مہنگائی کہاں پہنچ گئی ، جعلی مینڈیٹ والے وزیر اعظم مخالفین کو دھمکیاں نہ دیں : فضل الرحمن

مہنگائی کہاں پہنچ گئی ، جعلی مینڈیٹ والے وزیر اعظم مخالفین کو دھمکیاں نہ دیں ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) جمعیت علماء اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پچھلی حکومت میں ڈالر کی قیمت 106 روپے پر مستحکم رہی‘ زرمبادلہ کے ذخائر 24.4 ارب ڈالر تھے جو آج 14ارب ڈالر رہ گئے ہیں‘ دو ماہ میں مہنگائی کہاں پہنچ گئی ہے‘ ایسے وزیراعظم جو جعلی ہوں ان کے پاس مینڈیٹ نہ ہو وہ دھمکیاں نہ دیں۔ جمعرات کو مولانا فضل الرحمن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی حکومت بنی اور اپنے ہی بنائے ہوئے احتساب کمیشن کو تحلیل کردیا۔ کس منہ سے احتساب کی بات کی جارہی ہے دوسری جماعتوں کے کرپٹ لوگ جماعت میں بھرتی کئے گئے۔ باتیں کرتے ہیں کہ دوسروں کا احتساب ہوگا تین دہائیوں سے ہم اس ملک میں احتساب کی باتیں سنتے آرہے ہیں سیاسی کارکنوں نے جلا وطنی دیکھی ہیں یہ احتساب نہیں یہ احتساب اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کا نام ہے۔ وہ اپنی سیاست کریں گے ہمیں اپنا کام کرنا ہے۔ جو آمرانہ ذہنیت رکھ کر حکومت چلا رہے ہیں وہ مخالفین کو دھمکیاں نہ دیں۔ مہنگائی کہاں پہنچ گئی اشیاء خوردو ونش کی قیمتیں کہاں چلی گئی ہیں جہانگیر ترین اور پرویز خٹک جیسے لوگ پی ٹی آئی میں شامل ہیں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ہمارے رابطے اور ہوم ورک آخری مراحل میں ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستان کو ایک کرپٹ اور دیوالیہ کے طور پر پیش کیا گیا پچھلی حکومت میں ڈالر کی قیمت 106 روپے پر مستحکم رہی۔ 14 ہزار یوٹیلٹی سٹورز ملازمین کو بے روزگار کردیئے گئے۔
مولانا فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -