سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں موقف پھر تبدیل کرلیا

سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں موقف پھر تبدیل کرلیا
سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں موقف پھر تبدیل کرلیا

  

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی نژاد امریکی صحافی جمال خاشقجی کے ترکی میں قتل کے واقعے نے سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات میں بدترین کشیدگی پیدا کردی ہے۔ یہ ترک حکام ہی تھے جنہوں نے شروع سے مﺅقف اپنایا کہ اس قتل میں سعودی عرب کی اعلیٰ ترین شخصیات ملوث دکھائی دیتی ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے پہلے تو مکمل لاعلمی کا اظہار کیا گیا، پھر کہا گیا کہ قونصل خانے میں ہونے والے جھگڑے میں صحافی کی موت ہوئی، پھر یہ مﺅقف سامنے آیا کہ کچھ سکیورٹی اہلکار ذمہ دار ہو سکتے ہیں اور ڈیڑھ درجن افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔ اب اس بارے میں سعودی حکام کی جانب سے ایک اور حیران کن بیان جاری کردیا گیا ہے۔

گلف نیوز کے مطابق سعودی پراسیکیوٹرز کی جانب سے گزشتہ روز جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قتل کیا گیا۔ سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ ”سعودی پبلک پراسیکیوشن کو سعودی ترک جوائنٹ ٹیم کے ذریعے ترک حکام سے معلومات ملی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان نے یہ قتل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا۔“ اس بیان کے بعد یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ اب پہلے والے مﺅقف، یعنی قونصل خانے میں ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں صحافی کی موت ہوئی، کا کیا ہو گا؟

یاد رہے کہ ہائی پروفائل قتل کے اس واقعے کے بعد سعودی عرب نے اپنی انٹیلی جنس سروس کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور گزشتہ روز ولی عہد محمد بن سلمان نے اس سلسلے میں قائم کی گئی کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں بھی شرکت کی۔ دریں اثناءسعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ پرنس ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ میڈیا کی جانب سے ولی عہد محمد بن سلمان پر کئے جانے والے ناجائز حملوں کے باعث وہ سعودی عرب میں پہلے سے بھی زیادہ مقبول ہوگئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ جانشینی میں کوئی تبدیلی ہونے والی ہے وہ غلطی پر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کو دئیے گئے انٹریو میں انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں ولی عہد کی تبدیلی کے متعلق کی جانے والی سب باتیں محض افواہیں ہیں۔

مزید : عرب دنیا