ریاست مدینہ کی تشکیل اورپاکستان

ریاست مدینہ کی تشکیل اورپاکستان

وزیراعظم عمران خان اپنے کئی خطابات میں اس بات کااظہار کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان کومدینہ جیسی ریاست بناناچاہتے ہیں۔اس میں کیاشک ہے کہ یہ ایک اچھاعزم ہے لیکن عزم کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔جب بھی کوئی پاکستان میں اسلام کاقانون نافذ کرنے کا اعلان کرے گاتواسلام دشمنوں کو تکلیف ہوگی اورپاکستان پرپابندیاں لگیں گی۔ان حالات میں اگرہم پابندیوں کامقابلہ کرنا‘ اغیارکی غلامی کی زنجیروں کوتوڑنا‘ پاکستان کوآزاد اور خودمختار ریاست بنانا، اس میں بسنے والوں کی آزادی کی حفاظت کرناچاہتے ہیں توپھر اس کایقینی راستہ یہی ہے کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں ریاستِ مدینہ جیسی ریاست بنادیاجائے۔جب محمدرسول اللہ ﷺمدینہ میں تشریف لائے اس وقت مدینہ ایک چھوٹی سی بستی تھی پھریہ بستی سے شہراورشہر سے اسلامی ریاست بن گئی۔آئیے ۔۔۔!دیکھتے ہیں کہ چھوٹی سی بستی اسلامی ریاست کیسے اورکیوں کربن گئی۔رسول اللہ ﷺ کی آمدسے پہلے مدینہ میں اوس وخزرج کے دوبڑے قبیلے آباد تھے۔باقی یہودی قبیلے بنوقریظہ‘بنونضیر اور بنوقینقاع آباد تھے۔سب سے پہلے مکہ سے مسلمان مدینہ منورہ پہنچناشروع ہوئے ،پھرجیسے جیسے جزیرۃ العرب میں اسلام کی دعوت پھیلتی چلی گئی مسلمان کشاں کشاں مدینہ منورہ کارخ کرنے لگے ،چنانچہ مدینہ کی آبادی بڑھنے لگی ۔یہ ایساوقت تھاجب وسائل کم اور معاشی مسائل بہت زیادہ تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں ہفتوں کے ہفتے گزر جاتے ہمارے گھرمیں چولہا نہ جلتا اورکھانا نہیں پکتاتھا۔ لوگ کھجوریں یادودھ دے جاتے بس اس پرہم گزارا کرتے تھے۔یہ نبی ﷺکے گھر کی حالت تھی۔ مدینہ کے اکثرگھروں کی یہی صورتحال تھی۔ اس کے بعد جوں جوں اسلام غالب آتاچلاگیا‘ اسلامی قوانین نافذ ہوتے چلے گئے‘اللہ کی حدیں نافذ ہوناشروع ہوئیں‘ اللہ کے احکامات پر عمل ہوناشروع ہوگیاتومدینہ کی ریاست کامل ومکمل،خوشحال اور فلاحی اسلامی ریاست بنتی چلی گئی۔

جزیرۃ العرب کی دوسری بڑی طاقت یہودتھے ۔یہودنے سودپرقرضے دے دے کر جزیرۃ العرب کی ایک بڑی دولت پر قبضہ کر رکھا تھا لیکن رسول اللہﷺنے ریاستِ مدینہ کا ایسا مضبوط نظام بنادیا کہ یہودی بھی مدینہ کے باجگزاربن گئے۔اس کے بعدجب تبوک میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کوفتح سے نوازا، قیصر روم نے اپنی شکست قبول کرتے ہوئے محمدرسول اللہﷺکے سامنے سرنڈر کردیاتورسول اللہﷺنے ایک بڑا لشکر تیارکرکے خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کے سپردکیااور فرمایا:خالدجاؤ!شام کے آس پاس جتنی صلیبی ‘عیسائی ریاستیں ہیں‘سب کو میرا پیغام پہنچادو کہ مسلمان ہوجاؤ‘ہم آپس میں بھائی بن جائیں گے۔ تمہارے حقوق کے ہم محافظ ہوں گے لیکن جولڑناچاہیں ان سے لڑکر زیرکردینا، سب غنیمتیں مدینہ میں پہنچا دینا اور جونہ لڑیں ‘سرنڈرکرجائیں‘مدینہ کی حکمرانی کوتسلیم کرلیں‘ انہیں کہہ دیناکہ وہ ٹیکس اداکریں ہم ان کی جان ومال ، عزت آبرو کی حفاظت کریں گے اوروہ سب امن میں رہیں گے۔دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم قبضے نہیں کرتے‘ خون نہیں بہاتے بلکہ ہم دنیا میں امن قائم کرنے آئے ہیں۔چنانچہ جب خالدبن ولیدرضی اللہ عنہ ان علاقوں میں پہنچے توکوئی بھی مقابلے میں نہ آیا۔سب نے کہا‘اگر محمدﷺکے مقابلے میں قیصر روم جو اس وقت دنیا کی سپرپاور تھا‘ کھڑا نہیں رہ سکاتو اور کون مقابلہ کر سکتاہے۔سب نے کہاہم مدینے کوجزیہ دیں گے اور ٹیکس اداکریں گے۔ پھریہ کیفیت بنی کہ جزیرۃ العرب اوردیگرتمام مفتوحہ علاقوں سے مالِ غنیمت کے قافلے ریاستِ مدینہ پہنچنے لگے ،اردگرد کی حکومتیں بھی مدینہ کوٹیکس دینے لگیں۔یہ سب نبی ﷺکی زندگی میں ہی ہوگیاتھا۔ صحابہ کرام نے یہ سب مناظررسول اللہﷺ کی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لئے اوریہ تمام واقعات دنیاکے لئے مشعل راہ بن گئے کہ مدینہ کی ریاست کیسے بنی اورکیسے معرض وجودمیں آئی۔ان سب واقعات میں پاکستان کوریاست مدینہ جیسا ماڈل بنانے والوں کے لئے بھی ایک پیغام اورسبق ہے۔

پاکستان کوریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے والوں کو یہ حدیث بھی ضرورپیش نظررکھنی چاہئے جس میں عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جس دن مسلمان ہوا مدینہ میں آکرنبی اکرم ﷺکے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھا ‘ اسلام کی بیعت کی ‘اس دن نبیﷺنے مجھے کہاتھا‘ اے عدی!اس میں شک نہیں کہ اس وقت راستے غیرمحفوظ اور حالات کچھ پریشان کن ہیں‘ لیکن جلد تواپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ ایک شخص زکوٰۃ دینے کے لیے نکلے گا‘زکوۃ دینے کے لئے پھرے گالیکن ہرگھر سے آواز آئے گی ہم توزکوٰۃ دینے والے ہیں ‘لینے والے نہیں ۔عدی رضی اللہ کہتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے جوفرمایا تھا‘میں نے اپنی آنکھوں سے اسے پوراہوتے دیکھ لیا۔ایک شخص زکوٰۃ لے کے نکلتاہے‘کوئی اس کی زکوٰۃ قبول کرنے والا نہیں ہوتا۔ شام کواپنامال واپس لاکربیت المال میں جمع کروا دیتاہے گویا‘ جو بات نبی ﷺنے فرمائی تھی‘ وہ پوری ہوگئی۔ اس موقع پر نبیﷺنے ایک اور بات بھی کہی تھی، اس کو بھی سمجھ لیں۔ عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبیﷺنے مجھے فرمایا تھا اے عدی! راستے اتنے محفوظ ہوجائیں گے کہ کوئی خوف وخطرنہیں رہے گا،چوری ڈاکہ نہیں ہو گا،کسی کے حق پر کوئی قبضہ نہیں کرے گا،کوئی کسی کاحق نہیں چھینے گا۔راستے مکمل پرامن ہوجائیں گے۔عزتیں ،جانیں اورمال اس قدر محفوظ ہو جائیں گے کہ حیرہ کے علاقے سے ایک عورت زیورات سے لدی پھندی مال لے کے اپنی سواری پرحج کرنے کے لیے مکہ ومدینہ آئے گی‘ آتے ہوئے اس کوکسی سے خطرہ نہ ہوگا اور جب حج کرکے واپس جائے گی ‘پھربھی اس کوکوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ (عدی کہتے ہیں میں نے دل میں سوچا وہ عورت قبیلہ طے کے ڈاکوؤں سے کیسے بچ سکے گی)لیکن عدی کہتے ہیں ‘ نبیﷺکی یہ بشارت پوری ہوگئی۔میرے سامنے یمن کے علاقے حیرہ سے ایک عورت زیورات پہن کے مال ودولت سے لدی ہوئی حج کے لیے مکہ آتی ہے‘ پھر واپس جاتی ہے۔ اس کونہ عزت کا خطرہ‘ نہ جان کاخطرہ‘نہ مال کاخطرہ،نہ آتے ہوئے خطرہ‘ نہ جاتے ہوئے خطرہ۔میں نے اپنی زندگی میں یہ سب دیکھ لیا‘ نبیﷺنے جوکچھ فرمایاتھاسب پوراہوگیا۔

اے پاکستان کے حکمرانو!

اگرکلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے اس ملک کومدینہ جیسی ریاست بناناچاہتے ہوتوآؤ! رسولﷺ کابتایاہواراستہ اورطریقہ اختیارکرو جس پرچل کرآپ نے یثرب نامی ایک چھوٹی سی بستی کواپنے وقت کی سب سے بڑی اورسب سے طاقتورریاست کادارالخلافہ بنادیاتھا۔نبوی راستہ اورطریقہ یہ ہے کہ اللہ کی شریعت کومکمل نافذ کرو‘ان شاء اللہ پاکستان مدینہ جیسی ریاست بن جائے گا،یہاں امن وامان قائم ہوجائے گا،فرقہ واریت اور اس سے جنم لینے والا تشدد ختم ہوجائے گااور دہشت گردی کابھی خاتمہ ہوجائے گا۔یادرکھودہشت گردی اور تشددیہ سب فتنے اور خرابیاں مسلمانوں کے زوال اوراسلام سے دوری کاتحفہ ہیں۔ جب ملکوں اورمعاشروں میں اسلام کی حکمرانی نہ رہی تومسلمان کمزورہوگئے، فرقہ فرقہ ہوگئے اورایک دوسرے پرفتوے لگانا شروع کردیے۔ان چیزوں سے آپس کے لڑائی جھگڑے بڑھ گئے۔فرقہ وارانہ تشدداورلڑائی جھگڑے ریاستِ مدینہ کے بانی جناب محمدالرسول ﷺ کی تعلیمات کے منافی ہیں۔آج مغرب مسلمان کومسلمان سے لڑانے اور مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے پرتلابیٹھاہے۔ چونکہ پاکستان بھی کلمہ طیبہ کی بنیادپرمعرض وجودمیں آیاہے پاکستان میں اللہ تعالیٰ کے دین سے محبت کرنے والے لوگ بہت زیادہ ہیں۔لہذا مغرب کی کوشش ہے کہ پاکستان کو اسلام سے دورکیاجائے اوراسے دہشت گرد ریاست کے طورپر دنیاکے سامنے پیش کیا جائے۔اس مقصد کی خاطرپاکستان کے مسلمانوں کو فرقوں کی بنیاد پرتقسیم کرنااورلڑانا ان کا بھیانک منصوبہ ہے۔ بھارت اوردیگراسلام دشمن ممالک اس سلسلے میں بھرپور کرداراداکر رہے ہیں۔دشمن کے ان ناپاک منصوبوں کو سمجھنے،پرکھنے اوران کاتدارک کرنے کی ازحد ضرورت ہے۔آج دنیامیں جتنے فتنے کھڑے ہیں ‘دہشت گردی اور فرقہ واریت کوجس طرح فروغ دیاجارہاہے، ہمارے پیارے نبی ﷺکی باربار توہین کی جاتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام دنیا میں تیزی سے پھیل رہاہے۔ یورپ کے بہت سے ممالک میں مسلمان بڑھ رہے ہیں۔اسلام اورمسلمانوں کے اس پھیلاؤ کوروکنے کے لیے وہ مسلمانوں کو باہم لڑاتے اور گستاخانہ خاکے بناتے ہیں تاکہ مسلمان جب ردِّعمل میں کوئی انتہائی اقدام کریں توپھرانہیں دہشت گرد قرار دیاجائے۔اس سازش کو سمجھنے اورناکام بنانے کے لیے صرف احتجاج یاقانون سازی کافی نہیں ہے‘ اگرچہ دنیامیں ایساقانون بنانابھی ضروری ہے جس میں تمام انبیاء علیھم السلام کی شان اقدس کاتحفظ ہولیکن مسئلے کااصل حل یہ ہے کہ مسلمان اپنے ملکوں میں محمدﷺکانظام جو آپ نے ریاست مدینہ میں قائم کیاتھا۔۔۔وہ نظام جاری کریں۔

جب مسلمان ملکوں میں مدینہ کی ریاست کانظام قائم ہو گاتو دنیاکوپتہ چلے گا کہ مدینہ والے پیغمبرﷺکانظام کس قدر مثالی، پرامن اورعادلانہ ہے تو ان کے دلوں میں اسلام کی محبت اور ہمارے نبی ﷺکی عظمت وعقیدت جاگزین ہوگی۔وہ دل سے قائل ہوں گے کہ اسلام دنیاکاسب سے پرامن دین ہے ایسادین کہ جس میں جانوروں کے حقوق کابھی تحفظ ہے اوردنیاکوایسامثالی نظام پیش کرنے والے کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتے۔جب ہم یہ نظام قائم کریں گے تو اس کے زیادہ فوائد بھی ہمیں ہی ملیں گے۔اس نظام کے قیام سے ان شاء اللہ محکوم مسلمانوں کی غلامی کی زنجیریں ٹوٹیں گی ، آزادیاں مستحکم ہوں گی،دفاع،معیشت زراعت سمیت تمام مسائل حل ہوں گے اورہمارے ملک کودرپیش پانی سمیت تمام مسائل حل ہوں گے ۔خوشی کی بات ہے کہ آج ہمارے وزیراعظم اور چیف جسٹس بھی پانی کے بحران کی سنگینی اورڈیموں کی ضرورت محسوس کررہے ہیں لیکن ہمارے ان تمام مسائل ومصائب کا جو اصل ذمہ داربھارت ہے اس کانام لینے کے لئے کوئی تیارنہیں۔ حد یہ ہے کہ بھارت کانام لیتے ہوئے ہمارے حکمران اورسیاستدان شرماتے اور گھبراتے ہیں۔ نہ اپوزیشن بھارت کانام لیتی ہے اورنہ حکومت۔سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کوریاست مدینہ کی طرزپراستوارکرنااوربھارت کی غلامی میں جکڑے کشمیری مسلمانوں کوآزادکروانا ہمارے تمام مسائل کاحقیقی حل ہے ۔اس کے علاوہ باقی جتنے بھی حل ہیں وہ سب عارضی، وقتی اور دھوکہ ہیں ۔اس سلسلے میں علماء کو چاہئے کہ وہ اتحادکی فضاقائم کریں تاکہ لوگوں کویہ کہنے کاموقع نہ ملے کہ بتاؤکس فرقے کا اسلام لائیں۔یادرکھیں!اسلام جب ریاست کے اندر قائم ہوگا تو فرقے خودبخودختم ہوجائیں گے۔اب سوال یہ ہے کہ اگرحکومت اس سلسلے میں غفلت سے کام لیتی ہے اور شریعت کانفاذ نہیں کرتی توپھرہم کیا کریں؟کیا ہم خاموش ہوجائیں؟ نہیں! ہمارا کام خاموش ہونا نہیں اور نہ ہی توڑ پھوڑ کی احتجاجی سیاست ہم نے کرنی ہے،اگرحکومت ان اقدامات میں تاخیر کرتی ہے‘اسلام کاپورا معاشی ڈھانچہ قائم نہیں کرتی، حدود کے شرعی نظام کے قیام میں پس وپیش کرتی ہے ‘بیرونی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوجاتی ہے توپھرہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنی اپنی جگہ اپناکرداراداکریں، عوام کا ذہن بنائیں، اپنی ذات پراللہ کانظام قائم کریں، فواحشات ومنکرات اوراللہ کی نافرمانی سے بچیں، اپنی زندگیاں مدینے والے آقاکے لائے ہوئے نظام کے مطابق بسرکریں، سود چھوڑدیں، حرام کاروبار کے تمام طریقے ختم کردیں۔ زندگی کے ہرمعاملے میں قرآن مجید سے رہنمائی لیں ۔قرآن مجید بول بول کے سود کے سلسلے میں واضح اورکھلی رہنمائی کررہا ہے اور بتا رہاہے کہ سودی کاروباراللہ کے ساتھ جنگ ہے لہذااس کاروبارسے بچیں۔اگرحکومت اس سلسلے میں پس وپیش کرے‘ نظام نہ بدلے توپھر اس کا طریقہ یہ ہے کہ مسلمان عوام اس کو ایک تحریک کے طورپرکھڑا کریں، تحریک کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جلوس نکالے جائیں، ٹائر جلائے جائیں اورشیشے توڑے جائیں۔یہ طریقہ مسلمان کانہیں بلکہ مغرب کادیاہوا ہے۔اسلام کاطریقہ ہے کہ خوداپنے آپ پراپنی ذات پراسلام کو لاگو کریں۔ یہ کہ اللہ نے مجھے دکان دی ہے‘ فیکٹری دی ہے‘میں اپنی دکان پر‘اپنی فیکٹری میں اللہ کے دین کے معاشی نظام کونافذکروں گا۔ دکان اور فیکٹری سود کی رقم سے نہیں چلاؤں گا۔ بات سیدھی سیدھی ہے کہ اگرپاکستان کوواقعی ریاست مدینہ کاماڈل بناناچاہتے ہوتوپھرسود پر قرضے لے کر فیکٹریاں نہ بناؤ۔ سود کے قرضے سے کارخا نے نہ چلاؤ۔بنکوں سے سودی کاروبارنہ کرو۔ سودی قرضے مت لو‘ اللہ تعالیٰ نے جوخالص مال دیاہے‘ اس کو انویسٹ کرو۔ بڑی فیکٹریوں یا کارخانوں کی بجائے چھوٹا کاروبار کرلو۔ بڑی دکان کی بجائے چھوٹی دکان بنالو۔یہ سب کرکے دیکھو۔ صرف حکمرانوں سے ہی مطالبے نہ کروبلکہ اپنی ذات سے عمل کاآغاز کرو۔

جب ہم عمل کایہ سلسلہ اپنے معاشرے میں دعوت کے ساتھ عام کریں،اپنے اللہ سے عہد کرلیں اور سنجیدگی کے ساتھ اس پر عمل شروع کردیں کہ میں ان شاء اللہ سود کا کاروبار نہیں کر وں گا‘بنکوں کے ساتھ سودی لین دین نہیں کروں گا۔اس کے لیے چاہے مجھے کتنی بڑی قربانی بھی دینی پڑے ‘ میں ہرقسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوں لیکن میں اپنے کاروبار کوحلال کی بنیاد پردنیاکے سامنے ایک نمونے کے طورپر پیش کروں گاتب آپ دیکھیں گے کہ آپ کایہ عمل پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کانقطہ آغازہوگااور اللہ آپ کے کاروبارمیں بھی برکت ڈالے گا۔پاکستان کوریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے کاعزم کرنے والویادرکھو! تبدیلی باتوں اوربیانات سے نہیں عمل اورکردارسے آتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کافرمان ہے’’ تم میں سے ہرشخص اپنے گھرکاسربراہ ہے اوراس سے قیامت کے دن اس کی رعیت کے بارے میں پوچھاجائے گا‘‘اللہ کے نبیﷺنے کیاکمال کی بات بتائی اور سمجھائی کہ یہ تمہارے چھوٹے چھوٹے گھر،کسی کا3مرلے کا،کسی کا5 مرلے کا،کسی کاایک کنال اورکسی کااس سے بھی بڑاگھرہے۔کوئی جھونپڑی میں رہتاہے اورکوئی شاندارمحل میں۔ گھرمیںآپ کے بیوی بچے ہیں۔ قریبی عزیزہیں جن کو تم کماکرکھلاتے ہو۔ نبیﷺ نے فرمایا‘ یہ تمہارے گھر‘تمہاری ریاستیں ہیں‘ تمہارے ملک ہیں اور اللہ نے آپ کو ان ملکوں کاسربراہ بنایاہے۔ان چھوٹی چھوٹی ریاستوں اورملکوں میں تمہارے بیوی بچے‘تمہاری رعایا ہیں۔ا ن پر اللہ کاحکم نافذکرو،حلال کھلاؤحرام سے بچاؤ،نمازروزے کاپابندبناؤ۔ان کی نگرانی کرو کہ حرام نہ کھائیں،عیسائیوں کے ذہنی فکری غلام نہ بنیں بلکہ لباس میں‘کھانے پینے میں‘کمانے میں،معیشت ومعاشرت میں۔۔۔۔الغرض ہرچیز میں اللہ کاحکم اپنے چھوٹے سے ملک میں نافذ کردو۔جب تم ایساکروگے تو اللہ تعالیٰ دنیامیں عزتیں،رفعتیں اورکامیابیاں عطافرمائے گااور قیامت کے دن بھی سرخرو کردے گا۔

یہ ہے پاکستان کوریاست مدینہ بنانے کانبوی منہج۔اللہ کے نبیﷺنے اس طریقے سے کام شروع کیاتھا۔شروع شروع میں اللہ کے نبیﷺکے پاس حکومت تونہ تھی،صرف دعوت ہی تھی۔دعوت کے ساتھ تربیت ہو رہی تھی۔اللہ کی شریعت پر عمل اورکردارکی پختگی کا کام ہو رہاتھا اور جب حکومت مل گئی توپھرحدیں نافذ ہورہی تھیں۔چورکاہاتھ کٹ رہاتھا۔مدینے میں جس نے زنا کیا ‘ اسے سنگسار کیاجاتاتھا۔کسی نے قتل کردیاتوقصاص میں اس قاتل کوقتل کیاجارہاتھا۔مدینہ کی ریاست کایہ نظام اورکام کایہ طریقہ کارہے۔ اگر ہم یہ کام کرنے کے لیے تیارہیں توان شاء اللہ اس سے ہمارے نبیﷺ کی عزت و عظمت میں اضافہ ہو گا۔ دنیا مانے گی کہ مسلمانوں کے نبی ﷺصاحبِ کردارہیں اوردنیایہ کہنے پرمجبورہوجائے گی کہ مدینہ والے نبی کی ریاست کانظام دیکھناہو تو پاکستان میں دیکھو۔اگرہم پاکستان میں یہ کام کرلیں تودنیا میں مدینے اور مدینے والے نبیﷺکی عزت، عظمت اورہیبت کا سکّہ بیٹھ جائے گا۔دنیامیں نبیﷺکانام،مقام،احترام تسلیم کر لیا جائے گا۔پھرکسی ظالم بدبخت کوہمارے پیارے نبی ﷺکے خاکے چھاپنے اور توہین آمیزمقابلے کروانے کی ان شاء اللہ جرأت نہیں ہوگی۔آج اگرمغرب کونبی اکرم ﷺ کے توہین آمیزخاکے بنانے کی جرأت ہورہی ہے تواس کے ذمہ دارمسلم حکمران ہیں جوحکومت توہم پرکرتے ہیں لیکن مغرب کے غلام ہیں۔

ہم وزیراعظم عمران خان سے بھی کہناچاہیں گے کہ آپ پراللہ نے بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے ۔اس ذمہ داری سے عہدہ براہونے کے لئے اخلاصِ نیت کے ساتھ عمل اور اللہ سے تعلق بہت ضروری ہے۔اللہ سے تعلق ٹھیک ہوگیاتوساری دنیاآپ کی ہوجائے گی اورپھرکوئی آپ کاکچھ نہیں بگاڑسکے گا۔اللہ تعالی سے رابطہ کرنے کابہترین طریقہ اپنی ذات پراسلام کانفاذاورنظام عدل کاقیام ہے ۔اللہ کے نبیﷺنے فرمایا جن کی سب سے زیادہ دعااللہ کے ہاں قبول ہوتی ہے‘وہ عادل حکمران ہیں جوعدل کانظام قائم کرتے ہیں۔جناب وزیراعظم!آپ بھی عدل کانظام قائم کریں پاکستان کوریاست مدینہ جیسی حقیقی ریاست بنانے کاصدق دل سے عہدکریں اورپھر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاکر دعاکریں۔ یادرکھیں۔۔۔!اللہ کو دھوکہ کوئی نہیں دے سکتا۔ اللہ باتوں سے نہیں عمل سے خوش ہوتاہے اورباعمل انسان کی دعائیں بھی قبول فرماتاہے۔دعاہے اللہ ہم سب کوعمل کی توفیق عطافرمائے۔آمین

مزید : ایڈیشن 1