حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر عالمی کانفرنس آج شروع ہو گی

حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر عالمی کانفرنس آج شروع ہو گی

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) الشیخ السیّد علی بن عثمان الہجویری المعروف بہ حضرت داتا گنج بخشؒ کے 975ویں سالانہ عرس مبارک کی تقریبات کے سلسلے میں محکمہ اوقاف و مذہبی امورپنجاب اور سید ہجویر فاؤنڈیشن کی جانب سے دو روزہ عالمی کانفرنس بعنوان شیخ علی ہجویریؒ کا اسلامی تصوف کے احیاء میں کردار کا افتتاح آج ہو گا ۔ یہ عالمی کانفرنس 26تا 27اکتوبر2018بمطابق 16تا 17صفر المظفر1440ھ داتادربار میں ہوگی، جس میں وطنِ عزیز پاکستان کے علاوہ ، معاصر اسلامی دنیا تیونس، مصر، ترکی، افغانستان ، ایران، ہندوستان،برطانیہ، نیویارک، مدینہ منورہ، عراق، لندن کی معروف دانشگاہوں اور علمی حلقوں کی معتبر شخصیات شرکت کرینگی ۔افتتاحی نشست کی صدارت گورنر پنجاب چودھری محمد سرورکریں گے جبکہ سید سعید الحسن شاہ وزیر اوقاف ومذہبی امور پنجاب مہمان خصوصی ہوں گے اور سجاد میر ممتاز تجزیہ کار/ کالم نگار ، الشیخ فضل بن محمد القیروانی التونسی (تیونس) ، الدکتور احمد حسن قاضی (طیبہ یونیورسٹی ، مدینہ منورہ)، الشیخ عمر سلیم البغدادی (بغداد ، عراق)، ڈاکٹر علی اکبر رضائی فرد (ایران)، الشیخ السید انتصار الحسن شاہ (لندن)، الشیخ المفتی عبدالرحمن قمر (نیویارک)، ڈاکٹر محمد سلیم مظہر(پنجاب یونیورسٹی) خصوصی مقالات /خطبات پیش کریں گے ۔نشست دوم 3:30بجے سہ پہر ہو گی۔ 27اکتوبر 2018ء (ہفتہ) 09:30بجے صبح کانفرنس کی تیسری نشست ہو گی۔ ۔27اکتوبرکوہی چوتھی نشست ہو گی جس میں پروفیسر احمد رفیق اختر ، مجیب الرحمن شامی، ہارون الرشید، ارشاد احمد عارف، حامد میر ، ملک خالد یعقوب ، اجمل جامی اور ضیاء الحق نقشبندی بطور مہمان اعزاز ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مقامِ مسرت ہے کہ اس دوروزہ عالمی کانفرنس میں ، وطنِ عزیز پاکستان کے معروف ومعتبر سکالرز اور ہجویریات کے ماہرین کے علاوہ معاصر اسلامی دنیا کے سکالرز اپنے وقیع مقالات و خطبات کے ذریعے حضرت داتا گنج بخشؒ کے پیغام کی حقیقی روح کو عام کریں گے۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں حضرت داتا گنج بخشؒ کے احوال و افکار سے صحیح معنوں میں مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے وہ حیات بخش افکار اور تعلیمات ، جن کو حکیم الامت حضرت اقبال جیسی عبقری شخصیت نے اپنے فلسفے کی اساس اور فکر کی بنیاد بنا کر مخالف قوتوں سے گریز کی بجائے، ان سے نبرد آزما ہو کر انہیں مسخر کرنے کی تعلیم دی۔۔۔ کہ یہی انسانی زندگی کی رمزِ بقا اور اساسِ حیات ہے۔ حضرت داتا گنج بخش ؒ کی زندگی اسلامی سیرت کا ایسا عمدہ نمونہ تھی جس میں کسبِ علم، تہذیب نفس، تبلیغ اسلام اور اصلاح معاشرہ جیسے عمدہ محاسن اور اعلیٰ مقاصد نہایت آب و تاب کے ساتھ چمک رہے تھے، آپ نے آذربائیجان ، خراسان ، ترکستان، شام ، عراق ، خوارستان، گرگان، فارس جیسے سنگلاخ اور دور اُفتادہ علاقوں کے سفر کیے اور ایک ہزار سال قبل لاہورکو اپنے قدوم میمنت سے یوں سرفراز کیا کہ گویا یہ خطہ آپ کے نام نامی اور اسم گرامی سے منسوب ہو کر "داتا کی نگری"بن گیا، بلکہ حضرت اقبال نے تویوں فرما دیا:

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -