طاقتور طبقے فی الحال کسی سیاسی یتیم کو گود نہیں لینا چاہتے

طاقتور طبقے فی الحال کسی سیاسی یتیم کو گود نہیں لینا چاہتے
طاقتور طبقے فی الحال کسی سیاسی یتیم کو گود نہیں لینا چاہتے

  

تجزیہ:ایثار رانا

یہ ماننا پڑے گا کہ مولانا فضل الرحمان کو چائے کی پیالی میں طوفان کھڑا کرنا آتا ہے ہو سکتا ہے وہ ایک اے پی سی بھی کرا لیں لیکن اصل گیم یہ ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری ایک تھکے ہارے شیر کو کچھار سے نکالنا چاہتے ہیں ، اس بہانے وہ میاں نواز شریف کے دم خم کے ساتھ ان کی منصوبہ بندی اور یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میاں صاحب موجودہ حکومت کو کس حد تک ٹف ٹائم دینا چاہتے ہیں، چاہتے بھی ہیں یا نہیں، دوسری جانب میاں نواز شریف بھی آصف علی زرداری کے حوالے سے کس خوش فہمی کا شکار نظر نہیں آتے، یہی وجہ ہے کہ وہ آصف زرداری کی جانب سے باربار تکرار کے جواب دینے میں بہت محتاط ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ماضی کے ہمجولی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ میں ’’ٹرسٹ، ڈیفیسٹ‘‘ کم نہیں ہو رہا ہے۔ میاں شہباز شریف کی معافی بھی کسی کام آتی نظر نہیں آتی۔ شاید آصف زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان عدم اعتماد کی فضا سے طاقتور طبقے اور عمران خان بخوبی واقف ہیں اور وہ اپوزیشن کو بار بار غصہ دلا رہے ہیں ساتھ ساتھ اپوزیشن کی دکھتی رگ یعنی احتساب احتساب کہہ کر انہیں خوفزدہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان این آر او نہ دینے کا کہہ رہے ہیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ اس میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ حقیقت ضرور ہے۔ میں پہلے بھی اس بات کا عندیہ دے چکا ہوں کہ ان کے سخت حالات کے باوجود میاں فیملی کی پر اسرار خاموشی یقیناًکسی بات کی جانب اشارہ کرتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ذہنی طور پر یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ وہ فی الحال عمران حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اصل مسئلہ مولانا فضل الرحمان کا ہے جنکا کشمیر کمیٹی اور پارلیمنٹ سے پیار محبت عشق اور اب جنون میں بدل چکا ہے۔ وہی اپنے بیانات سے تھوڑا بہت رونق میلا لگا رہے ہیں۔

سعودی عرب سے واپسی کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے اعتماد میں بہت واضح اضافہ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے مقتدر ادارے جس روڈ میپ کا تعین کر چکے ہیں بظاہر اس میں کسی سیاسی یتیم کو گود لینے کے آثار نظر نہیں آتے۔ جاتے جاتے ایک اہم خبر آنے والے چند دنوں میں پی ٹی آئی حکومت اپنے ایک اہم ترین عہدیدار کو فارغ کرنے جا رہی ہے۔ اس کا تعلق کے پی کے سے ہے فیصلہ ہو چکا بس اعلان کے وقت کا تعین ہونا باقی ہے۔

تجزیہ:۔ ایثار رانا

مزید :

تجزیہ -رائے -