ٹوئٹر نے بھارتی دباؤ اور سنسر شپ کے آگے ہتھیار ڈال دیے،10 لاکھ ٹوئٹ ہٹاتے ہوئے کشمیریوں کے 100 اکاؤنٹس بند

ٹوئٹر نے بھارتی دباؤ اور سنسر شپ کے آگے ہتھیار ڈال دیے،10 لاکھ ٹوئٹ ہٹاتے ہوئے ...
ٹوئٹر نے بھارتی دباؤ اور سنسر شپ کے آگے ہتھیار ڈال دیے،10 لاکھ ٹوئٹ ہٹاتے ہوئے کشمیریوں کے 100 اکاؤنٹس بند

  



واشنگٹن (صباح نیوز)کشمیر میں بھارتی مظالم،ٹوئٹر نےبھی بھارت کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے،کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مقبوضہ  وادی  میں جاری بھارتی ریاستی مظالم اجاگر کرنے والے 10 لاکھ ٹوئٹ ہٹا دیے،مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے بعد بھارتی حکومت نے ٹوئٹر پر بھی کریک ڈاؤن کردیا،کشمیریوں کے 100 اکاؤنٹس کو بھی بند کردیا گیا،کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے 4 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں صحافیوں سمیت انسانی حقوق کے کارکن اورسیاستدان بھی شامل ہیں۔

امریکی جریدے نیوز ویک میں صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارت کے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے والے صارفین کے خلاف ٹوئٹر نے بھارتی دباؤ اور سنسر شپ کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔سی پی جے کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران ٹوئٹر پر مقبوضہ کشمیر میں جاری بربریت پرآواز اٹھانے اور بھارت کا ظالمانہ چہرہ دنیا کے سامنے لانے والے صارفین کے تقریبا 10 لاکھ ٹوئٹ ہٹائے دیے گئے جب کہ اس دوران کشمیریوں کے 100 اکاؤنٹس کو بھی بند کردیا گیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2017 کے بعد سے ٹوئٹر نے دنیا میں سب سے زیادہ اکانٹ کشمیر میں بند (بلاک)کیے جو کہ پوری دنیا میں بند کیے گئے اکاؤنٹس کا 51 فیصد ہے۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کے علاوہ ٹوئٹرنے خطے کے دیگرممالک کے صارفین کے اکاؤنٹ بند کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

رپورٹ میں برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رواں سال 5 اگست کو بھارت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد سے 4 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں صحافیوں سمیت انسانی حقوق کے کارکن اورسیاستدان بھی شامل ہیں۔سی پی جے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے بعد بھارتی حکومت نے ٹوئٹر پر بھی کریک ڈاؤن کیا۔اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے آزادی اظہار  ڈیوڈ کے کا کہنا ہے کہ بھارت ٹوئٹرصارفین کواس لیے نشانہ بنارہا ہے کیونکہ ٹوئٹرکشمیری صحافیوں سمیت انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام افراد کے اظہار رائے اور  معلومات کے حصول کیلئے ایک اہم ذریعہ ہے۔واضح رہے کہ ٹوئٹر کی جانب سے کشمیریوں کی حمایت پر متعدد پاکستانیوں کے اکائونٹ بھی بند کیے جاچکے ہیں جب کہ اس حوالے سے کی جانے والی پوسٹوں کو بارہا ٹوئٹر سے ہٹایا جاچکا ہے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...