سپریم کورٹ کا بیرون ملک جائیداد یں ظاہر نہ کرنیوالے 20افرا د کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

سپریم کورٹ کا بیرون ملک جائیداد یں ظاہر نہ کرنیوالے 20افرا د کو عدالت میں پیش ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے بیرون ملک اکاؤنٹس کیس میں بیرون ملک جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والے 20افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں بیرون ملک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے بیرون ملک جائیدادیں ظاہر نہ کرنے والے بیس افراد کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ ایف آئی اے نے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق 150افراد نے جائیدادیں ظاہر نہیں کی ہیں، بیرون ملک جائیدادوں کے حامل افراد 894 ہیں جن میں سے 374 نے ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھایا، 69 افراد نے اپنی جائیدادیں ظاہر کی ہیں جبکہ82 افراد نے جائیدادوں کی ملکیت سے انکار کردیا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ 150 افراد کی 203 جائیدادیں ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت نے ریکوری یونٹ قائم کردیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ڈی جی صاحب آپ کب کارروائیاں کریں گے ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ ایمنسٹی سکیم کی وجہ سے دو مہینے رک گئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بتائیں اس معاملے میں کیا کیا جاسکتا ہے۔ طارق باجوہ نے بتایا کہ بیرون ملک جائیدادوں کے کی کی سماعت فروری میں شروع ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا اس معاہدے کے تحت اب تک کیا معلومات نکالی ہیں۔ طارق باجوہ نے بتایا کہ اب پیسہ پاکستان سے باہر جانا بہت مشکل ہے۔ چیف جسٹس نے طارق باجوہ سے استفسار کیا کیا عدالت کسی کی بینک تفصیلات طلب کرسکتی ہے، کیا ان بینکوں کی بیرون ملک برانچوں سے تفصیلات طلب کرسکتے ہیں۔ گورنر سٹیٹ بنک طارق باجوہ نے جواب بتایا کہ بیرون ملک برانچزپر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا،چیف جسٹس نے کہا کہ برطانیہ نے صرف جائیدادوں کی تفصیلات دی ہیں کسی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات نہیں دیں۔ اٹارنی جنرل صاحب حکومت کس چیز کا انتظار کررہی ہے آپ کو بندوں کی نشاندہی کرکے دے دی ہے، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ قانون کے مطابق گرفتار نہیں کرسکتے چیف جسٹس نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے سو ارب روپے مالیت کی جائیدادوں کا بتایا ہے، ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ بیرون ملک جائیدادوں والے ہیں اکاؤنٹس والے نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا اس رقم کو واپس لانا کس کی ذمہ داری ہے۔ جائیداد رکھنے والے افراد کو عدالت میں حاضر کریں ہمیں لندن‘ دبئی اور دیگر ملکوں کے بارے میں معلومات چاہئیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اگر قانون میں سقم ہے تو ترمیم کریں۔ 100 ارب میں ہمارا ڈیم بھی بن سکتا ہے سپریم کورٹ نے بیرون ملک اکاؤنٹس کیس کی سماعت یکم نومبر تک ملتوی کردی۔سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا از خود نوٹس عبوری طور پر نمٹاتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کردی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ نے ڈی آئی خان میں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے ہر دو ماہ بعد پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ نے سکول طلباء کو منشیات فراہمی کی روک تھام کے لئے چاروں صوبوں اور وفاق کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت تین ہفتے تک ملتوی کردی۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں سکول طلباء کو منشیات فراہمی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پنجاب اور اسلام آباد نے رپورٹس جمع کرائی ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سندھ نے بھی انسداد منشیات کی رپورٹ جمع کرائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر تھانیدار کو پتہ ہوتا ہے کون منشیات بیچ رہا ہے، نمائندہ پنجاب پولیس نے بتایا کہ رواں ماہ 408 مقدمات ،کل پانچ ہزار رپورٹس درج ہو ئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے انٹرنیٹ سے رپورٹ ڈاؤن لوڈ کرکے پیش کردی۔ سی سی پی او نے بتایا کہ بارہ ملزمان گرفتار‘ شراب کی چار فیکٹریاں بند کی ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ منشیات سے بچے متاثر ہورہے ہیں مزید ڈیٹا فراہم کریں اور رپورٹ ماہانہ بنیادوں پر جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کیس کی سماعت تین ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے بھارتی ڈی ٹی ایچ باکس کے معاملے پر چیئرمین ایف بی آر،پیمرا،ممبر کسٹمز اور ڈی جی ایف آئی اے پر مشتمل کمیٹی قائم کرتے ہوئے دس روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ڈی جی پیمرا نے عدالت کوبتایا کہ ما رکیٹ میں موجود ڈیوائسز کو پکڑنے ی ضرورت ہے۔ چیف جسٹس نے ڈی جی پیمرا کو ہدایت کی کہ تو پھر انہیں جا کر پکڑیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس میں منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی ہے، عدالت نے چیئرمین ایف بی آر،پیمرا،ممبر کسٹمز اور ڈی جی ایف آئی اے پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی۔

سپریم کورٹ

لاہور(سپورٹس رپورٹر) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ حکومت کو نوجوانوں کیلئے زیادہ سے زیادہ گراؤنڈ بنانے چاہئیں جبکہ خواتین کھلاڑیوں کیلئے بھی مردوں کے برابر زیادہ فنڈز مختص کرنے اور سہولیات دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بھی مردوں کی طرح کھیل کے میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواتین فٹبال چیمپئن شپ کے فائنل میچ میں بطور مہمان خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ وہ گراؤنڈ میں خواتین کو کھیلتے دیکھ کربہت خوش ہو ئے ہیں اور دعا کرتا ہوں کہ پوری قوم خوش وخرم رہے اورمایوسی ہمارے قریب نہ آئے ۔انہوں نے فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی تعریف کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ کھیل کے میدان ہو نے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین مردوں سے ذہانت،پاکستان کیلئے محبت اوردیگر امور میں کم نہیں۔ اداروں اور بینکوں کو چاہئے کہ وہ آگے آئیں اور فیڈریشنز کی مدد کریں۔اس موقع پر پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر سید فیصل صالح حیات نے چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ کا سٹیڈیم میں آنے پر شکریہ ادا کیا۔

مزید : صفحہ اول