اکادمی ادبیا ت کے زیراہتمام ادبی بیٹھک کا اہتمام

اکادمی ادبیا ت کے زیراہتمام ادبی بیٹھک کا اہتمام

کراچی( اسٹاف رپورٹر) اکادمی ادبیا ت پاکستان کے زیراہتمام ادبی بیٹھک کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی اس موقع پر ملک کے ممتاز مترجم،صحافی ادیب رشید بٹ نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ اُس دور کی تاریخ اور جغرافیے پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اُن صحرائی راستوں پر متعدد نخلستانوں میں چھوٹی بڑی کئی ایسی ریاستیں ، مملکتیں اور شہری ریاستیں قائم تھیں جن کا آج نشان تک نہیں مِلتا اور اگر کہیں مِلتا بھی ہے تو بعد ازاں وجود میں آنے والے ملکوں کے چھوٹے بڑے قصبوں کی صورت میں مبتلاً افغانستان کا قصبہ یا شہر بلخ جواُس زمانے میں ترکستان کی ایک ریاست تھا اور افغانستان ثابت بحیثیت ملک موجود تک نہ تھا۔اِسی طرح نیاً اور خُتن کی مملکتیں تھیں۔ دلچسپ صورت جانئے کہ اُس دور میں یورپ کے خطۂ یونان میں بھی شہری ریاستیں وجود رکھتی تھیں ۔ بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں جب چینی شہنشاہیت خاصی کمزور تھی اِس خطے میں جو اُس وقت چینی ترکستان یاشین چیانگ (سنکیا نگ یا چین کی نئی سرحد)کہلاتا تھا، صحرائی طوفانوں اور بگولوں کی زد میں آکر کئی شہر ، ریاستیں، مملکتیں اور قصبے ٹیلوں کی صورت اختیار کر گئے ۔ اُن کے اچھے دنوں میں جو علاقے سرسبز و شاداب تھے۔اُن میں بنی ہوئی یا آویزاں خوبصورت دیوار گیر تصویریں اور مجسمے آثارِ قدیمہ اورکھنڈرات کی صورت اختیار کرگئے۔ یہی دور ہے جب زارشاہی روس، برطانوی ہند اور چین ، وسط ایشیا ۔ کے خطے میں اپنے اپنے سیاسی اور فوجی اثرات مستحکم کرنے کے لئے ’’گریٹ گیم‘‘ کا کھیل ، کھیل رہے تھے۔ ’’گریٹ گیم‘‘ کا مطلب ہی یہی تھا کہ اُن علاقوں کو اپنے زیر اثر لایا جائے اورصحراؤں تلے دبے خزینوں سے استفادہ کیا جائے۔اُدھر برطانیہ بھی اس راہداری میں حصہ داری میں دلچسپی رکھنے والا ایک اہم ملک بنتا جارہاہے۔ ہر آن بدلتے جغرافیائی حالات میں اس سارے خطے کے چھوٹے بڑے ممالک چین کے پروں تلے چلے آرہے ہیں۔ کیایہ چین کا کے جدید نو آبادیاتی نظام پی ئی کی ایک شکل ہے؟ وہ کولمبو کے قریب سری لنکا سے ایک بے آباد علاقے کو ۹۹ برس کی لیز رہ کروہاں ایک جدید شہر کی تعمیر میں بھی معروف ہے۔ جہاں شاید سری لنکن آبادی کا داخلہ ’’ممنوع‘‘ ہوگا۔ اور’’ ممنوع‘‘ نہ بھی ہوا تو صرف اہل مال وزر یا چینوں کے کامدارہی آجاسکیں گے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ علاقہ بحرہند کے بے کراں ہانیوں پرچینی بحری تسلط کا ایک اہم جزوبن کے رہ جائے گا جہاں کوئی اور بحری طاقت پرتیں مار سکے گی۔ مجید رحمانی نے کہاکہ اس کے سوویت یونین سے روسی فیڈریشن بننے مں افغانستان ، پاکستان اور امریکا نے کیا کرداراداکیا۔ اُس سے پہلے ہمیں تاریخ اور جغرافیائی کیفیت دوسو برس تک اس کیفیت میں گھماتی پھراتی ہے کہ روس کی صدیوں پر محیط یہ خواہش پور ی نہ ہوسکی کہ وہ ایسی بحری بندرگاہوں تک پہنچ جائے جو سارا سال کھلی رہیں۔ساکادمی ادبیات پاکستان سندھ کے ریزیڈنٹ ڈائریکٹر قادر بخش سومرو ر نے کہا کہ پاکستان سے ملحق چینی علاقہ سنکیانگ نسلی اور مذہبی اعتبار سے چینوں سے بالکل الگ تھلک یک نسلی آبادی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر