سرکاری ملازمین کی کوارٹرزسے بید خلی کا نوٹس 24گھنٹوں کے اندر واپس لینے کی مہلت

سرکاری ملازمین کی کوارٹرزسے بید خلی کا نوٹس 24گھنٹوں کے اندر واپس لینے کی ...

  

پشاور(سٹی رپورٹر)آل پاکستان کلرکس یسوسی ایشن (ایپکا)کے صدرپرنس فرمان علی خان یوسفزئی نے کہاہے کہ پبلک سروس کمیشن کی ملازمین کی حیثیت واضح کرنے اورملازمین کی سرکاری کواٹرزسے بیدخلی سے متعلق جاری نوٹسز کوواپس لینے کیلئے صوبائی حکومت کو 24گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں صوبائی حکومت اور گورنر ملازمین نے مسائل 24گھنٹوں کے اندر اندرملازمین کی مسائل حل نہ کیے تو24گھنٹوں بعد قلم چھوڑ ہڑتال کرکے اسمبلی کے سامنے دھرنا دینگے اورپیلک سروس کمیشن کی افس کاگھیراؤکرئینگے گزشتہ روز پشاور پریس کلب میں سیکشن آفیسرسی ایم سیکریٹریٹ غنی الرحمن ،ڈاکٹرممتازخان اوردیگرملازمین کے ہمرانہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ صوبائی حکومت کی جانب سے پبلک سروس کمیشن کے ملازمین کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے ،صوبائی حکومت نے تاحا ل پبلک سروس کمیشن کی ملازمین کاحیثیت واضح نہیں کی ہے جس ملازمین تذذب کے شکار ہوئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب سرکاری کواٹرزمیں مقیم پبلک سروس کمیشن کے ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے بیدخل کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے نوٹسز جاری کردیئے ہیں۔ان کاکہناتھاکہ عمران خان ایک طرف 50لاکھ گھروں کی تعمیر کی باتیں کر رہیں، جبکہ دوسری طرف سرکاری ملازمین کو سرکاری کوارٹر ز سے محروم کر رہے ہیں،ان کاکہناتھاکہ حکومت نے پبلک سروس کمیشن کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رکھا ہے اور ابھی تک یہ واضح نہ کر سکا کہ پبلک سروس کمیشن خودمختار ادارہ ہے یا صوبائی حکومت کے زیر تحت ادارہ ہے کیونکہ پبلک سروس کمیشن کی آمدنی پر فنانس ڈیپارمنٹ قابض ہیں جبکہ ملازمین کے تمام معاملات بھی مذکورہ محکمہ حل کرتے ہیں اور ملازمین کو سول سرونٹ تصور کرتے ہیں دوسری طرف پبلک سروس کمیشن کو خود مختار ادارہ ظاہر کررہا ہے تاہم ابھی تک صوبائی حکومت پبلک سروس کمیشن کے ملازمین کو صوبائی اسمبلی ، پشاور ہائی کورٹ اور دیگر خومختار اداروں کی طرح مراعات دینے میں ناکام ہیں ملازمین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثارپبلک سروس کمیشن کے حیثیت کا ازخود نوٹس لیکر عدالتوں کو مس گائیڈ کرنے والے اور ادارے خودمختار ثابت کرنے والوں کے خلاف کاروائی کریں ۔ملازمین نے مطالبہ کی صوبائی حکومت کمیشن کے ملامین کو سول سیکر ٹریٹ کے ملازمین کے برابرحیثیت اور مراعات دیں۔ملامین کا کہنا ہے کہ عمران خان ایک طرف 50لاکھ گھر بنانے کے اعلانات کر رہیں اور دوسری جانب صوبائی حکومت نے پبلک سروس کمیشن کے دو درجن سے زائد ملازمین کو سرکاری کوراٹرز خالی کرنے کیلئے نوٹسز ایشو کر دیئے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے اور سراسر ظلم ہے ۔ ملازمین کے مطابق وہ بالکل قانونی طور پر سرکاری کوارٹرز میں مقیم ہیں ، صوبائی حکومت نے نئی قانون سازی میں پبلک سروس کمیشن کے ساتھ زیادتی ہے، ملازمین نے دھمکی دی کہ اگرصوبائی حکومت نے 24گھنٹوں کے اندر پبلک سروس کمیشن کی حیثیت واضح نہیں کی او رملازمین کو سرکاری کوارٹر ز خالی کرنے کے نوٹسز واپس نہیں لیے تو کمیشن کے ملازمین سمیت دیگر منسلک صوبائی محکمہ جات کے ملازمین ہزاروں کی تعداد میں نکل کر صوبائی اسمبلی کا گھیراوں کرینگے ۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -