پنجاب پولیس کا قبلہ کیسے درست ہو گا جرائم پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے

پنجاب پولیس کا قبلہ کیسے درست ہو گا جرائم پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے

  

پنجاب پولیس میں دو سال میں ہونیوالے تبادلوں پر نظر دوڑائی جائے تو پتا چلتا ہے کہ پنجاب کے بڑے اہم اضلاع میں مختلف گروپوں کی مبینہ مداخلت پر تبادلے دھڑادھڑ کئے جاتے رہے ہیں، یہاں تک کے ہر آئی جی پنجاب کی تعیناتی کے بعد ان کے معاملات میں بھی مداخلت کا سلسلہ جاری رہا اور ان کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ کام نہ کرسکیں۔ اعلیٰ افسروں کے اختیارات ہی متعدد افراد اپنے ہاتھ میں لئے بیٹھے ہیں، جس کا بس چلتا ہے وہ اپنی مرضی سے تبادلہ کر الیتا ہے۔ پنجاب میں آئے روز تقرر و تبادلے سے افسر نہ تو ٹاسک حاصل کر سکے ہیں جو بھی افسر کام شروع کرتا تو درمیان میں ہی ادھورا چھوڑنا پڑ جاتا او اس کا تبادلہ ہونے سے دوسرا افسر تعینات ہو جاتا رہا، اسی طرح ڈی ایس پیز، ایس ایچ اوز کی تعیناتیوں تک یہی سلسلہ دو سال سے چل رہا ہے۔حکومت کا دو سال میں صوبہ بھر میں جہاں سو فیصد کام ہونا چاہئے تھا وہاں الٹ ہوتا دیکھائی دیتا رہا، جہاں بیوروکریسی میں اہم عہدوں پر سیکرٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز سمیت دیگر اہم افسروں کی تعیناتی پر 300 سے زائد افسروں کے تبادلے ہوئے ہیں وہاں موجودہ دورِ حکومت میں پنجاب پولیس میں دو سال کے دوران تقریباً سیکٹروں اہم افسر من پسند تقرریاں کراتے رہے اور یہ افسر صرف اپنے چہیتوں کے کام کرتے رہے لیکن جو ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا وہ کام پر کچھ نہ کیا جا سکا، اگر دیکھا جائے تو آئی جی پنجاب ایکشن لیتے ہیں اور بعض جگہوں پر بہترین افسران تعینات کرنا بھی چاہیں تو بہت سے افسر سیاسی پرچی لیکر تبادلہ ہی رکوا لیتے ہیں، جو تبادلے ہوئے یا رکوا لئے جاتے رہے ان میں سی سی پی او لاہور کا تین بار تبادلہ سر فہرست رہا، چار بار ڈی آئی جی آپریشن لاہور، آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے دو سال میں چار چار بار تبادلے کئے گئے جبکہ پنجاب میں اب تک پانچ آئی جی بھی تبدیل کیے جاچکے ہیں۔  

بعض معاملات میں ڈی ایم جی افسران کا بڑا اہم کردار ہے، ایک ٹولہ ہے، جنہیں ہم  ”انتظامی لوٹے“ بھی کہہ سکتے ہیں، جو حکومت آتی ہے یہ سازشی ٹولہ بذریعہ گھٹیا خوشامد اْس کے قریب ہوجاتا ہے، اور پھر اْس حکومت سے اپنے مفاد اور مرضی کے فیصلے کرواتا ہے، جس کے نتائج بعد میں سیاسی حکمرانوں کو بھگتنا پڑتے ہیں، سی سی پی او لا ہور عمر شیخ اس وقت عوام، پولیس اور میڈیا کی جانب سے سخت تنقید کا شکار ہیں۔ شنید تھی کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ شہر میں جتنے بڑے قبضہ گروپس، منشیات فروش اور بااثرمافیا تھا ان کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ پولیس میں پی ٹی آئی مخالف افسران،سفارشی اور نکمے افسران کا صفایا بھی یقینی سمجھا جانے لگا۔ کرپشن میں ملوث،بروقت شہریوں کی داد رسی نہ کرنے،جھوٹ بولنے اور غلط تفتیش کے مرتکب تھانیداروں سے لے کر ڈی ایس پی تک  سخت سزائیں ملنے سے فورس میں ایک سخت کمانڈر کے طور پر ان کا رعب اور دبدبہ بھی سامنے آیا ۔افسرا ن نے زور و شور سے کام بھی شروع کر دیا ۔عوام اور میڈیا نے بھی ان کے اقدامات کو بے حد سراہا، جس رفتار سے عمر شیخ کا گراف بلندیوں کو چھونے لگا۔آخر کیا وجہ ہے کہ ماسوائے ان چند افسران کے جنہیں وہ خود لے کر آئے ہیں باقی کوئی آفیسر آپریشن ہویا انوسٹی گیشن تھانیدار سے لے کر ڈی آئی جی تک، اب ان کے ساتھ کوئی بھی کام کرنے کو تیار نہیں ہے،مقدمے کی مثل پیش ہونی ہو یا کسی آفیسر کی سی سی پی او آفس طلبی کی گئی ہو اطلاع یابی، تھانیدار یا آفیسر کے لیے یہ کسی بڑے حادثے سے کم نہیں سمجھی جاتی، جو افسر وہ خودلیکر آئے ہیں، لاہور میں انھیں تو کوئی بھی تعینات کرنے کو تیار ہی نہیں تھا،افسران بالا اور میڈیا میں سی سی پی او کے بارے میں جو رائے قائم ہو چکی ہے۔وہ حوصلہ افزا ء نہیں، عمر شیخ انوسٹی گیشن امور کے ماہر ضرور ہونگے،لیکن وہ خود کو اچھا”کمانڈر“ثابت نہیں کر سکے۔ کئی ایسے واقعات بھی سرزد ہوئے کہ کمانڈر صاحب معافی مانگتے نظر آئے،غلطی کی معافی مانگ لینا بری بات نہیں اعلی ظرفی ہے،لیکن بار بار معافی مانگنے والے کو ہمارے معاشرے میں اچھا اور سچا تصور نہیں کیا جاتا، آئیے ایک واقعہ کی روداد ملاحظہ فرمائیں۔دہشت گردی مقدمات کی رپورٹ کے حوالے سے لاہور میں عدالت عظمی کے جج جسٹس منظور اے ملک کے پاس میٹنگ جاری تھی جس میں جج صاحبان کے علاوہ،سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی کے سربراہ، ہوم سیکرٹری،آئی جی پولیس،آرپی اوز  اور سی سی پی او لاہور کی شرکت کو لازمی قرار دیا جاتا ہے۔میٹنگ شروع ہونے پر جسٹس صاحب نے پو چھا، سی سی پی او لا ہور نظر نہیں آرہے،آئی جی صاحب کہنے لگے ان کی جگہ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن تشریف فرما ہیں جسٹس صاحب نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ جائیں انھیں ساتھ لے کر آئیں،آئی جی صاحب نے باہر نکل کر سی سی پی او کو فون کر کے فوری پہنچنے کی ہدایت کی،سی سی پی او بلآخرپہنچ گئے اور کہنے لگے سائیں غلطی ہو گئی اے معاف کردو، جسٹس صاحب کو یہ  بات سن کر غصہ آیااور کہنے لگے معافی کو آپ نے اپنی عادت بنا لیا ہے۔زرائع نے دعوی کیا ہے کہ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے سی سی پی او کے میٹنگ میں نہ آنے کی جو وجہ بیان کی جب سی سی پی او سے ان کے آنے پر پو چھا گیا تو حقائق میں تضاد پایا گیا،وہ سی سی پی او کے ساتھ آئی جی پر بھی ناراض ہوئے خیر میٹنگ شروع ہوئی کسی بات پرسی سی پی او سے جواب طلبی کی گئی،زرائع کے مطابق سی سی پی او اس کا بھی جواب نہ دے سکے اورکہا گیا میں تیاری نہیں کر سکا۔ یقینا یہ بات بھی جسٹس صاحب کو ناگوار گزری اور انھوں نے سی سی پی او اور آئی جی صاحب کو خوب کھری کھری سنائیں۔ سوشل میڈیا پر چند روز قبل وائرل ہونیوالی ویڈیومیں سی سی پی او لاہور ایک خاتون کے ساتھ جس طرح گفتگو کرتے پائے گئے, یہ ان کے شایان شان نہیں،پھر سی سی پی او لاہور اور ایس پی سی آئی اے عاصم افتخارکے درمیان سیف سٹی آفس میں سانحہ موٹروے کے ملزم عابد ملہی کی گرفتاری کے متعلق ہونیوالی لفظی گولا باری ، عاصم افتخار سے مراعات واپس لینے اور ان کے تبادلے نے بھی مورال کا بیڑہ غرق کیا۔ ایس پی عاصم افتخار ایک دیانت دار اور اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر تھے۔ ان کی بے عزتی لاہور پولیس بالخصوص انوسٹی گیشن افسران کو ہضم نہیں ہو رہی،بہاولپور میں ڈی آئی جی ملک اشرف اعوان کا واقعہ آج تک ہم بھول نہیں پائے، اپنے اہلکاروں اور گن مینوں کو گالیاں دینا انھوں نے اپنی عادت بنا لیا تھا  نتیجہ کیا نکلاان ہی کے ایک گارڈ نے ان کے رویے سے تنگ آکر ان پر اندھا دھند فائر نگ کرکے انھیں جان سے مارڈالا ا،ادارہ ایک بڑے آفیسر اور بچے باپ کی شفقت سے محروم ہوئے۔

 سی سی پی اولاہور کو چاہئے کہ وہ اپنی تعیناتی کو درست ثابت کرنے کیلئے ان دعووں پر عملی کام شروع کر دیں جن کی وجہ سے ان کو لاہور میں تعینات کیا گیا تھا۔ان کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے عوام میں ان کو خاصی پذیرائی مل رہی تھی جو کہ آہستہ آہستہ ان کی اپنی زبان کی وجہ سے ختم ہوکر رہ گئی ہے۔محکمہ پولیس کیلئے یہ ایک اچھی خبر ہے کہ آئی جی پولیس انعام غنی ایک سمجھدار پولیس آفیسر ہونے کے ساتھ وقت کی نزاقت کو بھانپتے ہوئے حالات پر قابو پالیتے ہیں۔ آئی جی پولیس پنجا ب نے لاہور سمیت دیگر اضلاع میں پیدا ہونیوالے اب تک کئی خراب معاملات کو زاتی دلچسپی لیتے ہوئے سلجھایا بھی ہے جبکہ لاہور پولیس آپریشن ونگ کے سربراہ اشفاق احمد خاں نے اپوزیشن کے جلسے کیلئے بہترین پالیسی مرتب کرکے آئی جی پولیس کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا  انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے حکومت یا اپوزیشن کے رہنما ناراض ہوتے۔آئی جی صاحب کو اپنی ٹیم کو مزید مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے ان کے پاس چند اچھے افسران موجود ہیں لیکن وہ ابھی تک ان کا استعمال نہیں کر رہے۔مثال کے طور پر ان کو فوری طور پر غلام محمود ڈوگر کی خدمات فیلڈ میں حاصل کرنی چاہئیں۔۔ڈی آئی جی وقاص نذیر جیسا زیرک اور پالیسی میکر افسربھی موجود ہے جنہیں فیلڈ میں تعینات نہیں کیا جا رہا حالانکہ انھیں اپنے کامن میں سب سے زیادہ فیلڈ پوسٹنگ کا اعزاز حاصل ہے۔ شارق کمال صدیقی اور سہیل سکھیرا جیسے معاملہ فہم افسر بھی آئی جی صاحب کی ٹیم میں شامل ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ انعام غنی صاحب اب تک ان کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔حکومت پنجاب نے جہاں اتنے افسرا ن کی خدمات وفاق سے حاصل کی ہیں وہاں پر آئی جی صاحب کو چاہئے تھا کہ وفاق سے ڈی آئی جی رانا شہزاد اکبر کو بھی مانگ لیتے اور ان کو چیلنج اضلاع میں فیلڈ پوسٹنگ دے کرمحکمے کے وقار کو مزید بلند کر کے اپنا لوہا منوا سکتے تھے۔ایڈیشنل آئی جی بی اے ناصر جیسے ایمانداراور غیر سیاسی آفیسر کاوفاق میں تبادلہ پنجاب حکومت کے لئے بہتر نہیں، انھیں واپس لانا چاہیے کیونکہ محکمہ پولیس کے پہلے ہی قابل افسران کی کمی رہ گئی ہے جن افسران کو وفاق سے لیا گیا ہے ان میں چند ایسے آفیسرز بھی شامل ہیں کہ وہ خود بھی حیران ہوتے ہیں کہ ہم کامیاب کیسے ہو گئے۔ آئی جی پولیس نے ٹریفک میں ڈی آئی جی عمران محمود،پٹرولنگ میں ڈاکٹر عابد راجہ،ایس پی یو میں راؤ منیر ضیاء او ر گوجرانوالہ میں سرفراز فلکی کو سی پی او لگاکر اپنی ٹیم کو مضبوط ضرور کیا ہے مگر آنے والے دن پنجاب پولیس کے لیے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں ہیں ۔ آئی جی پولیس انعام غنی کو چاہئے کہ وہ لاہور پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز کریں اور معاملات کو خود دیکھیں تاکہ فورس کے اندر جنم لینے والی بددلی کا خاتمہ کیا جاسکے۔اداروں کی اصلاح کے لیے ہم خود کوئی عملی اقدام نہیں کرتے۔ دوسروں کے حق میں ہم بہترین جج اور اپنے حق میں  بہترین وکیل ہیں۔ دوسروں پر ہم جھٹ سے سخت سے سخت فیصلہ سنا دیتے ہیں اور اپنی ہر چھوٹی بڑی غلطی کی ہزاروں تاویلیں، دلائل پیش کرکے اپنا دفاع کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اصلاح آپ کے قول سے نہیں آپ کے عمل سے ہوگی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -