کیا خواتین کے لئے شادی کے بعد شوہر کا نام ساتھ لگانا ضروری ہے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ جانئے

کیا خواتین کے لئے شادی کے بعد شوہر کا نام ساتھ لگانا ضروری ہے؟ اسلام اس بارے ...
کیا خواتین کے لئے شادی کے بعد شوہر کا نام ساتھ لگانا ضروری ہے؟ اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ جانئے

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)ہمارے ہاں یہ روایت عام پائی جاتی ہے کہ شادی کے بعد لڑکی اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگا لیتی ہے، اگرچہ شادی سے قبل عموماً باپ کا نام اُس کے نام کا حصہ ہوتا ہے۔ اور صرف ہمارے ہاں ہی نہیں، دنیا کے اکثر ممالک میں یہی رواج عام ہے۔

ہر معاملے کی طرح اس معاملے میں بھی کچھ اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے تو یہ مسئلہ شرعی بھی ہے، یعنی شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے کہ شادی کے بعد لڑکی باپ کے نام کی جگہ شوہر کا نام اختیار کرلے۔ علماءکہتے ہیں کہ اسلامی روایت میں بیشتر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی بھی شخص کا نام اس کے والد کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عمر بن خطابؓ، عبداللہ بن عباسؓ، زید بن ارقمؓ، وغیرہ، جبکہ خواتین کے ناموں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

قدیم اسلامی معاشرے کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو پتا چلتا ہے کہ عموماً شادی کے بعد بھی خواتین کے نام کے ساتھ والد کا نام ہی استعمال ہوتا تھا، البتہ زوجہ فلاں کا اضافہ کر کے شوہر کا نام بتایا جاتا تھا۔ یعنی یہ لازمی نہیں تھا کہ خاتون شادی کے بعد اپنا نام تبدیل کرے، مگر یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ اپنا پہلا نام ہی برقرار رکھے۔

اسلام کے ابتدائی زمانے کی یہ روایت کہ خواتین شادی کے بعد بھی اپنے نام کے ساتھ والدکے نام کا استعمال جاری رکھتی تھیں، اس کی بناءپر کچھ علماءنے یہ مﺅقف بھی اختیار کر لیا کہ والد کے نام کی جگہ کوئی اورنام لگانا شرعی طور پر ممنوع ہے کیونکہ شریعت کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنے والد کے نام کی بجائے کسی اور نام کے ساتھ اپنا تعارف کروائے۔

ویب سائٹ ’پڑھ لو‘کے مطابق اس بارے میں اپنی رائے بیان کرتے ہوئے ایک عالم دین کا کہنا تھا کہ ”اگرچہ اسلامی تعلیمات اس بات کو لازمی قرار نہیں دیتیں کہ شادی کے بعد خاتون اپنے شوہر کا نام اختیار کرے یا نہ کرے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام اس کی مخالفت کرتا ہے۔ نام کی تبدیلی کے کچھ فوائد سامنے آئے ہیں جس کے باعث یہ دنیا کے بہت سے ممالک میں روایت بن گئی ہے، اور ہمارے ملک میں بھی۔ اگر کوئی خاتون شوہر کا نام استعمال نہیں کرتی تو اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ ہی یہ کوئی گناہ ہے کیونکہ اس میں اسلامی تعلیمات کی کوئی خلاف ورزی نہیں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -علاقائی -سندھ -کراچی -