عمران خان۔۔۔حکمت،سفارت کاری

عمران خان۔۔۔حکمت،سفارت کاری
عمران خان۔۔۔حکمت،سفارت کاری

  

تحریک انصاف نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے ورثے میں مسائل ہی مسائل ملے ہیں۔ قرضوں کا بوجھ، تباہ حال معیشت، بجلی بحران، گیس کی قلت، مہنگائی، بیروزگاری، 30ہزار ارب روپے کا بیرونی قرضہ بھی اقتدار کے ساتھ تحفے میں ملا ہے۔22سال کی طویل جدوجہد کے بعد وزیراعظم کی کرسی حاصل کرنے والے عمران خان نے اپنی ماضی کی روایات کو برقرار رکھا ہے، مشکل حالات میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اپنانے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستقل بنیادوں پر معیشت کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کا لائحہ عمل طے کیا ہے۔

اس کے لئے قوم کو اعتماد میں لینے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے کفایت شعاری اور سادگی کے عمل کا آغاز کیا ہے، کرپشن، لوٹ مار اور قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کا عزم بھی کیا ہے۔وزیراعظم بننے کے بعد عمران خان نے پہاڑ جیسے مسائل کو حکمت سے حل کرنے کے لئے مختلف شعبوں کے تجربہ کار افراد کی خدمات بھی حاصل کیں۔آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے قرضوں کی بروقت ادائیگی بظاہر مشکل ہی نہیں، ناممکن نظر آ رہی تھی۔ گزشتہ حکومتوں نے جب بھی قرضہ لیا آئی ایم ایف کی شرائط عوام پر مسلط کیں، عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ عمران خان نے گزشتہ حکومتوں کی طرف سے لئے گئے قرض اور ڈوبتی ملکی معیشت کی ناؤ کو پار لگانے کے لئے جب کابینہ اور عوام کے سامنے ساری صورتِ حال کھول کر رکھ دی اور پھر آئی ایم ایف کی کڑوی گولی کھانے کے حوالے سے بھی عوام کو اعتماد میں لے لیا۔ ایک ماہ پہلے جب 30ہزار ارب روپے کے قرضے کے بوجھ اور سود کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب کا دورہ کیا اور ان کے سامنے پاکستانی معیشت کی صورتِ حال رکھی تو وزیراعظم کو حوصلہ افزا جواب نہ ملا۔ سلام ہے عمران خان کو اس نے ہمت نہ ہاری اور سفارت کاری میں بھی نئی روایت قائم کر کے دکھا دی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جس انداز میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان اور کشمیر کا کیس پیش کیا وہ بھی انفرادیت کا حامل ہے، انڈیا کو جنرل اسمبلی میں اس کا اصلی چہرہ دکھانا عمران خان کا ویژن ہے۔

سعودی عرب کے پہلے دورے میں کچھ نہ ملنے کی وجہ سے وزیراعظم کو مایوس ہو کر آئی ایم ایف کے ساتھ قوم کے سالہا سال سے قائم رشتے کو دوام بخشنا چاہئے تھا۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر قوم کو گروی رکھنا چاہئے تھا،مگر مردِ درویش نے اپنے وزیر خزانہ سمیت معاشی ٹیم کو پھر سر جوڑ کر بیٹھنے کے لئے کہا اور دو ٹوک انداز میں حکم دیا ایسا لائحہ عمل تشکیل دیا جائے، عوام پر کم از کم بوجھ ڈالا جا سکے،عمران خان کی دور اندیشی نے پھر کام دکھایا۔ انہوں نے دوبارہ اپنے دوست اور برادر ملک سعودی عرب جانے کا فیصلہ کر لیا، ریاض میں ہونے والی اسلامک بزنس کانفرنس میں شریک ہونے سمیت ملائشیا اور چین کے دوروں کا فیصلہ بھی کیا اور باقاعدہ ایجنڈا طے کیا کہ دوست ممالک کو پاکستان کے اندرونی مسائل سے آگاہ کر کے مدد کی درخواست کی جائے۔23اکتوبر کو اپنے مختصر وفد کے ساتھ مدینہ منورہ میں حاضری دینے کے بعد ریاض کانفرنس میں شرکت کی اور کھل کر زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔ مشکل وقت کے ساتھی سعودی عرب کے فرمانروا خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے انفرادی اور اجتماعی ملاقاتوں میں بہترین انداز میں اپنا کیس پیش کیا اور بتایا کہ تجارتی بجٹ خسارہ ورثے میں ملا ہے، قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضوں کی ضرورت ہے۔

عمران خان کی ولی عہد، وزیر خزانہ، تجارت، توانائی کے وزراء سے ملاقاتیں رنگ لائیں، اللہ کا کرم ہو گیا، سعودی عرب نے بغیر شرائط کے 12ارب ڈالر کا پیکیج منظور کر لیا، اس میں تین ارب ڈالر ایک سال کے لئے پاکستانی اکاؤنٹ میں رکھنے کی بھی منظوری دی،9ارب ڈالر کا اُدھار تیل دینے کا بھی فیصلہ ہوا۔ وزیراعظم کے مختصر دورے میں آئل ریفائنری منصوبے پر بھی تفصیلی بات ہوئی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے لئے سعودی وزٹ ویزہ فیس میں کمی کی منظوری بھی دی گئی۔ عمران خان نے وطن واپسی پر قوم کو سارے حقائق بتانے کے لئے اعتماد میں لیا اور قوم سے خطاب میں اس پراپیگنڈے کو مسترد کر دیا کہ ہم نے قرضہ کسی بلیک میلنگ میں لیا ہے، اپوزیشن کی جماعتیں جو گزشتہ نصف صدی سے دائیں اور بائیں بازو کی سیاست کی خوگر نظر آتی تھیں، تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے50 دِنوں میں ہی انہیں گرانے اور گھر بھیجنے کے لئے گٹھ جوڑ کرتی نظر آئیں۔ افسوسناک پہلو جو ہمارے جمہوری رویوں میں نظر آیا وہ مشکل وقت میں سہارا دینے کی بجائے حکومت گرانے کی مہم جوئی ہے۔

پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے گٹھ جوڑ کا پراپیگنڈہ کرنے والی مسلم لیگ(ن) پیپلزپارٹی کے ساتھ رشتے قائم کرنے کے لئے بے تاب نظر آئی۔ پیپلزپارٹی کو ملک دشمن، اسلام دشمن قرار دینے والی جماعت اسلامی بھی ایم ایم اے کا حصہ ہونے کی وجہ سے پیپلزپارٹی، مسلم لیگ(ن) اور ایم ایم اے کے پلیٹ فارم پر50 دِنوں کی حکومت کو گھر بھیجنے کے مشن کا حصہ نظر آ رہی ہے۔31اکتوبر کی اے پی سی ایم ایم اے کی سیاسی بصیرت کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ(ن)، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کرنے جا رہی ہے، مسلکی جماعتوں کی تیزی سے پروان چڑھتی اڑان کا گِلا کرتی مذہبی جماعتیں، جماعت اسلامی ہو یا جے یو آئی یا جے یو پی سب کو اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کسی جماعت کو (این آر او) نہ دینے، سب کو احتساب کی چکی میں پیسنے کے اعلان نے کرپٹ مافیا کی نیندیں اُڑا کر ر کھ دی ہیں، محسوس ہو رہا ہے

ملائشیا اور چین سے کامیاب سفارت کاری کے بعد عمران خان کو بڑا سہارا مل جائے گا اور پھر اپنے عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی طرف آنے کا موقع ملے گا۔وزیراعظم عمران خان کی طرف سے سعود ی عرب کے دورے کے دوران ملکی معیشت کی حقیقت بتانے اور قرضوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضوں کی صورتِ حال بتانے کو ہمارے بعض دانشور اور اینکر غلط رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھانے کی باتیں کرنے والوں کو اس بات کا علم ہونا چاہئے، اب انٹرنیٹ اور فیس بُک، واٹس اَپ کا دور ہے، پوری دُنیا ہم سے واقف ہے۔ اب تو لیڈر باتھ روم میں بھی چاروں اطراف دیکھ کر جاتے ہیں، ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، حکومت کو کام کرنے کا موقع دینا چاہئے،گھیراؤ مٹاؤ کے لئے بڑا وقت درکار ہے، اپوزیشن کو بھی تاریخ دہرانے سے پہلے جائزہ لینا ہو گا کہ ہم ملک کے ساتھ ہیں یا اقتدار کے ساتھ؟ میڈیا کو بھی جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا ہو گا، اچھے کام کو اچھا کہنے کی روایت قائم کرنا ہو گی۔

مزید : رائے /کالم