”تم لوگوں کی نالائقی کے سبب اتنی ہی سیٹیں میں حاصل کر سکا کہ حکومت بنانے کیلئے ’ چھوٹی پارٹیوں اور اسٹیبلشمنٹ پہ انحصار کرنا پڑا“ وزیراعظم نے یہ بات کسے کہی ؟ عمران خان کی قریبی شخصیت کا ایسا انکشاف کہ پورا پاکستان دم بخود رہ گیا

”تم لوگوں کی نالائقی کے سبب اتنی ہی سیٹیں میں حاصل کر سکا کہ حکومت بنانے ...
”تم لوگوں کی نالائقی کے سبب اتنی ہی سیٹیں میں حاصل کر سکا کہ حکومت بنانے کیلئے ’ چھوٹی پارٹیوں اور اسٹیبلشمنٹ پہ انحصار کرنا پڑا“ وزیراعظم نے یہ بات کسے کہی ؟ عمران خان کی قریبی شخصیت کا ایسا انکشاف کہ پورا پاکستان دم بخود رہ گیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی و تجزیہ کار ہارون رشید نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پارٹی وفد سے کہا کہ ” تم لوگو ںکی نالائقی کے باعث اتنی سیٹیں میں حاصل نہیں کر سکا کہ حکومت بنانے کیلئے چھوٹی پارٹیوں اور اسٹبلشمنٹ پر انحصار کرنا پڑا ۔

سینئر صحافی ہارورشید کا اپنے تجزیے میں کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور اختر مینگل اگر اس حکومت کو داغِ مفارقت دینے پر آمادہ ہو جائیں تو وہ گر سکتی ہے۔ سامنے کا سوال مگر یہ ہے کہ اپوزیشن انہیں کیا دے سکتی ہے ؟ بلوچستان کی حکومت میں اختر مینگل کو اگر حصہ ملے تو برائے نام ہوگا۔ صوبے کے وہ وزیراعلیٰ رہ چکے اور ایک بڑے قبیلے کے سردار ہیں۔ صوبائی وزارت سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی۔ تعجب کے ساتھ پوچھا جاتا ہے کہ ایک ایسا وزیراعظم کرپشن کے نام پر’ مخالفین کو دھمکیاں دینے کا کیا حق رکھتا ہے جس کی کابینہ میں فہمیدہ مرزا اور زبیدہ جلال شامل ہیں۔ جس کے اپنے قریبی ساتھیوں کے خلاف نیب تحقیقات کر رہی ہے۔

ہارون رشید کا کہناتھا کہ چھ ہفتے قبل عمران خان نے اس سوال کا جواب اپنی پارٹی کے ایک وفد کو دیا۔ جو کچھ انہوں نے کہا’ اس کا خلاصہ یہ ہے :تم لوگوں کی نالائقی کے سبب اتنی ہی سیٹیں میں حاصل کر سکا کہ حکومت بنانے کیلئے ’ چھوٹی پارٹیوں اور اسٹیبلشمنٹ پہ انحصار کرنا پڑا۔ بحران سے عمران خان نکل گئے اور پختون خوا ایسی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کر سکے جہاں دوسرے الیکشن میں ان کی سیٹیں لگ بھگ دوگنا ہو گئیں۔ دو اڑھائی برس کے بعد وہ وسط مدتی الیکشن کرانا چاہیں گے۔ اپوزیشن اس امکان کو ٹھنڈے پیٹوں قبول نہیں کر سکتی؛ لہٰذا کچھ نہ کچھ تو اسے کرنا ہی ہوگا۔ حکومت اگر مستحکم ہو گئی تو اسٹیبلشمنٹ کے قدرے نرم روّیے کے باوجود’ عمران خان اپنے بعض مخالفین کو جیل میں دیکھنا چاہیں گے۔ 2013ءسے 2018ء کے درمیان پختون خوا میں اپنے کسی سیاسی مخالف کو انہوں نے تنگ نہ کیا۔ اس سے کیا یہ نتیجہ اخذ نہ کرنا چاہیے کہ جذبئہ انتقام سے وہ مغلوب نہ ہوں گے بلکہ احتساب کے لئے اداروں ہی پر انحصار کریں گے۔ دھمکیاں البتہ دیتے رہیں گے کہ آدمی کی افتاد طبع ہی اس کی تقدیر ہوتی ہے۔

مزید : قومی