خیبر اسلام آباد میں فاٹا ہاؤس انضمام کے بعد صوبائی حکومت کے حوالے

خیبر اسلام آباد میں فاٹا ہاؤس انضمام کے بعد صوبائی حکومت کے حوالے

خیبر (بیورورپورٹ )اسلام آباد میں قبائلی عوام کی بجٹ80ملین سے تعمیر کیا گیا فاٹا ہاوس انضمام کے بعد صوبائی حکومت کی حوالے کیا گیا فاٹاہاوس 2016میں مکمل کیا گیا تھا لیکن قبائلی عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہواسابق فاٹا پارلیمنٹرین کو فاٹاہاوس صرف دیکھایا گیا تھا تیس کمروں پر مشتمل تمام سہولیات سے آراستہ فاٹا ہاوس کو تقریبا دوسال پہلے چائینہ حکومت نے چالیس ہزار ڈالرماہانہ کی کرایہ پر بھی مانگا تھا لیکن انہیں نہیں دیا گیا اب صوبائی حکومت سے ٹوروازم ڈیپارٹمنٹ نے درخواست دیکر مانگ لیا ہیں ،مصدق ذرائع کے مطابق فاٹا سکرٹریٹ نے اسلام آباد کے بہترین ایر یا میں تیس کمروں پر مشتمل تمام سہولیات سے آراستہ فاٹا ہا وس اس وقت 80ملین سے تعمیر کیا گیا تھا جب فاٹا میں تمام انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا تھا ور قبائلی عوام بے گھر ہو گئے تھے اور فاٹا کے عوام کو فنڈ اور امدا کی اشد ضرورت تھی 2016میں فاٹا ہاوس کو مکمل کیا گیا اور سابق فاٹا پارلمینٹرین کووزٹ بھی کرایا لیکن فاٹا پارلمینٹرین سمیت عوام کو کوئی فا ئدہ نہیں ہوا کیونکہ انضمام کے بعد اب فاٹا ہا وس صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا فاٹا ہاوس کو ٹوروزم ڈیپارٹمنٹ نے باقاعدہ طور صوبائی حکومت کو درخواست دی ہے کہ فاٹا ہاوس انکو دیا جائے تاکہ سیاحوں کو وہاں سٹے کراسکے اسی طرح دوسرے ڈیپا رٹمنٹ بھی فاٹا ہا وس میں دلچسپی لیتے ہیں لیکن صوبائی حکومت سے سرکاری طور پر رابطہ نہیں کیا گیا اس طرح پشاور صدر میں خیبر ہا وس جو کینٹ ایر یا میں واقع ہیں 1890میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ تعمیر کیا تھا اس کے بعد تقریبا چھ سال پہلے سابق پولیٹیکل ایجنٹ نے خیبر ہاوس میں تعمیراتی کام بھی کیا گیا لیکن انکی مستقبل ابھی واضح نہیں ہیں بلکہ ذرائع کے مطابق کینٹ بورڈ صوبہ کی ملکیت ہیں اسی طرح پاڑا چنار میں 1895میں گورنر کاٹیج جو تاریخی اہمیت کی حامل ہیں تعمیر کیا گیا جس پر بھی بہت سے ڈیپارٹمنٹ کی نظر ہیں اسی طرح باجوڑ اور میران شاہ میں تاریخی اثاثے ہیں لیکن جو انکی مستقبل بھی واضح نہیں ہیں یہ تمام تا ریخی اور قیمتی اثاثے پہلے قبائلی عوام کی ملیکت تھی لیکن اب انضمام کے بعد صوبائی حکومت کی ملکیت بن جائی گی لیکن بعض اثاثوں کی مستقبل اب بھی واضح نہیں ہیں

مزید : کراچی صفحہ اول