضوع پر قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کانفرنس کی صدارت امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کی۔ماہرین معیشت نے کانفرنس میں اپنی تجاویزپیش کیں۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ خوشحال اور اسلامی پاکستانی پوری قوم کا متفقہ مطالبہ ہے غریب اور مقروض اس لیے ہیں کہ افرادی قوت سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا انسانی وسائل کی ترقی ہی روشن مستقبل کی ضمانت ہے پاکستان کا معاشی سسٹم وینٹی لیٹر پر ہے۔ یہی بات کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف کے پاس جائیں یا نہ جائیں کسی اور راستے پر جانے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا جاتا۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کسی قوم کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔خود فریبی کے راستے سے نکلنا ہو گا پاکستان کے حالات تبدیل کرنے کے لیے قوم کو خود تبدیلی کے لیے تیار ہونا ہو گا ،اسی طرح بحرانوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔سود کی بنیاد پر قرض عذاب ہے سودی نظام سے کوئی ملک نہیں چل سکتا کس نے منع کیا ہے کہ اخراجات کم نہ کریں ،برآمدات بڑھانے میں کیا رکاوٹ ہے اصل مسئلہ بد انتظامی ہے، 71سالوں کے بعد یہ سوچ رہے ہیں کہ معیشت کیسی ہو گی غیر دستاویزی معیشت کو با ضابطہ بنا دیں، پاکستان خوشحال ہو جائے گا 310ارب ڈالر سے زائد کی غیر دستاویزی معیشت ہے پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں ہے مگر آنے والی نسل کو بھی قرض کی ہتھکڑیاں پہنائی جا رہی ہیں۔حکومت کو ایسے مشیر ملے ہیں جو قوم کو آئی ایم ایف کی ہتھکڑیاں پہنانے کا مشورہ دے رہے ہیں یہ کیسے مشیر ہیں جو خود انحصاری کے بجائے پے در پے قرضوں کی طرف لیکر جا رہے ہیں اور ان مشیروں کو بس ایک آئی ایم ایف کی دکان کا ہی پتا ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قوم کو صحیح منزل دینے کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ یہی فقرے اور بیانات ہم سابقہ حکمرانوں سے سنتے تھے اب الفاظ اور زبان تبدیل ہو گئی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب جانا کوئی تبدیلی نہیں ہے،۔قومی کانفرنس میں ماہرین معاشیات نے اپنی تجاویز پیش کیں۔

مزید :

صفحہ آخر -