تیل کی بجائے پانی و کوئلے سے سستی بجلی پیدا کی جائے،اقتصادی ماہرین

تیل کی بجائے پانی و کوئلے سے سستی بجلی پیدا کی جائے،اقتصادی ماہرین

  

لاہور (اسد اقبال )ملک کے ممتاز اقتصادی امور کے ماہرین نے بجلی کے ٹیرف میں اضافے کے حوالے سے مشتر مفادات کی کونسل کی تجویز پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے بعض کا کہنا ہے کہ قومی معیشت کو دھارے میں لانے اور سرکلر ڈیڈ کو ختم کر نے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر ہے جبکہ بعض نے بجلی مہنگی کرنے کو مذید مہنگائی کا پیش خیمہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کی بجائے قدرتی وسائل سے بجلی کی پیداوار حاصل کر نے کے لیے تھنک ٹینک اقدامات اٹھائیں ۔ معاشی امور کے ماہر ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ ہمارے سرکلر ڈیڈ کافی حد تک بڑھ چکے ہیں جس سے نہ صرف بجلی بلکہ گیس کی قیمت پر بھی سبسٹڈی ختم کرتے ہوئے قیمت میں اضافہ کر نا چائیے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چائیے کہ جتنے بھی لو کل اور ایمپورٹڈ بجلی کے منصوبے ہیں ان کو ایک فارمولہ کے تحت آپریٹ کیا جائے اور تیل کی بجائے پانی و کوئلے سے سستی بجلی حاصل کی جائے ۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بے دریغ استعمال میں اعلی افسران کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے جن کو مفت بجلی دستیاب ہوتی ہے اس پر پابندی عائد کی جائے ۔ اقتصادی امور کے ماہر تیمور علی ملک اور نبیل محمود نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کے منفی اثرات ملکی معیشت پر پڑے گے جس سے مہنگائی بڑھے گی اور برآمدی آر ڈر منسوخ ہو جائے گے ۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کی بجائے بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری لانے کے لیے اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور پانی و ہوا سے سستی بجلی پیدا کی جائے ۔ انہوں نے مذید کہا کہ بجلی کی قیمت میں اضافے کا کوئی جواز نہیں اس سے انڈسٹری پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو نگے ۔

اقتصادی ماہرین

مزید :

صفحہ آخر -