فالودے والے ، کلرک اور ٹیچر کے بعد دھوبی کی بھی جعلی کمپنی نے نقاب

فالودے والے ، کلرک اور ٹیچر کے بعد دھوبی کی بھی جعلی کمپنی نے نقاب

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )فالودے والے، کلرک، اسکول ٹیچر اور فوت ہوئے شخص کے بعد اب دھوبی کا نمبر آگیا، ٹنڈو محمد خان کے دھوبی کے نام جعلی کمپنی نکل آئی۔'اپنی کمپنی' کا علم خود دھوبی کو منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) سے ملے نوٹس سے ہوا۔25 ہزار قرض لے کر بغیر بینک اکاؤنٹ کے کام کرنے والے طارق سعید کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ نوٹس کے مطابق اس کی کمپنی نے ایک کروڑ 40 لاکھ روپے کی لوہے کی خریداری بھی کی۔جے آئی ٹی نے طارق کو تفتیش کیلئے کراچی بھی طلب کیا ہے اور خریدوفروخت کے معاہدے کی کاپی، بلز اور بینک کی تفصیلات طلب کی ہیں۔طارق کا کہنا ہے کہ وہ مزدور آدمی ہے، اس کا کوئی بینک اکاؤنٹ بھی نہیں ہے پھر وہ معاہدہ اور خرید وفروخت کی تفصیلات کہاں سے لائے گا۔ اس سے قبل اورنگی ٹاون کے فالودے شربت والے عبدالقادر کے اکاؤنٹ میں دوارب 25 کروڑ روپے کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔عبدالقادر اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی سے لاعلم رہا اور اس کا کہنا تھا کہ میں انگوٹھا چھاپ آدمی ہوں، اردو میں دستخط نہیں کرسکتا، انگریزی میں کیسے کروں گا؟اس کے علاوہ لاڑکانہ کے ایک طالب علم کے نام پر بھی بڑی تعمیراتی کمپنی نے اکاؤنٹ کھولا اور اس اکاؤنٹ میں 14۔2013 کے دوران ڈیڑھ ارب روپے کی ٹرانسیکشنز ہوئیں تاہم طالب علم اس سے لاعلم تھا۔

مزید : صفحہ اول