مہمند ،ڈی آئی جی کا مامد گٹ تک مختلف پوسٹوں کا دورہ

مہمند ،ڈی آئی جی کا مامد گٹ تک مختلف پوسٹوں کا دورہ

مہمند ( نمائندہ پاکستان) قبائلی ضلع مہمند میں تھانوں کے جائزہ لینے کیلئے ڈی آئی جی پولیس کا دورہ۔ مامد گٹ تک مختلف پوسٹوں کا معائنہ۔ پولیس نظام اور آفسران کے دورے کے خلاف قبائلی جرگہ سرپا احتجاج۔ چاندہ بازار کے مقام پر باجوڑ پشاور شاہراہ کو چار گھنٹے تک بند رکھااور روڈ پر دھرنا دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر اپر مہمند اور مہمند رائفلز ونگ کمانڈر کے ساتھ مذاکرات اور ڈی آئی جی کو واپس نہ آنے کی یقین دہانی پر احتجاج موخر کر دیا گیا۔ مہمند گرینڈ جرگہ پیر کے روز دوبارہ طلب۔ پر امن قبائلی نظام کے بدلے پولیس اور عدالت کا پیچیدہ نظام کسی صورت قبول نہیں۔ قیام پاکستان اور استحاکم پاکستان کیلئے عمائدین نے جانی و مالی قربانیاں دی ہے۔ گورنر خیبر پختونخواہ قبائلی جرگے کے ساتھ وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔ مظاہرے سے قومی مشران کا خطاب۔ تفصیلات کے مطابق قبائلی ضلع مہمند میں جمعرات کے روز ڈی آئی جی پولیس (مردان) اور دیگر حکام کے ہمراہ ضلع مہمند کا دورہ کیا۔ اس موقعہ پر ڈپٹی کمشنر مہمند محمد واصف سعید بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ اور تحصیل مامد گٹ تک مجوزہ پولیس چیک پوسٹوں اور تھانوں کیلئے جائزہ لیا۔ اس دوران تحصیل حلیمزئی غازی بیگ کے مقام پر پولیس نظام کے خلاف تحصیل بائیزئی، تحصیل حلیمزئی، تحصیل خویزئی، تحصیل پنڈیالئی، تحصیل امبار اور دیگر اقوام کے سرکردہ مشران پر مشتمل گرینڈ مہمند گرجہ جاری تھا کہ قومی مشران کو ڈی آئی جی پولیس کے دورے کی اطلاع ملی۔ جس پر قومی مشران نے جرگہ ادھورا چھوڑ کر تحصیل حلیمزئی چاندہ بازار کے مقام پر باجوڑ پشاور شاہراہ کو ہر قسم ٹریفک کیلئے چار گھنٹے تک بند کر دیااور روڈ پر دھرنا دیا۔ جس سے سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ گورنر نے پولیس اور دیگر بندوبستی علاقوں کے نظام لانے سے پہلے قبائلی عمائدین کو اعتماد میں لینے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر قبائلی مشران کے ساتھ مشاورت کئے بغیر پویس حکام نے چوری چھپے مہمند کا دوری کیا۔ جس پر سارے قوم میں اشتعال پایا جاتا ہے۔ قومی مشران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام نے قیام پاکستان اور تحریک آزادی میں انگریز سامراج کو اپنے علاقوں میں شکست سے دوچار کیا۔ جبکہ کشمیر کی آزادی اور 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں قبائلی عوام اور مشران نے قیمتی نذرانے پیش کر کے ملک کی سلامتی اور استحکام میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔ اب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی قبائلی مشران نے حکومت اور سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ جانی قربانیاں دیکر امن بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ مگر بد قسمتی سے گزشتہ حکومت نے فاٹا اصلاحات کے نام پر قبائلی پر امن نظام اور رسم و رواج کو ختم کرنے کا بل یک طرفہ طور پر منظور کیا۔ حالانکہ قبائلی عوام کی اکثریت اور قبائلی عمائدین نے شروع ہی سے اصلاحات کے نام پر عوامی منشاء کے خلاف پولیس اور عدالتی نظام کی بھر پور مخالفت کی اور اب تک اپنے جائز تحفظات کو اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کئے۔ جس پر موجودہ گورنر خیبر پختونخواہ نے بھی قبائلی عمائدین کو ان سے مشاورت کے بعد کسی تبدیلی لانے کی یقنی دہانی کی تھی۔ مگر اس کے باؤجود قوم کو اعتماد میں لئے بغیر پولیس لانا اور ان پر پولیس نظام مسلط کرنے کی کوش کی گئی جو کہ کسی صورت قبائی عوام کیلئے قابل قبول نہیں۔ مقررین نے کہا کہ قبائلی علاقہ جات کو تعمیر و ترقی اور ہنگامی بنیاد پر سکولوں، ہسپتالوں اور سڑکوں کی ضرورت ہے۔ مگر حکومت نے سب سے پہلے قبائلی اضلاع میں جیلوں کی تعمیر کا اعلان کر کے قبائل کو مزید بد ظن کر دیا ہے۔ اس دوران تحصیل صافی لکڑو اور لوئر مہمند یکہ غنڈ میں بھی روڈ کو بند کر دیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر مہمند نائب دین اور مہمند رائفلز ونگ کمانڈر رانا سعید نے مشتعل قبائلی مشران کے ساتھ طویل مذاکرات کئے۔ قبائلی مشران کی ڈی آئی جی کی واپس غلنئی کے راستے روڈ پر نہ آنے کی یقین دہانی پر قومی مشران نے احتجاج موخر کر کے روڈ کھول دیا۔ جس کے بعد قومی مشران جرگہ دوبارہ ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ قبائلی مشران کمانڈنٹ مہمند رائفلز اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ پیر کے روز مہمند گرینڈ جرگہ کی مشاورت کے بعد ملاقات کر کے انہیں قومی مشران اور عوام کی پولیس نظام کے خلاف تحفظات سے آگاہ کیا جائیگا۔ قومی مشران نے اعلان کیا کہ پیر کے روز گرینڈ جرگہ میں تمام اقوام کے قومی مشران، سابقہ و موجودہ پارلیمنٹیرینزکو دعوت نامے جاری کئے جائینگے۔ قومی جرگہ نے وزیر اعظم، گورنر خیبر پختونخواہ اور دیگر سول و عسکری حکام سے مطالبہ کیا کہ قبائلی عوام کے ساتھ وعدوں کو ایفا کیا جائے۔ اور کسی بھی تبدیلی یا نظام لانے کیلئے قومی مشران اور عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ کیونکہ قبائل کی اکثریت رسم و رواج اور لیویز و خاصہ دار فورس کے نظام میں خوش ہیں۔ اس لئے کسی بھی دوسرے فیصلے کے مسلط ہونے سے قوم اور حکومت کی بد اعتمادی کے ذمہ دار تبدیلی ک ذمہ دار حکام ہونگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر