ایک پلیٹ بریانی جس نے پاکستان اور جاپان کے درمیان محبت کی نئی داستان کو جنم دے دیا

ایک پلیٹ بریانی جس نے پاکستان اور جاپان کے درمیان محبت کی نئی داستان کو جنم ...
ایک پلیٹ بریانی جس نے پاکستان اور جاپان کے درمیان محبت کی نئی داستان کو جنم دے دیا

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)اپنے وطن سے ہر کسی کو بہت محبت ہوتی ہے۔ روزی کمانے کے لئے غریب ممالک کے لوگ مجبوراً امیر ممالک کی جانب ضرور ترک وطن کر جاتے ہیں، مگر کسی ترقی یافتہ ملک کے شہری کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنی آسائشوں بھری زندگی چھوڑ کر کسی غریب ملک میں جا بسے؟ ایک ایسی انوکھی مثال جاپانی خاتون رائی میحارا ہیں، جو دو سال قبل اپنے ملک کو چھوڑ کر مستقل طور پر پاکستان میں آن بسی ہیں۔ رائی نے یہ فیصلہ کیوں کیا، یہ ایک انتہائی دلچسپ کہانی ہے جس کا آغاز بریانی کی ایک پلیٹ سے ہوا۔

اخبار ’دی نیوز‘ کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں رائی نے یہ دلچسپ داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ”میرے ذہن میں بھی پاکستان کا وہی تاثر تھا جو دنیا میں عام پایا جاتا ہے، جس میں تشدد اور دشمنی نظر آتی ہے۔ 2011ءمیں جاپان میں سونامی آیااور ہم متاثرہ علاقوں میں جاکر امدادی کارروائیاں کررہے تھے۔ ہمارے ہمسائے میں ایک پاکستانی فیملی رہتی تھی۔ ایک دن انہوں نے میرے دروازے پر دستک دی اور جب میں نے دروازہ کھولا تو ان کے ہاتھ میں بریانی کی پلیٹ تھی اور انہوں نے کہا ’ہم آپ کے ساتھ متاثرہ جگہ پر جانا چاہتے ہیں اور متاثرین کی مدد کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جب 2005ءمیں پاکستان میں زلزلہ آیا تھا تو جاپانی لوگ متاثرین کی مدد کے لئے پہنچے تھے۔‘ تب پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ پاکستانیوں کے بارے میں جو سوچا جاتا ہے وہ ایسے نہیں ہیں۔“

بریانی لے کر آنے والے پاکستانی ہمسایوں کی خوش اخلاقی اور بریانی کے پرلطف ذائقے نے رائی پر کچھ ایسا اثر کیا کہ ان کے دل میں پاکستان جانے کی خواہش پیدا ہو گئی۔وہ 2014ءمیں پہلی بار کراچی آئیں اور اگلے سال پھر ایک چکر لگایا۔ وہ بتاتی ہیں کہ کراچی میں ہیٹ ویو کے باعث انہیں جناح ہسپتال جانا پڑا جہاں ایک آرمی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر نے جاپانی زبان میں اُن سے خیریت دریافت کی اور انہیں تسلی دی کہ وہ بہت جلد صحت یاب ہوجائیں گی۔

جب رائی نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا کہ وہ اتنی اچھی جاپانی زبان کیسے جانتے ہیں تو ڈاکٹر نے بتایا کہ 2011ءمیں وہ بھی قدرتی آفت سے متاثرہ جاپانی لوگوں کی مدد کے لئے جاپان میں فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنے مریضوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے انہوں نے خاص طور پر جاپانی زبان کے کچھ جملے سیکھے تھے۔ رائی کہتی ہیں کہ وہ اس بات سے بہت متاثر ہوئیں کہ کس طرح پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے مریضوں کی دلجوئی کے لئے اُن کی زبان سیکھنے کا فیصلہ کیا۔ اور وہ کہتی ہیں کہ تب ہی انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ پاکستان میں ہی رہیں گی۔

دو سال قبل رائی ٹوکیو سے کراچی منتقل ہوگئیں اور اب اسی شہر میں اُن کا مستقل قیام ہے۔ اُن کا خواب ہے کہ وہ پاکستان میں سہولیات سے محروم لوگوں کے لئے ایک بڑا ہسپتال اور سکول قائم کریں اور یہ خواب پورا کرنے کے لئے وہ دن رات محنت کررہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ”مجھے اپنے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں وقت لگے گا، لیکن یہ میری جانب سے پاکستان کا شکریہ ہے، جس نے مجھے نہ صرف بریانی دی بلکہ ڈھیر ساری محبت او ررہنے کو گھر بھی دیا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی